بے اولاد جوڑا، آرٹی فیشیل ان سیمینیشن اور شاہ بابا کا مزار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھیں آرٹی فیشیل ان سی می نیشن دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک آرٹی فیشیل ان سی می نیشن شوہر کے ذریعے یا آرٹی فیشیل ان سی می شین کسی ڈونر کے ذریعے۔ میں اس کی اور وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے ان دونوں کو غور سے دیکھتے ہوئے سمجھانے والے انداز سے کہا۔

دیکھیں مسئلہ یہ ہے اگر شوہرمیں خرابی ہو یعنی شوہر کے جرثُومے بہت کم ہوں یا بالکل نا ہوں تو ان طریقوں سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگر شوہر کے جرثومے یعنی اسپرم اگر کم ہیں تو ہم لوگ ان جرثوموں کو جمع کرلیتے ہیں۔ جمع کرنے کے بعد انہیں لیبارٹری میں اس قابل کیا جاتا ہے کہ وہ زیادہ اچھی طریقے سے عمل کرسکیں۔ اس عمل سے گزارنے کے بعد ایک بہت ہی پتلی سی نالی کے ذریعے مہینے کے بارہویں تیرہویں دن ان تمام جرثوموں کو بچہ دانی میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس طرح سے اُمید کی جاتی ہے کہ حمل ٹھہرجائے۔

ایک صورت یہ ہوتی ہے کہ شوہر ویسے تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں مگر ان میں جرثومے ہوتے ہی نہیں ہیں اس حالت میں یہ کیا جاتا ہے کہ کسی ایسے آدمی کے جرثومے جو بالکل ٹھیک ہیں انہیں عورت کے بچہ دانی میں ٹیوب کے ذریعے ڈال دیا جاتا ہے اور عورت کاحمل ٹھہر سکتا ہے۔

یہ کہہ کر میں رکا ہی تھا کہ اس نے ہاتھ اُٹھا کر کہا کہ اس طرح سے ہمارا مسئلہ تو نہیں حل ہوسکتا ہے۔

واجد اور ان کی بیوی سلمیٰ میرے زیرِ علاج تھے ان کی شادی کو سات سال ہوچکے تھے مگر ابھی تک ان کا کوئی بچہ نہیں ہوا تھا۔ شادی ماں باپ کی مرضی سے ہوئی تھی۔ دونوں ہی کھاتے پیتے گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے نا بہت زیادہ امیر اور نا ہی غریب زندگی صحیح طریقے سے گزر رہی تھی۔ کمی تھی تو صرف بچے کی کمی تھی۔

شادی کے پہلے دو سال تو گزر گئے کسی نے بھی کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی سوائے اس کے گھر میں آنے والی رشتہ دار خواتین، ماسیاں اوپرکا کام کرنے والی نوکرانیوں کو تشویش رہتی تھی کہ سلمیٰ کب حمل سے ہوں گی، مگر وقت گزرتا چلا گیا تھا۔

دو سال کے بعد نانی نے ایک تعویز بنوا کر لا دیا جو سلمیٰ کو ہر وقت پہننا تھا۔ سلمیٰ نے بھی تعویز اپنے بائیں بازوں پر بڑے اُمید سے باندھ لی مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر نانی جان کی ہی مرضی سے سلمیٰ چار نمبر ناظم آباد میں پانی والے بابا کے پاس گئیں تھیں۔ جب چھ آٹھ مہینے تعویز اور پانی کے بھی گزر گئے تو سلمیٰ کی ماں اور خالہ نے ان کا ہومیوپیتھی علاج شروع کرایا تھا۔

ہومیو پیتھی کے ڈاکٹرصاحب نے بڑے تفصیل سے ان کی باتیں سنی تھیں۔ کاغذ پربہت دیر تک کچھ لکھتے رہے۔ پھر فیصلہ کیا تھا کہ سلمیٰ کو ایک خاص قسم کی دوا چار سے چھ مہینے تک کھانی پڑے گی۔ ان کی باتوں میں اتنا یقین تھا اور ان کا انداز اتنا پر دلیل تھا کہ سلمیٰ، سلمیٰ کی ماں اور خالہ کو پورا یقین ہوگیا کہ اب سلمیٰ ضرور حمل سے ہوجائیں گی۔

ہر مہینے سلمیٰ کی تاریخ بدلتی گئی اور دس دن کے چڑھتے ہی یہ خیال ہوجاتا کہ وہ حمل سے ہوگئیں ہیں مگر مہینے کے آتے ہی جیسے گھر میں ایک سناٹا سا لگ جاتا۔ نہ اس کا کھانے کو دل کرتا نہ پینے کی خواہش ہوتی۔ اندر سے ایسی مایوسی کا حملہ ہوتا کہ اس کا دل کرتا کہ بس وہ خود کشی کرلے ایسی زندگی کا فائدہ بھی کیا ہے جو وہ ماں تک نہیں بن سکتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا بھی تھا کہ ایسا ہوگا اور اگر تین دفعہ ایسا ہوجائے تو پھر ان کے پاس آنے کی ضرورت ہے۔

سلمیٰ اپنی خالہ کے ساتھ دوبارہ ان کے پاس گئی تھیں۔ انہوں نے غور سے پھر سب کچھ سنا۔ بڑے توجہ سے اسے دیکھا پھر خوش خبری دی کہ سلمیٰ تین دفعہ حمل سے رہ چکی ہیں مگر ہر دفعہ حمل ضائع ہوگیا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ دانی کے منہ میں خرابی ہے۔ انہوں نے ایک اور دوا تجویز کی تھی جوذرا مہنگی تھی۔ مگر اس دوا کا مقصد بچہ دانی کی منہ کو ذرا مضبوط کرنا تھا تاکہ ہونے والے حمل کو روکا جا سکے۔

اس روز وہ لوگ خوش خوش گھر آئے تھے۔ یہ بات ہی خوشی کی تھی کہ سلمیٰ حمل سے ہوچکی تھیں۔ ان میں بنیادی خرابی نہیں تھی۔ سلمیٰ نے چھ مہینے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ دوائیں کھائیں مگر کوئی بھی نتیجہ نہیں نکلا۔ یہ ضرور ہوا تھا کہ ان کی تاریخیں بڑھتی ہی چلی گئی تھیں۔

بیچ میں دو دفعہ وہ ڈاکٹر صاحب سے بھی ملی تھیں لیکن انہوں نے یہی کہا تھا کہ دواؤں کا استعمال جاری رکھیں ایک نہ ایک دن بچہ ضرور ہوگا۔

ایک دن جب سلمیٰ کی سہیلی انجم ان سے ملنے آئیں تو انہو ں نے سلمیٰ کی امی کو آمادہ کرلیا کہ سلمیٰ کو ڈاکٹر ناز کو دکھانا چاہیے۔ ڈاکٹر ناز ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھیں۔ صبح شام ان کا دواخانہ کھلتا تھا۔ مریضوں کی لائن لگی رہتی تھی۔ وہ صرف عورتوں اور بچوں کا علاج کرتی تھیں۔

ڈاکٹر ناز نے انہیں دیکھتے ہی کہہ دیا تھا کہ سلمیٰ تو بہت کمزور ہے۔ خون کی شدید کمی ہے۔ ایسی حالت میں تو حمل ٹھہرتا ہی نہیں ہے اور اگر ٹھہر بھی گیا تو چلنے والا نہیں ہے۔

اسی وقت سلمیٰ کو ایک لال رنگ کی بوتل چڑھائی گئی تھی جوکہ روزانہ ان کے دواخانے میں ہی لگتی تھی۔ سات بوتلوں کے بعد ڈاکٹر ناز نے سلمیٰ کو کچھ وٹامین اور کلومی فین نام کی دوا لکھ دی اورکہا کہ ماہواری کے فوراً بعد ہی اس دوا کو کھائیں۔ پھر دیکھیں تماشا اللہ نے چاہا تو ایک نہیں دو دو تین تین جڑواں بچے پیدا ہوجائیں گے۔ خاندان ایک ہی حمل میں پورا ہوجائے گا، اسے بڑی امید سی ہوگئی تھی کہ اگر جڑواں ہوجائیں تو کیا بات ہے۔ سارے مسئلے ختم۔ اوپر والے کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اس نے سوچا تھا اور کئی دنوں تک سوچتی رہی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *