پاکستانی صحافت: معاشی سے زیادہ اخلاقی بحران

پاکستان میں صحافی کی نمایندہ تنظیمیں، اکثر پاکستانی صحافیوں کی معاشی بدحالی پر نوحہ خواں رہتی ہیں، مگر کم ہی کوئی اس اخلاقی بدحالی کا ذکر کرتا ہے، جس نے پاکستانی میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں شامل صحافیوں میں، صحافتی اقدار کی تنزلی کی رفتار روپے کی…

Read more

مرشد واپس آ گئے

جی ہاں وہی مرشد جنہوں نے معذوری کی حالت میں بھی کئی ہفتے ریاست پاکستان کو معذور بنائے رکھا۔مرشد نے جب گستاخان کے خلاف اعلان جہاد کیا تو ان کے ہزاروں نہیں لاکھوں مرید گلی گلی شہر شہر ایسے اگ رہے تھے جیسے بارش کے بعد کھمبیاں۔ گماں ہو رہا تھا کہ یہ خدائی فوجدار کبھی بھی کسی کو بھی کہیں بھی گستاخ اور کافر کہہ کر واصل جہنم کرنے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کریں گے۔مگر جب مرشد اسیر ہو ئے تو مرید ایک ایک کر کے سب کے سب غائب ہو گئے۔

Read more

رہائی مبارک ہو مرشد!

مرشد واپس آ گئے۔ جی ہاں وہی مرشد جنہوں نے معذوری کی حالت میں بھی کئی ہفتے ریاست پاکستان کو معذور بنائے رکھا۔ مرشد نے جب گستاخان کے خلاف اعلان جہاد کیا تو ان کے ہزاروں نہیں، لاکھوں مرید گلی گلی شہر شہر ایسے اگ رہے تھے جیسے بارش کے بعد کھمبیاں۔ گماں ہو رہا…

Read more

انقلاب تحریک انصاف ہی لا سکتی ہے

یقین ہو چلا کہ عمران خان کی تحریک انصاف نے قوم کے ساتھ جس انقلاب کا وعدہ کیا تھا وہ اب آ کے رہے گا۔ اہل عقل و دانش اتفاق کریں گے کہ انقلاب کی آمد کے لیے ساز گار حالات کا ہونا ضروری ہے۔ ورنہ انقلاب لانے کی کوششیں نا کام ہو جاتی ہیں۔…

Read more

او آئی سی میں بھارت کی شرکت: غیرمقبول مگر بولڈ فیصلوں کا وقت

پاکستان کے لیے یقیناً یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا مگر ان حالات میں شاہد کوئی اور چارہ کار بھی نہیں تھا۔ سفارتی سطح یہ ایک توہین آمیز اقدام ہے کہ او آئی سی کی وزرائے خارجہ کونسل میں بھارت کو رکن نہ ہونے باوجود مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا جائے۔ وہ بھی…

Read more

آزاد کشمیر کی قاتل سرکاری کاریں

ابھی دو ہفتے قبل مظفر آباد میں ایک افسر کے لاڈلے نے سرکاری گاڑی کی ٹکر سے بزرگ شہری کو زندگی کی قید سے آزاد کردیا تھا۔ آج ایک اور سرکاری گاڑی نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کہ چہلہ کیمپس کے احاطے میں ایک جواں سال طالبہ کو کچل کر مار ڈالا۔ مقتولہ عفیفہ بی بی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تیسرے سمسٹر کی طالبہ تھی۔ کینسر کی مریضہ تھی مگر اپنے مرض کا انتہائی جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کر رہی تھی اور مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر آج معاشرے کے ناسور کا مقابلہ نہ کر سکی۔

گزشتہ واقعے پر بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس واقعے کو بھی لے دے کر دبا دیا جائے گا۔ بدقسمت والدجوان بچی کو منوں مٹی تلے دبا کر اسے قسمت کا لکھاسمجھ کر اور اللہ کی رضا تسلیم کے کے چپ ہو جائے گا۔ ماں زلزلے میں فوت ہو چکی ہے۔ باپ محکمہ برقیات کا معمولی ملازم ہے۔ بڑے افسروں کے آدم خور مافیا کا مقابلہ کیسے کرے گا۔ آخر کار انہی کی رضا کے سامنے سر تسلیم خم کرلے گا۔

Read more

مظفر آبادیو! اگلی بار عزت بچانے کو چھلانگ کہاں مارو گے؟

میرا بچپن، لڑکپن اور جوانی(جو تھوڑی بہت آئی تھی) مظفر آباد کی گلیوں میں گھومتے پھرتے اور کھیلتے کودتے گزری ہے۔ اس لحاظ سے مظفرآباد سے ایک جذباتی وابستگی اور دلی لگاؤ ہے۔ اگرچہ مظفرآباد میرا آبائی شہر نہیں مگر آبائی ضلع یہی رہا ہے اور گھر سے قریب ترین شہر ہونے کی وجہ سے…

Read more