پاکستان دہشت گردی کی مالی معاونت میں سہولت کار قرار دیے جانے سے بچ گیا: خواجہ آصف


وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک ٹویٹ کے ذریعے قوم کو اطلاع دی ہے کہ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF کا اجلاس پاکستان کے بارے مین کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔ چنانچہ طے پایا ہے پاکستان کو مزید تین ماہ کے لئے مہلت دی جائے گی۔

واضھ رہے کہ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATF کے چھ روزہ اجلاس میں پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت میں سہولت کار کے طور پر واچ لسٹ میں شامل کرنے کی امریکی تجویز پر غور کیا جا رہا تھا۔ پاکستان نے یہ خبر سامنے آنے کے بعد متعدد دارالحکومتوں میں ایلچی روانہ کئے اور صدر ممنون حسین نے ایک خصوصی آرڈی ننس کے ذریعے پاکستان میں بھی ان تمام تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا حکم جاری کیا جنہیں اقوام متحدہ دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرچکی ہے۔ اس آرڈی ننس کے تحت نشانہ بننے والی خاص طور سے حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت نامی تنظیمیں شامل ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس آرڈی ننس کے بعد ان سب تنظیموں کے مراکز اور وسائل کو اپنے کنٹرول میں لینے کے کام کا آغاز کر دیا تھا۔ سفارتی اور صحافتی حلقوں میں تاثر تھا کہ حکومت نے یہ اچانک اور سخت اقدام ایف اے ٹی ایف FATF میں امریکی قرارداد کو ناکام بنانے کے نقطہ نظر سے کیا ہے۔

تاہم اب وزیر کارجی نے قوم کے نام ایک ٹویٹ مین بتایا ہے کہ امریکی تجویز ناکام ہو گئی ہے۔ اجلاس کے شرکا مین اس تجویز پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ چناچہ پاکستان وقتی طور پر ایسے کسی اقدام کے سرمایہ کاری اور معاشی معاملات پر منفی اثرات سے بچ گیا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اس کامیابی میں ساتھ دینے پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

Facebook Comments HS