پردے والو، پردہ کر لو


ہمارے سندھ کے شہر خیر پور میں جب کوئی مرد کسی کام سے اپنی چھت یا کھمبے پر چڑھتا تھا تو بلند آواز میں اعلان کرتا تھا۔

پردے وارا پردہ کجو۔۔۔۔ (پردے والو، پردہ کر لو) اور ہم لڑکیوں اور عورتوں میں سے جو بھی صحن میں ہوتا، کمروں کی طرف دوڑ لگا دیتا۔ اور اگر صحن میں بیٹھنا ضروری ہو تا تو دوپٹوں کی تلاش کے لیے بھاگا دوڑی شروع ہو جا تی، کوئی اپنے اوپر تولیہ ڈال لیتا تو کوئی پلنگ سے چادر گھسیٹ کر خود کو ڈھک لیتا۔

یہاں کراچی میں ہمارے ایک دوست نے اپنی سالی کشف کی شادی ایک اچھا رشتہ دیکھ کر دھوم دھام سے کر دی، کشف نے ماں باپ کی حادثاتی موت کے بعد ان ہی کے گھر میں ہوش سنبھالا تھا۔ وہ ان کے بچوں سے پانچ سال ہی بڑی تھی۔ شادی والے دن بہت خوش تھے، بتانے لگے کہ بڑا شرعی گھرانہ ہے۔ اس کے شوہر نے اس پر پابندی لگا دی ہے کہ کسی بھی نا محرم کے سامنے نہیں جائے گی۔ ایک دن ہمارے دوست ہمیں ملنے آئے تو بڑے اداس نظر آئے، کہنے لگے، اب کشف میرے سامنے بھی نہیں آتی وہ تو میرے بچوں کی طرح ہے۔ میں کیسے نامحرم ہو سکتا ہوں۔ کل وہ گھر آئی، لیکن میرے سامنے نہیں آئی۔ ہم نے کہا بھئی شرعی طور پر آپ نا محرم جو ہیں۔ کہنے لگے لیکن وہ تو میرے بچوں کی طرح ہے۔ کل جب وہ سارا وقت کمرے میں بیٹھی رہی تو مجھے یوں لگا جیسے میں اچانک سے غنڈہ بدمعاش ہو گیا ہوں۔ ہم نے کہا حنا (ان کی بیوی) مہمانوں کے سامنے گئی؟ کہنے لگے بھئی ان کی خاطر مدارت تو اسی کو کرنی تھی نا۔ مگر وہ ان کے لیے نا محرم ہے نا۔ ہم نے غصے سے کہا۔

لیکن میں نے حنا پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔

آپ نے نہیں لگائی، لیکن انہیں آپ کے گھر میں داخل ہو نے سے پہلے اعلان کرنا چا ہیے تھا کہ دو نامحرموں کی آپ کے گھر پر آمد ہے۔ اس لیے پردے والو، پردہ کر لو۔

ہماری دوست عذرا پرائیوٹ اسکول میں ٹیچر تھیں اور بلا کی خوب صورت تھیں، شادی کے بعد خاوند نے پہلے تو انہیں حجاب پر آمادہ کیا، پھر ان کے میک اپ پر پابندی لگائی، لیکن انہیں پھر بھی تسلی نہ ہو ئی تو انہیں مجبور کیا کہ وہ نوکری چھوڑ دیں، لیکن وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ دو تنخواہوں سے گھر اچھے سے چلتا ہے بچت بھی ہو جاتی ہے، تب انہیں مشورہ دیا گیا کہ کیوں کہ ان کی سلائی کڑھائی اچھی ہے تو گھر بیٹھ کر وہ آمدنی بڑھانے کے لیے سلائی کیا کریں۔عذرا نے یہ سارا معاملہ اپنے میکے والوں کے آگے رکھا تو انہیں سمجھایا گیا کہ اگر وہ تمہیں اسلامی اصولوں کی پاسداری کے لیے کہتا ہے تو تمہیں اعتراض نہیں ہو نا چاہیے۔

عذرا، اپنی سائنسی تعلیم کی تدریس چھوڑ کر گھر کے خرچ میں شوہر کا ہاتھ بٹانے لگی۔ ایک دن میں اپنی ایک دوست کے ساتھ ملنے عذرا کے گھر گئی۔ موصوف نے خود دروازہ کھولا۔ ہمیں ایک کمرے میں بٹھا کر عذرا کو بلانے چلے گئے، تھوڑی ہی دیر بعد عذرا کے ساتھ تشریف لائے۔ عذرا ملگجے کپڑوں میں ملبوس تھی لیکن موصوف نے بڑی پھرتی سے لباس تبدیل کر لیا تھا اور تیز خوشبو سے مہک رہے تھے۔۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے عذرا کو ہماری آؤ بھگت کا اشارہ کیا اور خود ہم سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔ ہمارا دل مستقل اعلان کر رہا تھا پردے والو، پردہ کر لو۔

اسلامی اصولوں کی پاسداری صرف عورت پر کیوں واجب ہے۔ ذرا آپ ہفتے کے سات دن بنا آسمان دیکھے گھر میں وقت گزاریں اور گھر سے باہر نکلیں تو دو آنکھوں سے دنیا کے نظارے اس طرح کریں کہ دنیا کی نظر آپ پر نہ پڑے، پسینے میں شرابور نقاب کے اندر سے پانی پئیں، قلفی کھائیں۔ اپنے چہرے کا پسینہ بھی صاف نہ کر سکیں تو بے بسی کا کیا عالم ہوتا ہے۔ ہاں کچھ خواتین برسہا برس سے شٹل کاک یا برقعے میں زندگی گزارنے کی وجہ سے اپنے جسم کا ایک حصہ سمجھے بیٹھی ہیں، انہیں اس سے دور کرنے کا مطلب ان کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے، لیکن جو خواتین پردہ نہیں کرتیں انہیں شادی کے بعد زبر دستی پردہ کرنے پر مجبور کرنا مردانگی نہیں۔ شرعی اصولوں کی پاس داری کرنی ہے تو آپ کو بھی نظریں نیچی رکھنی ہوں گی۔ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور دل پر پہرے بٹھا کر دماغ کو سمجھانا ہو گا، پردے والو، پردہ کر لو۔

Facebook Comments HS