احمق دیہاتیوں نے پٹھان سے فارسی خریدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روایت ہے کہ جب احمد شاہ ابدالی نے پنجاب فتح کیا تو اس کے سپاہی ایک چھوٹے سے دور دراز گاؤں میں ٹیکس لینے پہنچے۔ اب ابدالی کے سپاہی صرف فارسی بولتے تھے اور گاؤں والے اس زبان سے ناواقف تھے۔ تو ٹیکس وصول کرنے والوں کو وہ اپنی بری مالی حالت کے بارے میں بتانے سے قاصر رہے اور تلوار کی نوک کے ذریعے ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں بالکل ہی لٹ گئے۔

سپاہی چلے گئے تو گاؤں والوں نے اکٹھ کیا اور سوچنے لگے کہ اگلے سال بھی یہی ہوا تو کیا کریں گے؟ سپاہیوں سے بات کرنا ضروری تھا۔ ایک سیانے نے بتایا کہ اس نے سن رکھا ہے کہ افغانستان میں فارسی بولی جاتی ہے اور سپاہیوں سے بات کرنے کے لئے فارسی کی ضرورت ہو گی۔

سب دیہاتیوں نے فیصلہ کیا کہ گاؤں کے دو جہاندیدہ افراد کو افغانستان بھیج کر ضرورت کے مطابق فارسی خرید کر لائی جائے۔ سب گھروں نے دس دس چاندی کے سکے دیے اور دو دانش مند افراد کو فارسی لانے کے مشن پر روانہ کیا گیا۔

یہ لوگ پشاور سے ہوتے ہوئے درہ خیبر تک پہنچ گئے۔ راستے میں ہر گاؤں اور شہر کے لوگوں سے پتہ کرتے کہ ”کیا تمہارے پاس کچھ فارسی ہے جو ہمیں بیچ سکو؟ ہم اچھے دام دیں گے۔ “ گاؤں والے ان کا مذاق اڑاتے اور یہ بچارے آگے چل پڑتے۔

آخر کار چلتے چلتے یہ جلال آباد کے قریب پہنچ گئے۔ شہر کے دروازے کے باہر ہی ان کو ایک سوداگر نما ٹھگ ملا تو دیہاتیوں نے اس سے بھی اپنا سوال پوچھا ”کیا تم جانتے ہو کہ ہم کہاں سے فارسی خرید سکتے ہیں؟ ہم اچھے دام دیں گے لیکن فارسی اعلی درجے کی ہونی چاہیے“۔

ٹھگ تاڑ گیا کہ یہ دیہاتی بالکل ہی احمق ہیں اور اس کی اچھِی کمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ فوراً بولا ”خدا کی قدرت ہے، میں آج ہی اصفہان سے اعلی درجے کی فارسی کے دو مرتبان لے کر آیا ہوں اور انہیں دہلی لے جا کر بیچنے کا سوچ رہا تھا۔ مگر بدقسمتی سے میرا گھوڑا کچھ بیمار ہو گیا ہے اور کی وجہ سے مجھے یہاں رکنا پڑ گیا ہے۔ لگتا ہے کہ خدا نے تمہاری ضرورت پوری کرنے کے لئے ہی یہ سبب پیدا کیا ہے۔ مگر فارسی بہت اعلی درجے کی ہے۔ کیا تم اس کی قیمت چکا پاؤ گے؟ “

دیہاتیوں نے اثبات میں سر ہلایا اور ٹھگ کو اپنے پیسے دکھائے۔ ٹھگ ان کو اپنے گھر لے گیا اور ان کی خوب خاطر مدارات کی اور ان کو ایک کمرے میں سلا دیا۔ اس کے بعد ٹھگ نے دو مرتبانوں میں گڑ کا شیرہ بنا کر شہد کی بڑی مکھیوں کے ایک بڑے چھتے کے نیچے رکھ دیا۔ کچھ دیر میں شہد کی بے شمار مکھیاں ان مرتبانوں میں گھس گئیں تو ٹھگ نے مرتبانوں کا منہ کپڑے سے بند کر دیا۔

صبح سویرے اس نے دیہاتیوں کو ناشتہ کرا کے دونوں مرتبان دیے اور ان سے سارے پیسے لے لئے۔ اس نے کہا ”خیال رہے کہ راستے میں مرتبانوں کا منہ بند رہے ورنہ فارسی اڑ جائے گی۔ اپنے گاؤں میں پہنچ کر ایک اندھیرے کمرے میں مرتبان رکھنا، جس جس کو فارسی چاہیے اسے کمرے میں بلا لینا اور سب اپنی اپنی قمیضیں اتار کر مرتبانوں کے گرد جمع ہو جانا۔ اس کے بعد دروازہ اس طرح بند کرنا کہ اندر روشنی کی ایک کرن بھی نہ آئے اور مرتبان کھول دینا۔ کچھ دیر میں ساری فارسی مرتبانوں سے نکل کر تم لوگوں کے جسم میں جذب ہو جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ تمہیں تھوڑی سی چبھن اور تکلیف ہو مگر فارسی چاہیے تو برداشت کرنا“۔

دیہاتیوں نے مرتبان لئے اور منزلیں مارتے ہفتے بھر بعد اپنے گاؤں پہنچے۔ گاؤں والے بہت خوش ہوِئے کہ آخر کار ان کو فارسی مل گئی ہے۔ سب لوگ اپنی اپنی قمیضیں اتار کر ایک اندھیرے کمرے میں جمع ہوئے اور دروازہ بند کر کے مرتبان کھول دیے۔ شہد کی مکھیاں کئی دن سے قید تھیں۔ آزادی ملی تو فوراً باہر نکلیں اور دیہاتیوں پر حملہ آور ہو گئیں۔

کچھ دیر تو دیہاتیوں نے برداشت کیا کہ فارسی پوری طرح جسم میں جذب ہو جائے مگر تکلیف سے بے حال ہو کر وہ دروازے کو ڈھونڈنے لگے۔ بمشکل دروازہ کھول کر باہر بھاگے تو مکھیاں بھی ایک پرا باندھ کر وہاں سے باہر نکل گئیں۔ سب دیہاتیوں کے جسم بے تحاشا سوج گئے تھے اور شکلیں پہچانی نہیں جا رہی تھیں۔ ایک دیہاتی کو خیال آیا کہ اس کا باپ دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اس نے پریشان ہو کر پوچھا ”میرا باپ کہاں ہے؟ کیا کسی نے اسے دیکھا ہے؟ “ دوسرے دیہاتیوں نے جواب دیا ”وہ سب سے پہلے باہر نکلا تھا اور اس کے پیچھے بہت سی فارسی لگی ہوئی تھی“۔

اس تکلیف دہ تجربے کے بعد دیہاتیوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ فارسی برداشت نہیں کر سکتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے لئے ہی چھوڑ دیتے ہیں جو اس سخت چیز کو قابو کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ حسب ضرورت فارسی یا چینی خرید تو ضرور لینی چاہیے مگر یہ سوچ کر کہ کئی مرتبہ اسے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ انہیں کے لئے مناسب ہے جو اس سخت چیز کو قابو کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1202 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar