ریل کی پٹڑی اور مشہور شاعر

موت کے درندے میں اک کشش تو ہے ثروت

لوگ کچھ بھی کہتے ہوں زندگی کے بارے میں

ثروت حسین نے یہ شعر لکھا اور ریل کی پٹڑی پہ لیٹ گیا۔ سبھی کچھ تھا اس کے پاس، نان و نمک واسطے سرکار کی نوکری تھی اور تسکین طبع واسطے شہرت تھی۔ شعر بھی لازوال کہتا تھا۔ خدا جانے کس ذہنی اذیت میں گرفتار تھا کہ ریل کی پٹڑی اسے آخری حل نظر آئی۔

سب کچھ آنس معین کے پاس بھی تھا، لیکن ریل کی پٹڑی اسے بھی نگل گئی۔ کیا زندگی میں سبھی کچھ ہونا کافی ہے؟ سب کچھ کی بہتات بھی تو اکتا دیتی ہے۔ آنس سے ہی پوچھیے جس نے بتایا کہ

Read more

گُڈ مولوی، بیڈ مولوی

جمیعت علمائے اسلام کبھی بھی پاکستان کے لبرل طبقے کی پسندیدہ جماعت نہیں رہی۔ مفتی محمود صاحب کی وفات کے بعد جب سے مولانا فضل الرحمن نے کارزار سیاست میں قدم رکھا، بینظیر سے لے کر نواز شریف اور مشرف سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک، کم و بیش تمام حکومتوں کا وہ ’اٹوٹ انگ‘ ہی رہے ہیں۔ اس سب کے باوجود مولانا کا ذکرِ خیر ہمیشہ کراہت و کڑواہٹ سے ہوتا رہا۔ روشن خیال طبقے کی نظر میں

Read more

عمران خان نے انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ کیوں دیا؟

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیرِاعظم پاکستان کی تقریر کے باقی مندرجات پر تو پاکستانیوں کا ردِعمل ملا جلا رہا لیکن کشمیر کے مسئلہ پر ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے، کپتان کی تقریر کے سب اسیر ہوئے۔ تقریر کے آخری دس منٹ بہت اہم تھے جس میں انہوں نے کشمیر کے مسئلہ پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک شاندار کوشش کی۔ اس تقریر میں عمران خان نے سنہ انیس سو انتالیس کے میونخ کا حوالہ دیا۔

Read more

مفتی صاحب تھوڑا لیٹ ہیں

ہمارے گھر کے بالکل سامنے مرحوم ماسٹر ابراہیم صاحب کا مسکن تھا جس کی بیٹھک میں محلے کے پیر و جواں خوش گپیوں اور بحث مباحثوں کے لیے اکٹھے ہوتے تھے۔ یہ کوئی زاہد۔ خشک کا حجرہ نہیں تھا جہاں سالک۔ علم کو بولنے سے پیشتر کئی دفعہ تولنا پڑے۔ مختلف نقطہ۔ نظر رکھنے والے اصحاب کئی نازک مقامات سے، بغیر کفر کا فتویٰ لگائے، بآسانی گزر جایا کرتے تھے۔ والد صاحب کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب

Read more