رات کالی ہوگئی، چاندنی (سری دیوی) نہ رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

70 کی دہائی میں ہیما مالنی نے ہندی سنیما میں خواتین کو ملنے والے کرداروں کو ایک نئے انداز، ایک نئی جہت سے روشناس کیا۔ ہیما ملانی نے غمزدہ، روتی دھوتی، جذبات سے لبریز دھیمے دھیمے یا ہلکے پھلکے مزاحیہ کرداروں کی بجائے پر اعتماد، نئے زمانے سے میل کھاتی شوخ و چنچل اور حالات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرنے والی عورت کو پردہ سیمیں پر پیش کیا۔ سیتا اور گیتا، شعلے، جگنو وغیرہ میں ہیما مالنی نے بہترین کردار نبھائے۔ ریکھا اسی رستے پر چلتے ہوئے کافی کامیاب ہوئیں۔ جھوٹی، خوبصورت، مسٹر نٹور لعل میں ریکھا خوب جچیں۔ لیکن 80 کی دہائی میں مزاح و جذبات کے ملاپ سے کرداروں کو نِت نئے رنگ دینے میں سری دیوی جس درجہِ کمال کو پہنچیں وہ بے مثال ہے۔

ہمیں آج بھی وہ دن یاد ہے جب انیل کپور کی مسٹر انڈیا وی سی آر پر دیکھی تھی۔ گھڑی کا بٹن دبا کر انیل تو سکرین سے غائب ہوجاتے لیکن سکرین کو کونے کونے سے سری دیوی بھر دیتی تھیں۔ ہوا ہوائی گیت ہو، یا جوا خانہ میں چارلی چپلن فائٹ سین؛ ہر منظر میں مس انڈیا چھائی ہوئیں تھیں۔ چاندنی کے روپ میں ہوش اڑا دینے والے کردار قسمت والوں کو ملتے ہیں، اور سری دیوی جیسے اداکار ہی اِن کا حق ادا کرسکتے ہیں۔ ”ہمت والا“ کا گیت ”نینوں میں سپنا، سپنوں میں سجنا“ بھول جانے والی تخلیق تو نہیں، جس پر رقص کی وجہ سے انھیں ”تھنڈر تھائز“ کا خطاب دیا گیا۔ ”جانباز“ میں فیروز خان کے مقابل بمشکل دس سے پندرہ منٹ کی مہمان اداکارہ کے طور پر جلوہ گر ہو کر ایسا ایکٹ کیا کہ فلم ختم ہونے پر ہم بھول گئے کہ فلم کی مرکزی اداکارہ تو ڈمپل کپاڈیہ تھیں۔ ”تحفہ“ میں جیا پرادھا کی چھوٹی بہن کا کردار ناقابلِ فراموش تھا جس میں ایک ہی فلم میں انتہائی شوخ و چنچل سے بےانتہا دکھوں کی ماری کا کردار نبھایا۔

سری دیوی اسی کی دہائی کے شروع میں جیتندر کے ساتھ جوڑی بنا کر کامیابیاں سمیٹتی رہیں۔ پھر متھن چکرورتھی و راجیش کھنہ کے ساتھ بھی سپر ہٹ فلمیں بنائیں جیسے وقت کی آواز، مقصد، گرو، ماسٹر جی وغیرہ۔ ایک طرف دھرمیندر کے ساتھ ناکہ بندی میں نظر آئیں تو دوسری طرف سلطنت میں سنی دیول کے ساتھ۔ اسی طرح امیتابھ بچن کے ساتھ ”آخری راستہ“ اور شاہ رخ خان کے ساتھ ”آرمی“ میں کردار نبھائے۔

سری دیوی نے ”انگلش ونگلش“ اور ”مام“ کے نام سے دو خوبصورت فلمیں پروڈیوس بھی کیں اور ان میں ایک مضبوط اور حالات کے ساتھ بھڑ جانے والی خواتین کا کردار بھی ادا کیا۔
سری دیوی نے تین سو سے زائد فلموں میں لاجواب کردار ادا کیے، جو کہ ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ ہم یہاں اپنی پسند کی پانچ فلموں کا خاص طور پر ذکر کریں گے۔

1۔ سن 1986 میں بننے والی فلم ”نگینہ“ جس میں سری دیوی نے ایک اِچھا دھاری ناگن کا کردار ادا کیا۔ یہ ناگن انتقام کی غرض سے رشی کپور کی حویلی آتی ہے۔ لیکن پھر اس کی محبت میں اچھا دھاری ناگن کی انمول طاقتوں کو چھوڑ کر ایک عام انسان بن جاتی ہے۔ یہ سن 86 کی بلاک بسٹر فلم تھی۔ ہمارے خیال میں ناگ ناگن کے موضوع پر بننے والی فلموں میں یہ بہترین فلم ہے۔ اس فلم میں جاندار اداکاری اور بہترین رقص کے باعث سری دیوی نے انمٹ نقش ثبت کیے۔

2۔ سن 1989 میں بننے والی فلم ”چالباز“ جس میں سری دیوی نے دو جڑواں بہنوں انجو اور منجو کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم ہیما مالنی کی ”سیتا اور گیتا“ کی کاپی تھی۔ لیکن ہمارے خیال میں اس نقل یا چربہ فلم میں بھی سری دیوی نے اپنا حق ادا کیا۔ انجو کے روپ میں ڈری سہمی اور منجو کے روپ میں پراعتماد، ہنستی، ناچتی گاتی اور جی بھر کر جھوٹ بولنے والی۔ ایسے ایکسپریشنز کے دیکھنے والا دانتوں تلے انگلیاں دبالے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس فلم نے ہنسایا بھی اور رلایا بھی۔ اس پرفارمنس پر فلم فئیر ایوارڈ بھی لے اڑیں۔

3۔ 1991 میں سری دیوی نے یش چوپڑہ کی ہدایتکاری میں ”لمحے“ میں لازوال کردار ادا کیا۔ فلم باکس آفس پہ سپر ہٹ تو نہیں لیکن ناقدین اسے ہندوستانی کی بہترین فلم گردانتے ہیں۔ خود سے اٹھارہ، بیس برس بڑی عمر کے بندے سے پیار کرنے والی لڑکی کے اس روپ نے سری دیوی کو اک اور فلم فئیر ایوارڈ سے نوازا۔

4۔ ”چاندنی“ یش چوپڑہ کی وہ فلم ہے جس نے شاید سورج برجاتیہ کو ہمت دی ہوگی کہ وہ ”ہم آپ کے ہیں کون“ بنائیں۔ اداکاری کیا ہوتی ہے، سری دیوی کتنی عمدہ اداکارہ ہیں۔ اور گھریلو تقریبات کے کندھوں پر ایک مضبوط کہانی کے تانے بانے کیسے بنے جاتے ہیں۔ ان سب کا جواب ہے ”چاندنی“۔

5۔ آپ شاید اس سے اختلاف رکھتے ہوں لیکن ہم 1984 کی ”صدمہ“ کو سری دیوی کی بہترین فلم مانتا ہیں۔ ایک کار ایکسیڈینٹ میں سر پر چوٹ لگنے کے باعث یاداشت کھودیتی ہے اور دوسرے وہ چھ سالہ بچی کی طرح برتاؤ کرنا شروع کردیتی ہے۔ حالات کی ماری یہ نیم پاگل لڑکی کمل ہاسن کو ملتی ہے جو اسے زمانے کی گندی نظروں سے بچاتا ہے، لیکن خود اس کی محبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ ”صدمہ“ کو ہم نا صرف سری دیوی بلکہ کمل ہاسن یا انڈین انڈسٹری کی چند بہترین فلموں میں گردانتے ہیں۔

“شری اما ینگر ایاپن“ کے نام سے 1963 میں جنم لینے والی شری یا سری دیوی 80 کی دہائی میں بالخصوص اور 90 کی دہائی میں بالعموم لاکھوں دلوں (بشمول ہمارے) کی دھڑکن بنیں۔ اعلیٰ درجے کی اداکاری ہو یا بہترین قسم کا رقص سری دیوی کا اپنے دور میں کوئی ثانی نہیں تھا۔ اور جس انداز سے وہ اپنے فن کے جلوے بکھیر گئیں ہیں آج 25 فروری 2018 کو ان کے اس جہانِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد بھی بمشکل ہی ان کی جگہ لے سکے گا۔ بے شک آج رات کالی ہوگئی، چاندنی نہیں رہی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •