ریل کی پٹڑی اور مشہور شاعر
موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت
لوگ کچھ بھی کہتے ہوں زندگی کے بارے میں
ثروت حسین نے یہ شعر لکھا اور ریل کی پٹڑی پہ لیٹ گیا۔ سبھی کچھ تھا اس کے پاس، نان و نمک واسطے سرکار کی نوکری تھی اور تسکین طبع واسطے شہرت تھی۔ شعر بھی لازوال کہتا تھا۔ خدا جانے کس ذہنی اذیت میں گرفتار تھا کہ ریل کی پٹڑی اسے آخری حل نظر آئی۔
سب کچھ آنس معین کے پاس بھی تھا، لیکن ریل کی پٹڑی اسے بھی نگل گئی۔ کیا زندگی میں سبھی کچھ ہونا کافی ہے؟ سب کچھ کی بہتات بھی تو اکتا دیتی ہے۔ آنس سے ہی پوچھیے جس نے بتایا کہ
Read more
