جماعت اسلامی کے امیر مردان کا نیا بیان: کیا ان کا استقبال حرام ہے؟

اس پر سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور یہ پوسٹ فوراً ہی وائرل ہو گئی۔ جماعت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات جناب امیر العظیم کو اس پر اپنا موقف دینا پڑا کہ ”مشعال خان قتل کیس کے حوالے سے جماعت اسلامی کا موقف واضح ہے۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ میں کھل کر واقعے کی مذمت کی تھی اور قاتلوں کی گرفتاری و سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا اور کسی کو قتل کر دینا درست نہیں ہے۔ آج پیدا ہونے والا ابہام غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ اس واقعے میں گرفتار جن لوگوں کو آج عدالت نے رہا کیا، ان کے استقبال کے لئے والدین، رشتہ دار اور اہل علاقہ جمع ہوئے تھے، جس میں جماعت سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے بعض کارکنان بھی شریک ہوئے“۔
ضلعی امیر ڈاکٹر عطا الرحمان صاحب کا تازہ بیان مندرجہ ذیل ہے:
یہ جو کل مشال کا واقعہ ہوا تھا مردان میں، یونیورسٹی میں، جس پر یہ الزام تھا، لوگوں کا، یونیورسٹی کے لوگوں کا بھی، اور اس کی جو فیس بک آئی ڈی تھی اس پر جو چیٹس تھے اور اس پر جو کنورسیشن تھی اس کو بھی لوگوں نے نکالا تھا اور جو بات چیت ہوتی تھی وہ بھی لوگوں نے بتایا کہ جی یہ جو لڑکا تھا یہ گستاخی کرتا تھا رسول اللہ صلعم کی شان میں اور اس طرح شعائر اسلام کے بارے میں تو اس کا ایک واقعی تھا اور وہ قتل ہو گیا تو معاملہ عدالت میں چلا گیا۔
کئی عرصہ پہلے ہم نے مردان میں متحدہ دینی محاذ کے نام سے تمام دینی جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم بنایا تھا۔ ۔ ۔ یہ مشال کے واقعے سے کئی عرصہ پہلے بنا تھا۔ ۔ ۔ اس کے بعد مشال کا کا واقعہ ہوا۔ جب یہ واقعہ ہوا تو اس میں ایک طرف تو انٹرنیشنل میڈیا نے اور نیشنل میڈیا نے اور عام میڈیا نے یہ اٹھایا کہ بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے اور اس طرف بھی ایک بات ہو رہی تھِا اور جو زیادہ تر تھی میں اس پر بتاؤں گا جو میں نے اس پر ایک موقف دیا۔
اور دوسری طرف ایک بہت بڑی تعداد یہاں مردان کے عوام کی تھی کہ یہ تو گستاخ رسول تھا، اسلام کا مذاق اڑاتا تھا اور اس کے تو ثبوت ہیں۔ تو یہ دو محاذ جب بن رہے تھے تو اس پر ہم نے یہ سوچا کہ ہم نے متحدہ دینی محاذ میں شامل تمام دینی جماعتوں کو اور اس کے علاوہ جو عام سیاسی جماعتیں ہیں ان کو اور وکلا کے نمائندے کو اور تاجروں کو ہم نے اس وقت بلایا۔ اس اجلاس میں میں نے چند ایک نکات تقریر کیے کہ میں کوئی باتیں پہلے بتانا چاہتا ہوں تاکہ ہم اس کے دائرے میں رہ کر اپنا ردعمل دے سکیں۔ اور یہ ریکارڈ پر ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم ماورائے عدالت اور ماورائے قانون کسی بھی فعل کی مذمت کرتے ہیں۔ ماورائے عدالت اور ماورائے قانون کوئی بھِی اقدام نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری بات میں نے یہ کی کہ انسانی لاش کا مثلہ یہ شرعاً بھی حرام ہے ٹھیک نہیں ہے اور انسانیت کے بھِی خلاف ہے۔ تو مثلہ انسانی جانوں کا ٹھیک نہیں ہے۔ ہم اس کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ تیسری بات میں نے یہ کی کہ سپریم کورٹ کو اس پر نوٹس لینا چاہیے اور وہ یہ دیکھیں کہ اس معاملے کے محرکات کیا تھے جرم کی نوعیت کیا تھی اور یہ ساری چیزین دیکھیں اور جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا تو ہم اس سے پہلے اس پر اس طرح تبصرے نہیں کر سکتے کہ فلاں گستاخ رسول تھا یا فلاں شہید ہے یا فلاں یہ ہے۔ یہ جو ہے سپریم کورٹ کو اس پر نوٹس لینا چاہیے لیکن میں نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں یہ نوٹس لگا ہوا تھا ایک ُذمہ دار افسر کے دستخطوں سے۔ اس نوٹس میں یونیورسٹی کے سٹاف اور لیکچررز پر مشتمل ایک کمیٹی بنائِ تھی جس میں کہا تھا کہ مشال خان اور اس کے ایک ساتھی پر توہینن رسالت کا الزام ہے لہذا ہم کمیٹی بناتے ہیں جو اس پر غور کرے۔
تو میرا یہ سوال کیا تھا کہ جب یونیورسٹی نے لوگوں کے سامنے یہ نوٹس لگایا اور اپنی کمیٹی بنائی کہ گستاخی رسول اور توہین رسالت کا الزام ہے تو میرا سوال یہ تھا کہ جب آپ نے لوگوں کے سامنے ایکسپوز کر دیا اور یونیورسٹی نے گویا بتایا کہ اس پر یہ الزام ہے تو آپ نے اس لڑکے اور اس شخص کی حفاظت کے لئے کیا اقدامات کیے تھے۔ تو یہ بھی ذرا ان سے پوچھیں۔ ۔ ۔ ۔
اب کل کا جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر جمعیت علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا امانت شاہ صاحب اور ختم نبوت مردان کے جنرل سیکرٹری مفتی ندیم صاحب اور باقی کچھ احباب نے جب یہ فیصلہ آیا کہ رہا ہو گئے ہیں 26 لوگ تو ہمارے جانے سے کئی گھنٹے پہلے انہوں نے فیس بک پر ایک پریس کانفرنس کی شکل میں کہ انہوں نے لوگوں کو اپیل کی ساڑھے پانچ بجے رشکئی انٹرچینج پر جو لوگ رہا ہو کر آ رہے ہیں ان کے استقبال کے لئے سارے لوگ نکلو۔
مغرب کی اذان سے کچھ پہلے تحریک ختم نبوت کے ذمہ دار نے مجھے فون کیا کہ وہ جو لوگ رہا ہو کر آ رہے ہیں ہم ان کے استقبال کے لئے جا رہے ہیں تو آپ بھِی ہمارے ساتھ ہوں۔ تو میں نے اپنے مردان کے سوشل میڈیا کے ذمہ دار کو فون کیا کہ آپ یہ اطلاع دیں لوگوں کو کہ عدالت نے جن لوگوں کو بری کر دیا اور رہا کر دیا گویا کہ ان کو معصوم قرار دے دیا تو ان کے و الدین اور عام لوگ وہاں جا کر ان کا استقبال کر رہے ہیں تو آپ بھی جماعت اسلامی کے لوگ بھی عدالت سے رہا شدہ لوگوں کے استقبال کے لئے وہاں پہنچیں۔
لیکن یہ تو میں نے اس کو فون پر کہا کہ اس طرح میسیج دے دیں۔ انہوں نے اس میسیج میں کچھ ایسے الفاظ ڈالے ہیں جو میں نے نہیں کہے تھے۔ ۔ ۔ عدالت نے جب رہا کر دیا تو وہ مجرم نہیں ہیں۔ تو میں نے اس کا کہا کہ یہ تو میں نے نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ الفاظ اپنی طرف ڈال لیے یا جو چیزیں جو لوگوں میں چل رہی تھیں وہ ڈال دیں۔
رشکئی انٹرچینج پر میں نے کسی سے کہا کہ مجھ سے پوچھو ذرا میں نے کیا کہا، پشتو میں۔ تو اس نے مجھ سے پوچھا کہ لوگ یہاں آ رہے ہیں اور آپ کس لئے یہاں موجود ہیں۔ تو میں نے کہا کہ میں اس لئے موجود ہوں کہ عدالت نے ان 26 لوگوں کو بری کر دیا اور ان کو رہا کر دیا لہذا عدالت نے ان کو انوسینٹ ڈیکلئیر کر دیا ہے تو اس لئے روڈ پر آ رہے ہیں گھروں کو جا رہے ہیں۔ تو ان کے پیرنٹس کے ساتھ متحدہ دینی محاذ کے ساتھ میں بھی کھڑا ہوں۔ لیکن تقاریر میں جو شروع ہوا تو عام لوگوں کا وہاں پر جذبہ تھا لوگوں کا ایک ری ایکشن تھا وہ تو فیس بک پر چل رہا ہے۔ وہ سب لوگ کہتے تھے کہ یہ گستاخ رسول تھا۔ اور یہ جو لوگ ہیں یہ غازی ہیں اور یہ مجاہد ہیں یہ تقریریں چل رہی تھیں وہاں پر۔
تو تقریر کے دوران انسان کی زبان سے جذباتی ماحول میں کوئی جملہ نکلتا ہے تو مجھے اندازہ نہیں کہ وہ کیا جملہ نکلا ہے لیکن موقف ہمارا یہ ہے جو اس وقت میں ڈیکلئیر کر رہا ہوں کہ ہم گئے تھے جیل سے عدالتی فیصلے کی روشنی میں رہا ہونے والے معصوم اور انیوسینٹ لوگوں کے استقبال کے لئے۔ تو میں یہ پوچھتا ہوں کہ عدالت سے بری ہونے والا کوئی بھی پاکستانی شہری، کیا ان کا استقبال حرام ہے؟ کیا ان کا استقبال ان کو ریسیو کرنا ان کے والدین کے ساتھ کیا ناجائز ہے؟
https://youtu.be/eiuiOnNz7go


