منصف لومڑی نے چالاک گدھے کے ساتھ انصاف کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صاحبو یہ کہانی ہے ایک ایسی لومڑی کی جسے شیر نے منصف بنا کر اس سے ایسا انصاف کروایا جس کے نتیجے میں طاقت کا طالب ایک چالاک گدھا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

روایت ہے کہ ایک دن ایک چالاک گدھے نے سوچا کہ میں اتنا زیادہ طاقتور ہوں، لیکن جنگل کے جانور کیوں میرا مقام نہیں پہچانتے، اور ذرا خوف نہیں کھاتے۔ اس کی وجہ پر اس نے غور کیا تو یہی سمجھ آیا کہ جو جانور گوشت کھاتے ہیں، ان سے دوسرے جانور ڈرتے ہیں اور گھاس کھانے والوں کو چریا سمجھتے ہیں۔ اس چالاک گدھے نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے وہ گوشت کھایا کرے گا۔ لیکن گوشت ملے گا کیسے؟ نہ اس کے پنجے ایسے تیز تھے کہ شکار کو چیر پھاڑ ڈالتا اور نہ دانت ایسے نوکیلے کہ شکار کو گردن سے پکڑ لیتا۔

گدھے نے ایک منصوبہ بنایا اور ایک لومڑی کو اس بات پر قائل کیا کہ اگر گدھا اور لومڑی شیر کو اپنے ساتھ مل کر شکار کرنے پر آمادہ کر لیں تو لومڑی اور گدھے کو آرام سے گوشت مل جائے گا اور شیر کو بھی شکار کرنے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑا کرے گی۔ لومڑی کو منصوبہ پسند آیا اور اس نے اپنی چرب زبانی سے شیر کو اس بات پر قائل کر لیا کہ گدھے کے ساتھ مل کر جنگل کے دوسرے جانوروں کا شکار کرتے ہیں اور سب اپنا اپنا حصہ بانٹ لیں گے۔

لومڑی نے شکار کی حکمت عملی تیار کی۔ گدھا شکار کو تلاش کرے گا اور جب اسے کوئی موٹا تازہ شکار نظر آ جائے گا تو وہ اس کے قریب جا کر اسے باتوں میں الجھا لے گا اور اسے اپنا دوست بنا لے گا۔ گھاس کھانے والے گدھے سے شکار خطرہ محسوس نہیں کرے گا اور اپنے گرد و پیش سے غافل ہو کر اس سے باتیں کرنے لگے گا۔

گدھے کی آوازیں سن کر شیر اور لومڑی سمجھ جائیں گے کہ شکار مل گیا ہے۔ اس کے بعد شیر ایک طرف چھپ جائے گا اور لومڑی چکر کاٹ کر اس کے مخالف سمت سے شکار پر حملہ کر دے گی۔ شکار ڈر کر ادھر بھاگے گا جدھر شیر چھپا ہوا ہو گا اور یوں شیر بغیر کسی بھاگ دوڑ کے اسے مار ڈالے گا۔

منصوبہ کامیاب ہو گیا اور ایک بیل کو شکار کر لیا گیا۔ شیر، لومڑی اور گدھا اس کے گرد جمع ہو گئے۔ شیر نے چالاک گدھے کو حکم دیا کہ وہ انصاف سے کام لیتے ہوئے گوشت کی تقسیم کرے۔ گدھے کو بہت خوشی ہوئی کہ شیر اب اس کا اس حد تک دوست بن گیا ہے کہ اس نازک معاملے کے لئے بھی اس کا انتخاب کیا ہے۔ اس نے نہایت محنت سے گوشت کے تین برابر حصے کیے اور ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ”اب سب دوست اپنے حصے کے گوشت کو کھانا شروع کر سکتے ہیں“۔

شیر کو یہ تقسیم پسند نہیں آئی۔ وہ ناراضگی سے بولا ”کیا تم دونوں کو واقعی یہ یقین ہے کہ یہ ایک منصفانہ تقسیم ہے اور ہر ایک کو وہی حصہ ملا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟ کیا یہ چالاک گدھا یہ سمجھتا ہے کہ ایک جانور سے لچھے دار باتیں کرنا اور اسے مار ڈالنا ایک جیسے کام ہیں؟ “ یہ کہہ کر شیر غرایا اور ایک تھپڑ سے ہی گدھے کو مار ڈالا۔ اس نے گدھے کو بھی بیل کے گوشت پر ڈالا اور لومڑی کو حکم دیا ”اب تم گوشت کی منصفانہ تقسیم کرو اور خبردار، انصاف کرتے ہوئے ڈرنا مت بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ دینا“۔

لومڑی نے دو ڈھیر بنائے۔ ایک طرف بیل اور گدھے کا سارا گوشت ڈالا اور دوسری طرف صرف گدھے کی زبان رکھی۔ اس کے بعد کہنے لگی کہ آپ نے شکار مارا ہے اس لئے بیل کا سارا گوشت آپ کا حق ہے۔ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں اس لئے گدھے کے سارے گوشت پر بھی آپ کا حق ہے۔ میرا حق صرف گدھے کی زبان پر بنتا ہے کیونکہ اسی زبان کی وجہ سے وہ یہ ڈیل کر بیٹھا تھا اور اپنا مقدمہ اس طرح ہار گیا“۔

شیر نے دونوں حصوں کو غور سے دیکھا اور اسے لومڑی کا فیصلہ بہت پسند آیا۔ ”تم نے واقعی انصاف کیا ہے۔ میں تمہارے انصاف سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ تمہاری دانشمندی اور معاملہ فہمی میں کلام نہیں۔ تم نے ایسا انصاف کرنا کیسے سیکھا؟ “

لومڑی نے جواب دیا ”عالی جاہ۔ گدھے کا انجام دیکھ کر بھی ایسا انصاف نہیں ہو گا تو پھر کیسا ہو گا؟ “ یہ کہہ کر اس نے چالاک گدھے کی زبان کے ساتھ انصاف کرنا شروع کیا اور اپنے حصے سے اپنے پیٹ کی آگ بجھائی۔

صاحبو۔ یہ حکایت ڈھائی ہزار سال پرانی ہندوستانی حکایات کے مجموعے پنچ تنتر کی ہے۔ ایسی ہی ایک حکایت ڈھائی ہزار سال پہلے ایسوپ نامی شخص یونان میں بھی کہہ گزرا ہے۔ تعجب ہے کہ ڈھائی تین ہزار سال پہلے بھی فسانہ طراز لوگ یہ الزام لگاتے تھے کہ مقدمے میں شیر کا مفاد ہو تو لومڑی اسی کی مرضی کا انصاف کرتی ہے اور چالاک گدھے مارے جاتے ہیں۔ اور یہ کہ جو شیر کے ساتھ مل کر اپنے دوست کا شکار کرتے ہیں وہ ایک دن خود بھی شیر کا شکار بن جاتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1194 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar