خواتین کا دن کب آئے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن تھا 12فروری1983 کا اور مظاہرہ ہورہا تھا 10 فروری 1979 میں پاس ہونے والے حدود آرڈنینس کے خلاف، تب آگیا جلال حکومت وقت کو، حکم کی تعمیل میں پولیس آگے آگے، سڑک پر لاٹھی چارج، آنسو گیس، نتیجتاً گرفتاری عمل میں آئی تقریباً 50خواتین کی بشمول عاصمہ جہانگیر اور ان کے ساتھ شاعر عوام حبیب جالب بھی پابند سلاسل۔ بھرپور کوریج کی ملکی اور غیر ملکی اخبارات نے اس واقعہ کی، سراہا گیاکاوشوں کو ان نہتے لوگوں کی اور بنی یہ وجہ پاکستان میں ہر سال 12 فروری کو خواتین کاقومی دن منانے کی۔ وہ گروہ کہلاتا تھا مغرب زدہ تب بھی اور آج بھی منسلک کردیا جاتا ہے کسی پراپیگنڈہ سے خواتین کے حقوق پر بات کرنے والوں کو۔ مرحومہ عاصمہ جہانگیر تو مثال ہیں ابھی کی، ان کی موت پر بھی شادیانے بجائے جارہے ہیں بدقسمتی سے ایک گروہ کی طرف سے۔

بدقسمتی سے خواتین کے حقوق پر بات کرنے کی جتنی ضرورت تب تھی آج بھی صورت حال عملی طور پر اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس دن جب تقریباً 250 خواتین نے ایک ایسے قانون کے خلاف آواز اٹھائی جس میں خواتین کے حقوق سلب ہو رہے تھے۔ آج جب خواتین کے حقوق کے لئے قانون بن گئے، حدود آرڈنینس میں بھی ترامیم کردی گئیں، کیا اس دور کی خاتون محفوظ ہے؟

پاکستان میں خواتین کے چار دن منائے جاتے ہیں۔ خواتین کا قومی دن 12 فروری، خواتین کا عالمی دن 8مارچ، دیہی خواتین کا دن 15 اکتوبر اور ملازمت پیشہ خواتین کا دن 10 دسمبر۔ اور ہاں ایک اور 25 نومبر سے 10 دسمبر تک سولہ ”ڈیزے آف ایکٹوازم“ اتنے دن منائے جانے کے باوجود بھی ذہن میں ایک سوال نا جانے کیوں ابھرتا ہے کہ کیا پاکستان میں بھی خواتین کا دن آئے گا؟ یہ مایوسی نہیں لمحہِ فکریہ ہے۔

مجھے یہ فکر کیوں لاحق ہوئی اس کے لئے حقائق پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ پنجاب کے ” خواتین کے خلاف تشددسے تحفظ“ کے قانون 2016 کے مطابق تعریفوں کی شق نمبر 1 کے ذیلی نکتے E میں ڈپنیڈنٹ بچے کی تعریف میں صرف بارہ سال سے کم عمر بچے (میل چائلڈ) کا ذکر کیا گیاہے۔ جب کے پورے قانون میں کسی بھی جگہ پر بچی (فی میل چائلڈ) کا ذکر موجود نہیں۔ اسی قانون کے تحت پنجاب بھر میں ضلعی کمیٹیاں بنائی جانیں تھیں مگر تاحال تمام اضلاع میں کمیٹیاں نہیں بنائی جاسکیں۔ قانون کے مطابق مرحلہ وار کمیٹیاں بنائی جانی تھی تو بھی حکومت اس ذمہ داری سے عہدہ براہ نہیں ہوسکتی کہ ان مراحل کی تفصیلات سے عوام کو اچھی طرح آگاہ ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق حکومت مذکورہ قانون کی تشہیر کے لئے بھی ذمہ دار ہے۔

افسوس کے عورت کی قیمت ایک سستی روٹی کے برابر بھی نا سمجھی گئی اور اس قانون کی تشہیر سستی روٹی سے بھی کم ہوئی۔ اسی قانون کے مطابق ڈسٹرکٹ وویمن پروٹیکشن آفیسر بھی تعینات ہونی ہے۔ قانون کے مطابق یہ ضلعی کمیٹی کی ممبر ہوں گی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے کسی ممبر کو معاوضہ نہیں ملے گا۔ خواتین کے تحفظ کے لئے نئے سینٹرز بنانے کا اس قانون میں جگہ جگہ ذکر کیا گیا ہے جب کہ ایک بھی شق پرانے سسٹم کو فعال بنانے کے لئے نہیں۔ یعنی نئے وسائل کا ضیاع پرانے منصوبے کے تحت ہوگا۔ جنسی ہراسانی کے خلاف قانون 2010 میں بنا مگر آج تک اس پرمکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ابھی پچھلے دنوں پنجاب اسمبلی میں جہیز کی حوصلہ شکنی کے لئے ایک بل پیش کیا گیا ہے جو منظور نہیں ہوسکا۔ ایسے رویے رکھنے والے پارلیمنٹرین سے حقوق کے تحفظ کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے۔

خواتین کے دن منانے کی اس وقت تک کوئی تُک نہیں بنتی جب تک ہمارے پولیس اہلکار ایک عادی مجرم کو پکڑ کر عدالت میں لے جانے پر داد طلب کریں گے کہ ہم نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا جو ” اسی طرح ” کے کئی واقعات میں پہلے بھی گرفتار کیا جاچکا ہے۔ یہ داد طلب کرنے کامقام ہے یا ڈوب مرنے کا۔ جب تک ہمارے حکمران اتنے حساس نہیں ہوجاتے کہ انہیں سمجھ آسکے کہ زنابالجبر کا شکار ہو کر قتل ہوجانے والی بچی کے باپ کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے اپنی کامیابی کے گن گانا اس باپ کے لئے کتنا اذیت ناک ہوسکتا ہے۔ حکام بالا کو یہ بات کب سمجھ آئے گی کہ ایسے پولیس افسران اور پوری مشینری کو سزا ملنی چاہیے یا تحسین، جو عادی مجرموں کو گرفتار کرکے داد طلب کرتے ہیں۔

سول سوسائٹی بھی قانون بنانے تک ہی بہت زور دیتی ہے۔ قانون بننے کے بعد اس پر عمل درآمد کی طرف سوائے چند اداروں کے کسی کا دھیان نہیں۔ جب مشاورتی اجلاس ہوتے ہیں حکومتی اداروں کی طرف سے عملدرآمد میں رکاوٹوں کو بیان کیا جاتا ہے تو بہت ضروری ہے کہ ان سے یہ پوچھا جائے کہ پچھلے سال جن رکاوٹوں پر بات کی گئی تھی ان کا کیا حل کِیا گیا ہے۔ پچھلے سال کی منعقدہ تقریبات میں پاس ہونے والی قراردادوں میں سے کتنے نکات کو حل کروایا گیا۔

سو، میرے خیال میں دن ضرور منائے جانے چاہئیں تاکہ مقصد کی اہمیت کا بار بار احساس ہوتا رہے۔ مگر انہیں تقریبات، اجلاس اور سیمنارز کا موقع سمجھ کر نہیں بلکہ تجدید عہد کے لئے منایا جائے۔ اگر ہر سال دن منایا جائے تو یہ ضرور دیکھا جائے کہ پچھلے سال ہم کہاں کھڑے تھے۔ ہماری وجہ سے پچھلے سال کی نسبت حالات میں کیا بہتری آئی۔ اب ہم کہاں کھڑے ہیں اور اگلے سال اس وقت تک کون سے مقاصد حاصل کرنے ہیں۔ اب ہمیں خود کو مسائل کو سنجیدگی سے لے کر چلنے کا عادی کرنا ہوگا اور کوشش کرنا ہوگی کہ راستے میں آنے والی مشکلات کا حل نکال کر ہر قدم منزل کی طرف اٹھانا ہوگا تاکہ آنے والے کسی 12 فروری کو ہم فخر سے کہہ سکیں کہ آج ”پاکستانی خواتین کا دن ” منایا جارہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں