فرشتہ نہیں آیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت دنوں کے بعد ایسی کتاب آئی ہے، نئے معنوں میں کہانی کی کتاب۔ ناصر عباس نیّر کے افسانوں کا مجموعہ ’’فرشتہ نہیں آیا‘‘ اپنے ساتھ ایک نوید لے کر آیا ہے، اچھے افسانوں کی نوید۔ افسانے کا امکان، اور تازگی بھری توقّع۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اچھے افسانوں کے دن لوٹ آنے کو ہیں، افسانے کے اچھے دن۔ ورنہ ایسی خوش خبری سننے کے لیے کان ترس گئے تھے۔

یہ افسانے نئے راستے تو کھولتے ہیں مگر پرانے راستوں کو بھی ایک نیا موڑ دیتے ہیں۔ تھوڑا سا ذکر اس بات کا بھی ہو جائے کہ یہ پچھلا عرصہ افسانے کے لیے اچھا نہیں گزرا۔ افسانے کیا اچھے کیا برے کم ہونے لگے تھے۔ جو پہلے سے لکھتے آئے تھے ان میں سے کچھ نے لکھنا کم کر دیا کچھ نے زندگی سے کہانی کا ناتہ توڑ لیا۔ پھر نئے لکھنے بھی کم کم سامنے آئے۔ افسانے کا وہ حال ہوگیا کہ

گھستے گھستے چار بیسے کی دوّنی رہ گئی

بس یہ غنیمت ہوا کہ توقّع نہیں اٹھی۔ ادھر بہت عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد افسانے کی کئی قابل ذکر کتابیں سامنے آئی ہیں۔ اس کتاب کے ساتھ ساتھ جو کتابیں سامنے آئی ہیں، ان کا بھی کچھ احوال معلوم ہونا چاہیے کہ اندازہ ہوسکے یہ افسانے کیسی فضا میں سامنے آئے ہیں۔ چند ایک کتابوں کا ذکر یہاں مناسب ہوگا۔ علی اکبر ناطق نے افسانے کے ساتھ شاعری میں شناخت بنائی اور اُن کے پہلے مجموعے ’’قائم دین‘‘ نے افسانے کی ٹہری فضا میں جیسے ہلچل مچا دی، جس طرح بند پانی کے تالاب میں کنکری گرنے سے ہوتا ہے۔ مگر اس سے یوں نہیں ہوا کہ اس افسانہ نگار نے اپنی تخلیقی انتہا حاصل کرلی۔ ان کی نئی کتاب ’’شاہ محمد کا ٹانگہ‘‘ سامنے آئی ہے ان کے افسانے نئی توقّعات قائم کرتے ہیں۔ عرفان احمد عرفی کا مجموعہ مختصر ہے اور ان کے پہلے مجموعے کے مقابلے میں ہلکا معلوم ہوا۔ لیکن پہلی کتاب میں وہ موضوع اور تکنیک دونوں میں ایسی جدّت پیدا کر چکے ہیں کہ اس کا اثر دیر تک زائل نہیں ہوسکے گا۔ پہلے مجموعے میں زیادہ مدّت کا کام تھا اس لیے کئی کہانیاں گہرا تاثر چھوڑتی تھیں۔ اس مجموعے میں عرصۂ فن مختصر ہے مگر افسانہ نگار تازہ دم ہے اور پڑھنے والوں کو مایوس نہیں کرتا۔ اصغر ندیم سیّد کا مجموعہ ایک خوش گوار حیرت کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔ اسی طرح اخلاق احمد کو روز مرہ کے دیکھے بھالے، جانے پہچانے معاملات کو یک دم نامانوس بنانے کا ہُنر آتا ہے جو کہانی کے حق میں جاتا ہے۔

یہ تخلیقی اضطراب محض دوچار کتابوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر رجحان ہے۔ اس بات کا اندازہ ’’سویرا‘‘ جیسے موقر ادبی رسالے کے حالیہ شمارے سے لگایا جاسکتا ہے جو اس رجحان ساز رسالے کی طویل ادبی زندگی میں شائع ہونے والا پہلا افسانہ نمبر ہے، اور نئے پرانے اتنے بہت سارے نام سامنے لے کر آیا ہے کہ افسانے کے قلب میں نئی دھڑکن محسوس کی جاسکتا ہے۔

ان رسالوں، کتابوں کے پس منظر میں ناصر کا یہ مجموعہ بدلتی ہوئی اس فضا کا نمائندہ بھی ہے اور اس فضا کے بدلنے میں پوری طرح شامل بھی۔ ناصر عباس نیر کے افسانوں کا ایک مجموعہ اس سے پہلے شائع ہو چکا ہے اور وہ اس میدان میں نو وارد ہر گز نہیں کہے جا سکتے۔ لیکن یہ نئی کتاب اُن کی افسانہ نگاری کی ایک نئی منزل ہے۔ اس سے پہلے کہ میں ان افسانوں کے بطن میں اترنے اور ان کی معنویت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے، ایک مشکل کا اعتراف بھی لازمی ہے۔ ان افسانوں کے راستے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ افسانہ نگار کی اپنی تنقید ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جو اس کتاب سے پہلے اس بارے میں نہیں جانتا تھا، اسے کتاب کے ختم ہوتے ہوتے تک شُبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ لکھنے والا تخلیق سے پہلے تنقیدی عمل میں کس قدر فعال اور مستعد رہا ہے۔ اس اعتبار سے یہ فکشن کی لازمی شرط کو پورا کرتے ہیں اور fictionality یا افسانویت کا اہتمام اس خوبی کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہی سچ معلوم ہوتا ہے۔

بہرحال یہ ایک نقاد کے افسانے ہیں۔ لیکن اس سے میری مراد یہ نہیں کہ اس طرح کی شتر گُربگی کا شکار ہیں جیسے ہمارے ایک بڑے معروف نقاد کی شاعری جس میں زمین پر پائوں مارنے کی دھمک تو بہت ہے مگر گھنگھرو کی چھنک برائے نام۔ ان افسانوں میں ایسا معاملہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ خدشہ ننگی تلوار کی طرح سر پر تنا رہتا ہے کہ جزئیات بڑھ کر تجزیہ نہ بن جائیں اور افسانے میں انشائیہ یا اس سے بھی بڑھ کر مقالہ نمودار ہونے لگے۔ مگر ان افسانوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ تنقید یہاں تخلیق کے تابع ہو کر افسانے کی فکری صلابت میں اضافہ کرتی ہے، اس کو بیچ راستے میں ٹوک نہیں دیتی۔

یہ کتاب اس طرح اردو افسانے کے لیے بھی نئی ہے اور تنقید کے لیے بھی۔ اس پر مجھے ایک اور نقاد یاد آیا مگر اسے نقاد لکھوں یا افسانہ نگار؟ وقت گزرنے کے ساتھ بیسویں صدی کے جن چند لکھنے والوں کی وقعت اور معنویت فزوں تر ہوتی جارہی ہے، ان میں جرمن ادیب والٹر بن یامن نمایاں ہے۔ میں یہ بھی بتادوں کہ میرے انتہائی پسندیدہ نقادوں میں شامل ہے۔ حال ہی میں اس کے افسانوں کا انگریزی میں ترجمہ ہوا تو جیسے دنیا کے سامنے اس کا ایک نیا پہلو آشکار ہوا۔ اس کتاب کے افسانوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے کہ ان میں دریافت کا ایک احساس ازحود شامل ہوتا جاتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مصنّف نے اس کے لیے بظاہر کوئی اہتمام نہیں کیا۔

اس حقیقت سے مفر نہیں کہ ناصر عباس نیر نے شہرت نقاد کی حیثیت سے کمائی، پھر اس شہرت کو جلو میں لے کر افسانے کے میدان میں اُترے۔ اچھا، پھر وہ نقاد بھی معمولی درجے کے نہیں ہیں۔ یعنی بقول شخصے، تنقید میں تیسرے درجے کے مسافر نہیں ہیں، انھوں نے مابعد نو آبادیاتی مطالعے پر اصرار کرکے اور اس کا فکری جواز پیش کرنے کے ذریعے سے اردو تنقید میں ایک نئے براعظم کی اطلاع فراہم کی ہے، وہ براعظم جو سمندر سے ابھر آیا تھا مگر ہماری تنقید اس سے بالعموم بے خبر تھی۔ انھوں نے گویا نئے پرانے ادب کو پڑھنے کا نیا زاویہ فراہم کیا۔

یہاں تک تو بات ٹھیک تھی۔ لیکن اگر نقاد افسانہ نگار بھی ہو بلکہ افسانہ نگار نقاد بھی ہو تو پڑھنے والے یہ ضرور کھوج لگانے میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ خود انھوں نے جس طرح کے ادب پاروں کی تعریف کی تھی، اپنے تخلیقی عمل میں ان سے کتنے فاصلے پر رہے اور جو اصول وضع کیے تھے، ان کا اطلاق ان فن پاروں پر کس حد تک کیا جاسکتا ہے۔ یہ معاملہ ٹیڑھی کھیر ہے۔ پڑھنے والے کو اس احساس سے بجلی کے تار والا جھٹکا لگ سکتا ہے جب کوئی سوچے کہ افسانے میں انہدام کی بات زور و شور سے کرنے والے شمس الرحمٰن فاروقی، خود افسانے لکھتے وقت اور بھی زیادہ روایت پرست ہو جاتے ہیں۔ پڑھنے والا سوچتا رہ جاتا ہے اپنے ہی اصولوں سے یہ انحراف کیسے ممکن ہوا۔ اسی طرح محمد حمید شاہد نے معاصر اردو افسانے کے بہت باریک بینی سے تجزیے رقم کیے ہیں۔ صورت و معنی کے جو پیکر انھوں نے معاصر اردو افسانے میں تلاش کیے ہیں، ان کے اپنے افسانے اس کی کیا صورت سامنے لے کر آتے ہیں؟ مگر بہرحال افسانے حمید شاہد کے ہوں یا ناصر عباس نیّر کے، تخلیق کا جادو جب جاگتا ہے تو تنقید پیچھے رہ جاتی ہے۔

نقاد ناصر عباس نیّر کو نوآبادیاتی دور میں قائم کردہ بیانیے سے جو الجھن تھی اور اس کو پیچھے چھوڑ کر ایک ایسی وضع کی خواہش جو بہت پرانی بھی ہو اور بالکل نئی بھی، یہ اسلوب ان افسانوں میں ہاتھ آگیا ہے۔ وہ پرانی باتوں میں مآخذ تلاش کرتے ہیں، پرانی داستانیں اور قصّے جو نوآبادیاتی خیالات کی پورش میں بے کار اور بے مصرف قرار پاتے تھے لیکن جب ان میں ہم عصری تلازمے تلاش کر لیتے ہیں تو بالکل نئے ہو جاتے ہیں۔ اس لیے یہ افسانے اپنے موضوع کے انتخاب سے بھی حیران کرتے ہیں، اپنے اسلوبِ بیان سے بھی اور اس بیان کے لیے اختیار کردہ تکنیک سے بھی حیران سے زیادہ سیراب کرتے ہیں۔ اس کے بعد نقاد پیچھے رہ جاتا ہے اور افسانہ نگار سرشاری کے عالم میں آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔

یہ اندازہ لگانے کے لیے بہت دور کی مسافت طے کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب جس افسانے سے شروع ہوتی ہے، اسی کیفیت میں کُھلتی ہے اور چند جملوں سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ بدلی ہوئی کیفیت ہے:

’’وہ حیران ہوتا ہے کہ جن باتوں کو اس نے کئی بار بس سرسری سُنا ہے، وہ کیسے اتنی وضاحت اور اتنی شدّت سے اسے اب یاد آنے لگی تھیں۔ کئی رخنے تھے، جو روزنوں اور دریچوں میں بدلنے لگے تھے۔ لیکن اس نے ایک نئی بات دریافت کی تھی۔ اس پر کُھلا کہ انہی باتوں کے طفیل اس کا اپنے باپ سے ایک نیا تعلق قائم ہورہا ہے جو باپ اور بیٹے کے تعلّق سے سوا ہے۔۔۔‘‘

’’ایک پل کے لیے وہ تذبذب اور مایوسی کے ملے جلے جذبات کی زدپر آیا۔ ایک لمحے کے لیے تو اسے لگا جیسے وہ عمارت دھڑام سے گر پڑی ہے جس کا طلسماتی خیال اسے اتنی دور تک کھینچ لایا تھا۔ اس کا دل بجھ سا گیا کہ وہ سب اس کے تجسس کے مقابلے میں معمولی تھا۔ وہ سامنے کی حقیقت کے معمولی پن کے روبرو تھا۔ اسے لگا کہ ایک عام سی حقیقت کا معمولی پن اس وقت غیرمعمولی طاقت حاصل کر لیتا ہے جب وہ اس دنیا کے عین سامنے ظاہر ہوتا ہے جسے آدمی کا پُرتجسّس تخیّل پیدا کرتا ہے۔ اس نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کا تجسس صرف ایک بند دنیا کو جاننے کی ہے تابند آرزو سے کہیں سوا تھا۔۔۔‘‘

متن کی اس ادھوری جھلک سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ افسانہ کس کیفیت سے پھوٹا ہے۔ اسلوب کا پیرایہ، نفسِ مضمون سے اخذ کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی ماجرا ہی اس کی تکنیک کو متعیّن کرتا ہے۔ یہ مختلف عناصر ایک فطری ہے ساختگی کے ساتھ ایک دوسرے سے آمیختہ ہیں اور کوئی بھی چیز مسلّط کی گئی یا ٹھونسی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور نہ زبردستی طاری کی ہوئی۔ پورا افسانہ ایک ایسے فطری بہائو کے ساتھ آگے بڑھتا ہے کہ تمام بیان اس غیرمعمولی صورت حال کو اجاگر کرتا چلا جاتا ہے۔ فاضل افسانہ نگار نے یہ انداز کم و بیش تمام افسانوں میں برقرار رکھا ہے، اور اس طرح یہ اس مجموعے کو ایک مُنفرد حیثیت عطا کردیتا ہے۔

یہاں موضوع کو اسلوب سے جُدا کرکے دیکھنا ایسے ہوگا جیسے گوشت سے ناخن الگ کرنا۔ اور اس طرح کہانی کا موڑ گرفت میں آنے سے رہ جاتا ہے۔ باپ، بیٹے اور صندوق کے مثلّث سے ایک لحظے کے لیے عبداللہ حسین کے ’’نشیب‘‘ سےوہ افسانہ یاد آتے آگے رہ جاتا ہے جہاں بیٹا اپنے باپ کی ناقابل فہم اور اچانک موت کو ایک اسرار کی طرح اپنے ساتھ لیے چل رہا ہے۔ کہیں کہیں انتظار حسین کا ’’دہلیز‘‘ یاد آتا ہے لیکن یہ افسانہ اپنی روایت کی اس میراث میں پیوست ہونے کے باوجود ان پیش روئوں سے مختلف ہے۔اسی طرح وہ افسانہ جس سے کتاب نے اپنا نام حاصل کیا ہے، موضوع کے اعتبار سے احمد ندیم قاسمی کے ’’کنجری‘‘ اور ’’بین‘‘ کے قریب سے نمودار ہوتا ہے۔ مگر افسانہ محض موضوع نہیں۔ کرداروں کے ساتھ ہم دردانہ برتائو تو بہت سے افسانوں میں مل جاتا ہے بلکہ بہت سے افسانوں کو یک رُخا بنا دیتا ہے مگریاں اس کے بجائے پورا بیان کردار کی داخلیت کے آس پاس سے اٹھا ہے اور اس کا پابند ہوئے بغیر، ساری دنیا کو اس نظر سے دیکھ رہا ہے۔ اس لیے جب وہ مکروہ صورت کسان اس کھوئی ہوئی لڑکی کے ساتھ دراز دستی کرتا ہے تو صدمے کا احساس شدید تر ہوتا ہے۔ جیسے اس کی بے ساختہ معصومیت بری طرح violate ہوئی ہے، یہاں تک کہ لڑکی کے ہاتھوں کسان کا خون بے جواز نہیں معلوم ہوتا۔ پھر دل کانپ کر رہ جاتا ہے کہ اتنی بڑی واردات ہوگئی، فرشتہ نہیں آیا۔ یہ اس پوری کائنات کی ناکامی ہے جو اس لڑکی کے بھٹکتے ہوئے ذہن کے سامنے ناکام ہوگئی ہے کہ آخر تک آتے آتے افسانہ اس impact سے لرز اٹھتا ہے۔ پورا افسانہ کائنات کی اس ناکامی کا نوحہ بن جاتا ہے جہاں فرشتے نہیں اُترتے اور انسان بے رحم مطلب پرست بن کر رہ گیا ہے۔ اس غائب اور ناموجود فرشتے کے احساس سے لرزاں افسانے پر مجھے رلکے کے نوحے یاد آنے لگتے ہیں جہاں فرشتے آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔ رلکے کی دُنیا حزن اور افسردگی سے عبارت ہے اور میں سوچنے لگتا ہوں۔ قتل، غارت گری اور تشّدد کی فضا میں جس سے ہمارا زمانہ عبارت ہے، فرشتوں کا بھلا کیا کام۔ وہ آئیں بھی تو کیسے؟

کہانی کی واردات کو اس کے انوکھے پن کے ساتھ بیان کرنے کا یہی انداز اس افسانے میں بھی نمایاں ہے جس کا نام خود ایک افسانہ ہے__ ہوسکتا ہے یہ خط آپ کے نام لکھا گیا ہو۔ آپ کو پہلے سے معلوم ہو جاتا ہے اس کے باوجود آپ افسانہ پڑھتے چلے جاتے ہیں کہ شاید اس طرح شُبہ یقین میں بدل جائے۔

’’وہ کچھ کچھ خود سے جھگڑتے محسوس ہوتے تھے، ایک کانٹے کو ہستی کے ان نازک مقامات پر چُبھتا محسوس کرتے تھے جہاں زخم گہرا لگتا ہے اور بھرتا بھی نہیں۔ میں ان کے اندر کی کھدبد کو ایک ناقابلِ برداشت دہشت تک پہنچانا چاہتا تھا۔۔۔‘‘

اس پر مجھے خالدہ حسین کا افسانہ ’’ڈیڈ لیٹر‘‘ یاد آتا ہے جو ان کے بعض بڑے افسانوں کے سامنے دب سا گیا ہے۔ یہاں اس فضا میں خوف بھی زیادہ ہے اور توسیع بھی۔

تکنیک اور بیان کی بے حد کامیاب آمیزش ان مختصر حکایات میں نظر آتی ہے جو مجموعے میں شامل ہیں۔ یہ فیصلہ نقاد کریں کہ کون سی حکایات جدید اور کون سی مابعد جدید۔ یا پھر دونوں ملی جلی ہیں۔ یہ عنوان قائم کرکے ناصر عباس نیّر نے نقادوں کو مصروف رکھنے کا اہتمام ضرور کیا ہے۔ آخر کو ان کی ہم دردیاں اس فرقے کے ساتھ ہیں۔

نقاد کا دل رکھنے کی اس کوشش کے باوجود یہ حکایات ایک نئے تخلیقی تجربے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اصطلاحات کی کسی بھی عینک سے دیکھیے، یہ تنقیدی تھیوری کے تابع نہیں ہیں بلکہ ایسے تجربے اور مشاہدات پر مبنی ہیں جن کے معنی پہلے سے متعیّن نہیں ہیں اور ان حکایتوں کے مطالعے سے منکشف ہوتے ہیں۔ہر حکایت ایک پورا دفتر سمیٹے ہوئے ہے اور اپنی تفصیل کے لیے پورے ناول کی طلب گارمعلوم ہوتی ہے، ایسا ناول جو اس حکایت میں مُضمر ہے۔ یعنی جوکہا نہیں گیا وہ بھی عالمِ وجود میں ممکن نظر آتا ہے۔

افسانہ ’’نیا حکم نامہ‘‘ اس اعلان کے ساتھ شروع ہوتا ہے:

’’شہر کے حاکم نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ حکم نامے میں لکھا ہے کہ آج سے ہر شخص صرف وہی بات لکھے اور کہے گا جو سامنے کی ٹھوس حقیقت کو بیان کرتی ہو۔ تمام ذو معنی اور مُبہم الفاظ کے استعمال پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔۔۔‘‘

کہانی کا انجام آقا اور رعایا کے ہولناک رشتے کے لیے ایک نئے نام کی تلاش پرپہنچ جاتا ہے۔ ’’کچھ خاص لوگوں تک اڑتی اڑتی خبر پہنچی کہ قاضی نے مقدمے کا فیصلہ لکھنے کے ساتھ ساتھ حاکم شہر کو لکھ بھیجا کہ اسے بتایا جائے کہ اسے لوگ حاکم، آقا، حکم ران، بادشاہ، سلطان، شہنشاہ، ظل الٰہی، ظل سہحانی، جہاں پناہ جیسے کئی لفظوں سے پکارتے ہیں۔ اسے کس ایک لفظ سے پکارا جائے، نیز لوگوں کو رعایا، مخلوق، محکوم، غلام، فدویان میں سے کس لفظ سے آئندہ لکھا اور پکارا جائے۔ قاضی نے یہ بھی لکھا تھا کہ اسے راہ نمائی دی جائے کہ حاکم و محکوم کے لیے ایک ایک لفظ کے مقرّر ہونے کے بعد کیا محکموں کو آدمی کی نوع میں شمار کیا جائے گا یا نہیں۔۔۔‘‘ شاید اس کے لیے کوئی لفظ مل چکا ہے اور وہ ہمارے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔ بس ایک ناقابل بیان حوف کی شدّت سے ہم یہ نام لینے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں نام لینے سے ہم ٹوٹ کر نہ رہ جائیں، شیشے میں بال نہ پڑ جائے۔ افسانے نے یہ لفظ، یہ نام ہمارے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

فرشتہ نہیں آیا، نہ سہی۔ افسانہ تو ہوگیا ہے۔

اور یہ واقعہ بڑی مدّت کے بعد پیش آیا ہے۔ آئیے، ہم بھی اُن لوگوں میں شامل ہوجائیں جن تک اڑتی اڑتی خبر پہنچ چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •