آزاد کشمیر میں احمدیوں سے متعلق آئینی ترمیم اور غیر مسلم شہری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خبر ہے کہ احمدیوں ‌کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے آزاد جموں وکشمیر کے عبوری آئین میں ترمیم ہو گئی ہے۔ عبوری آئین میں ترمیم کا یہ مسودہ وزیر قانون راجہ نثار کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔ گزشتہ روز ہونے والے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ راجہ نثار کا تعلق ضلع کوٹلی سے ہے اور آزاد کشمیر کے کوٹلی ضلع میں احمدیوں کی سب سے زیادہ تعداد مقیم ہے۔ شنید ہے کہ ان میں سے کچھ راجہ نثار کے ووٹر و سپورٹر بھی ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی قومی اسمبلی سے بھی پہلے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 1974ء میں ایک قرارداد کے ذریعے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا تاہم آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974ء میں غیر مسلم کی کوئی مفصل تعریف نہیں ہے۔ حالیہ بل کا مقصد پاکستان کے آئین میں مسلم اور غیر مسلم کی جو مفصل تعریف بیان کی گئی ہے اس کو آزاد کشمیر کے عبوری ایکٹ میں شامل کرنا بیان کیا گیا ہے۔

آزاد کشمیر میں کوٹلی کے علاوہ میرپور اور بھمبر میں بھی احمدیوں کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق میرپور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے احمدیوں کو اپنی الگ عبادت گاہ کے لئے زمین الاٹ کر رکھی ہے۔ تاہم انہیں سرکاری طور پر علیحدہ مذہبی شناخت کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی آزاد کشمیر میں مقیم عسیائیوں کو سرکاری سطح پر جداگانہ شناخت ملی ہے۔

عیسائیوں اور احمدیوں کی ریاست میں موجودگی کے باوجود آزاد کشمیر کی جملہ سرکاری دستاویزات میں آزاد کشمیر کی سو فیصد آبادی مسلمان ظاہر کی گئی ہے۔ حالانکہ ایک اندازے کے مطابق آزاد کشمیر میں خفیہ اور اعلانیہ احمدیوں کی تعداد دس ہزار جب کہ عیسائیوں کی تعداد ساڑھے تین سے چار ہزار کے درمیان ہے۔

2011ء کے انتخابات سے قبل جب ووٹر لسٹیں مرتب کی جا رہی تھیں تو راقم نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا تھا کہ کیا آزاد کشمیر میں مقیم عیسائیوں اور احمدیوں کو ووٹر لسٹوں میں شامل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر اس سوال کاکوئی جواب نہیں ملا۔ موضوع کی حساسیت کے پیش نظر میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے علاوہ مظفر آباد سے صحافی دوست بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دے سکے۔ گزشتہ سال ہونے والی مردم شماری کے دوران یہ سوال ایک بار پھر دہرایا مگر کہیں سے جواب نہیں ملا۔ کوٹلی شہر سے ایک احمدی نوجوان نے بتایا کہ مقامی سطح پر احمدی ہونے کی وجہ سے انہیں الگ تھلگ رہنا پڑتا ہے۔ عام کمیونٹی میں گھلنے ملنے اور سماجی تقریبات میں شرکت کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ حتیٰ کے ان کے بچے مقامی سرکاری سکول میں بھی نہیں جا سکتے کیونکہ اقلیت میں ہونے کی وجہ سے وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ گھل مل نہیں سکتے۔ البتہ الیکشن کے دوران تمام سیاسی جماعتیں ان کے پاس پہنچ جاتی ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ کمیونٹی اس بنیاد پر ووٹ دیتی رہی ہے کہ ان کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جائے یا پھر ان کے لئے علیحدہ سرکاری سکول بنایا جائے۔ تاہم الیکشن کے بعد یہ وعدے سبھی کو بھول جاتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے پشتنی باشندے ہونے کی وجہ سے بیشتر احمدیوں کے پاس ریاست کا تسلیم شدہ حق ملکیت موجود ہے تاہم سرکاری دستاویزات جیسا کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ اور سرکاری نوکریاں حاصل کرنے کے لئے وہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ احمدی ظاہر کرنے کی صورت میں ان کے لئے شناختی دستاویزات اور سرکاری نوکریوں کے حصول کے ساتھ ساتھ ان بنیادی حقوق سے محروم ہونا پڑتا ہے جو ریاست کے دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ سرکاری ریکارڈ میں آزاد کشمیر کی سو فیصد آبادی مسلمان ہے اس لئے ریاستی سطح پر غیر مسلموں کے حقوق کو تسلیم کرنے یا فراہم کرنے کے حوالے سے کبھی مکالمہ ہوا اور نہ اس کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اطلاع ہے کہ کوٹلی، بھمبر اور میرپور سے سے متعدد احمدی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر براجمان ہیں تاہم تمام تر دستاویزات میں انہیں مسلمان لکھا گیا ہے۔ حالیہ مردم شماری میں بھی آزاد کشمیر کے احمدیوں کو مسلمان شمار کیا گیا ہے۔

احمدیوں کے علاوہ آزاد کشمیر میں ایک بڑی تعداد عیسائیوں کی ہے۔ سرکاری دفاتر اور بلدیاتی اداروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرنے کے لیے پاکستان کے شہروں سے کئی عیسائیوں خاکروبوں کے خاندانوں کو آزاد کشمیر میں لایا گیا۔ چار ہزار کے لگ بھگ یہ خاکروب مختلف اضلاع میں چھوٹی چھوٹی کالونیوں میں رہتے ہیں۔ چار سو کے لگ بھگ عیسائی خاندانوں میں سے سب سے زیادہ تعداد بھمبر اور میرپور میں ہے جب کہ دوسرے نمبر پر مظفر آباد ہے۔ کوٹلی اور پونچھ سمیت دیگر اضلاع میں بھی ان کی قابل ذکر تعداد موجود ہے۔ بھمبر میں مقیم عیسائیوں میں سے بیشتر 1947 سے قبل وہاں آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ کو مستقل سرکاری نوکریاں ملیں باقی بے روزگار ہیں۔ مظفر آباد اور بھمبر میں چرچ کی تعمیر کے لئے زمین فراہم کی گئی ہے۔ مظفرآباد میں ان کی رہائش کے لئے ایک عارضی کالونی بھی قائم ہوئی تھی تاہم بعد میں اس میں سیلاب متاثرہ مسلمانوں کو آباد کر دیا گیا۔ احمدیوں کی نسبت عیسائیوں کے بچے سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں میں دیگر مسلمان بچوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ سیاسی استحصال کی شکایات موجود ہیں تاہم عیسائی کمیونٹی کی جانب سے مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی شکایت آزاد کشمیر میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

میرپور اور مظفر آباد میں عیسائیوں کے ووٹ درج ہیں جب کہ مظفر آباد میں ووٹ درج نہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے رابطہ کیا مگر مالکانہ حقوق اور اسمبلی میں علیحدہ نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے انتخابی عمل میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ میرپور اور مظفر آباد میں چرچ کے لئے ملی زمین پر پندرہ سے بیس عیسائی خاندان آباد ہیں۔ اس کے علاوہ کسی قسم کی جائیداد خرید سکتے ہیں نہ فروخت کر سکتے ہیں۔ 2005 تک آزاد کشمیر میں کسی بھی جگہ عیسائیوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں تدفین کی اجازت نہیں تھی۔ کسی عیسائی کی وفات کی صورت میں میت آبائی شہر لے جا کر دفن کرنا پڑتی۔ 2005 میں مظفر آباد میں فوت ہونے والی ایک بچی کے میت لے کر سیالکوٹ جانے والی گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس میں عیسائی برادری کے چھ لوگ مارے گئے۔ واقعے کے بعد مقامی کمیونٹی کے احتجاج پر مظفر آباد میں عیسائیوں کو قبرستان کے لئے 2 کنال زمین الاٹ ہوئی۔ باقی شہروں سے ابھی بھی میتیں پاکستان لے جائی جاتی ہیں۔ مظفر آباد میں مقیم ایک عیسائی مذہبی راہنما سونیا ریاست کے مطابق آزاد کشمیر میں مقیم عیسائیوں کے شناختی کارڈ بھی آبائی شہر کے مستقل پتے پر ہی بنتے ہیں البتہ آزاد کشمیر کا عارضی پتہ درج ہوتا ہے۔ قانون باشندہ کے تحت وہ ریاست کے شہری تسلیم نہیں کیے گئے اس لئے انہیں بھی آزاد کشمیر کی کل آبادی میں شمارکیا گیا اور نہ ان کی علیحدہ شناخت تسلیم کی گئی ہے۔ عیسائی کمیونٹی کئی دہائیوں کی کوششوں کے بعد عارضی یا مستقل رہائش کا سرکاری سرٹیفکیٹ یا مالکانہ حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہے۔

احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے آئینی ترمیم کا اتفاق رائے سے منظور ہونا طے تھا کیونکہ کسی بھی سطح پر اس کی مخالفت کا امکان تھا نہ جواز۔ تاہم آئینی طور پر احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد ان غیر مسلم شہریوں کے تمام بنیادی حقوق فراہم کرنے کے لیے بھی قانون سازی ضروری ہے۔ پاکستان سے لائے گئے عیسائیوں کو اگرچہ کشمیر کے صدیوں پرانے قانون باشندہ کے باعث مالکانہ حقوق دینا ممکن نہیں تاہم ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حدود کے اندر رہنے والے تمام افراد کو شناخت اور بنیادی انسانی حقوق فراہم کرے۔ احمدیوں کو غیر مسلم تسلیم کر لینے سے ایک سنگ میل عبور ہو جائے گا مگر اس کے ساتھ ساتھ دوسرا سنگ میل بھی پیش نظر رہے کہ عام شہریوں کی طرح ان کا تحفظ، بچوں کی تعلیم و تربیت، روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور ان کی مذہبی و سیاسی آزادیوں کا تحفظ بھی ریاست کی ہی ذمہ داری ہے۔ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور فراہمی بھی حکومت کے لئے اتنا ہی ضروری ہونا چاہئے جتنا سیاسی جماعتوں کا الیکشن میں ان کا ووٹ حاصل کرنا۔ امید ہے احمدیوں اور عیسائیوں کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی اس طرح کا کوئی بل بھی جلد پیش کریں گے۔ اور اگلی بار سرکاری اعداد و شمار میں غیر مسلم قرار دیے گئے شہریوں کو ان کی جداگانہ شناخت کے ساتھ تسلیم کیا جائے گا۔ بے شک وہ کل آبادی کے ایک فیصد سے بھی کم ہوں۔

مصنف کے بارے میں

جلال الدین مغل کا تعلق ریاست جموں و کشمیر کے علاقے وادی نیلم سے ہے۔ وہ ایک صحافی، محقق، بلاگر، کہانی نگار اور قیام امن کے داعی سماجی کارکن ہیں۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کے سیاسی سماجی، اقتصادی پہلوؤں کے علاوہ کنٹرول لائن پر نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے متعدد مضامین تحریر کیے ہیں۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں