پاک فوج کے افسر نے یکے بعد دیگرے افریقہ کی دو بلند ترین چوٹیاں سر کر لیں
پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والے میجر سید سمیر اظہر گردیزی نے اپنی نوعیت کی منفرد کوشش میں افریقہ کی دو سب سے اونچی چوٹیوں کو یکے بعد دیگر سر کر لیا۔ ماؤنٹ کلیمنجارو (5895 میٹر) اور ماؤنٹ کینیا (4985 میٹر)، مشرقی افریقہ کے پڑوسی ممالک تنزانیہ اور کینیا میں واقع ہیں۔ Io یہ بات قابل ذکر ہے کہ میجر سید سمیر اظہر کے اس کارنامے سے صرف دس روز قبل آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر جنید یوسف زئی براعظم افریقہ کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کلیمنجارو (5895 میٹر) سر کرنے کی کوشش میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
کیلمنجارو نیشنل پارک اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق میجر سید سمیر اظہر گردیزی گیارہ فروری کو مقامی وقت کے مطابق صبح دس بچے چوٹی پر پہنچے۔ میجر سمیر ان دنوں افریقہ میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
ماؤنٹ کلیمنجارو مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ میں واقع ہے۔ اس کی بلندی 5895 میٹر ہے۔ افریقہ کی سب سے بلند چوٹی ہونے کے علاوہ چونکہ یہ کسی باقاعدہ پہاڑی سلسلے کا حصہ نہیں، چنانچہ کلیمنجارو کا شمار دنیا کے سب سے اونچے علیحدہ پہاڑ کے طور پر بھی ہوتا ہے۔ کیلمنجارو بارانی جنگلات، سرسبز و شاداب حصوں، سرد صحرا اور برفانی چوٹی جیسے متنوع علاقے پر مشتمل ہے۔
میجر سید سمیر اظہر گردیزی مشکل اور خوبصورت مچامی روٹ کے ذریعےچار راتوں کے سفر کے بعد اھورو (آزادی) پیک پر پہنچے اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔
میجر سمیر 12 فروری کو اپنی سالگرہ کے دن نمنگا بارڈر کراسنگ پر تنزانیہ سے کینیا میں داخل ہوئے اور پندرہ گھنٹے کے سفر کے بعد ماؤنٹ کینیا کے قریبی قصبے ننیکی پہنچے جو دارالحکومت نیروبی سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
ماؤنٹ کینیا پر سفر کا آغاز اگلے دن سمرن گیٹ سے ہوا۔ پندرہ فروری کی صبح مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے چھ بجے پاکستانی پرچم پوانٹ لینانا (4895) پر کینیا کے جھنڈے اور پہاڑ کی چوٹی پر موجود بائبل کے پاس لہرا دیا گیا۔



