“کھانا خود گرم کرلو” سے آگے ایک مکالمہ
ثروت نجیب
سنوارنا خود کو مرد اور عورت دونوں کا حق ہے اور ضروری ہے ـ ـ ـ وقت ملے یا نہ ملے خود کی حفاظت پہ توجہ ضرور دینی چاہیے ـ ضروری نہیں مرد کو لبھانے کے لیے ـ ـ ویسے مرد بھی تو عورت کو لبھانے کے لیے ہزار جتن کرتے ہیں ـ یہ یکطرفہ بات نہیں ہے ـ ـ کیا صرف عورتیں ماڈلز ہیں مرد بھی تو ہیں ـ
رابعہ بصری
میں ثروت سے متفق ہوں ۔۔سنوارنے میں سولہ سنگھار والا سنوارنا نہیں بلکہ خود کو صاف ستھرا رکھنا اچھا لباس پہننا ۔۔ذہن و دل کو سنوارنا بھی شامل ہے اسکے لئے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا
ابصار فاطمہ
اپنی شخصیت کا خیال رکھنے کی بات الگ ہے اور اس میں مرد و زن دونوں آجاتے ہیں مگر جس حوالے سے عورت کا سنگھار اور ناز نخرہ مشہور ہے میری بات صرف اس کے لیے تھی۔ اپنی شخصیت کو کسی کے لیے بھی اپروول حاصل کرنے کے لیے بدلنا اپنی ہی توہین ہے وہ چاہے مرد کرے یا عورت۔ اور کمپیریٹیولی عورت کو یہ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ رنگ سانولا نہ ہو، موٹی نہ ہو قد بہت لمبا یا بہت چھوٹا نہ ہو۔ پڑھی لکھی ہو مگر صرف اتنی کہ رشتہ مل جائے۔ چہرے پہ دانے نہ ہوں بلکہ کسی دانے کا داغ بھی نہ ہو۔ بال لمبے ہوں۔ اچھی خاصی لڑکیاں اپنی صلاحیتیں اور زندگیاں اس تک و دو میں ضائع کر دیتی ہیں۔ ساتھ ہی بہت سے نفسیاتی مسائل کا شکار بھی رہتی ہیں۔
رابعہ بصری
مجھے تو ہر صورت میں لڑکیاں پیاری لگتی ہیں ویسے اگر صاف ستھری ہوں اورپراعتماد ہوں ۔۔ سیکھنے کی لگن رکھیں ۔۔ باقی یہ سپرفیشل ٹرینڈذ میں نے ، آپ نے اور ہم سب نے مل کے بدلنے ہیں ۔۔ خوداعتمادی ضروری ہے لیکن اوورکانفیڈنس نہ ہوں یہ بھی ایک بیماری ہے
ثروت نجیب
طبقاتی فرق تو ختم نہیں ہوسکتے ـ سوشلزم نے ختم کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ـ ـ ـ مگر یہ کہنا کہ عورت منڈی/ مارکیٹ میں مرد کو لبھانے آتی ہے اور یہ فیشن انڈسٹری کا مقصد مرد کو رجھانا ہے ـ تو غلط ہے ـ فرض کرتی ہوں کہ عورت فیشن انڈسٹری کاـحصہ نہ ہوتی اور مرد پراڈکٹس بیچتے تو کیا عورتوں کو اعتراض نہ ہوتا کہ ان کو آگے نہیں آنے دیا جا رہا ـ اور اب جب مارکیٹ میں ہر چیز عورت کے بل بوتے پہ بیچی جاتی ہے تو یہ الگ ایشو کہ مرد عورت کوـاستعمال کرتا ـ جہاں تک غربت کی بات ہت تو جون ایلیا سے معذرت کے ساتھ غریب لڑکے بھی سکس پیک نہیں بنا سکتے ـ ـ صرف لڑکی فاقے کا شکار ہوتی ہے کیا محنت کش مرد بھی بھدا ہی لگتا ہے بلکہ کئی معصوم بچوں کے چہرے پہ جھریاں دیکھی ہیں میں نے ـ ـ ـ
ابصار فاطمہ
طبقاتی فرق ختم نہیں ہوسکے مگر ہونے چاہئیں ۔ یہ آپ کی بات بالکل درست ہے کہ فاقہ کش مرد ہو یا عورت دونوں ہی ایک پیٹ بھرے کے حسن کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ فیشن انڈسٹری کے بھی دو روپ ہیں جیسے انسٹا گرام پہ بھرمار ہے دو طرح کے میک اوورز کی ایک جو مکمل فنکارانہ ہوتے ہیں کہ بندہ پری سے لے کر بکری تک کچھ بھی بنا لے اپنی شکل کو، رنگوں سے آپٹیکل الوژن بنائے اور دوسری طرف صرف چھوٹی آنکھوں کو بڑی کرنے کا طریقہ روکھے بالوں کو چمکدار کرنے کا طریقہ دانے چھپانے کا طریقہ۔ بنیادی طور پہ میرے لیے "میں” کسی شکل کا نام نہیں کیوں کہ میں نے کبھی اپنی شکل اصل میں دیکھی ہی نہیں۔ مجھے اپنا آپ خوبصورت یا بدصورت دوسرے کی رائے کی بنیاد پہ ہی لگے گا۔ اور یہاں سے باڈی شیمنگ کی ابتداء ہوتی ہے رنگوں کے فنکارانہ استعمال سے مجھے قطعا کوئی اختلاف نہیں نہ لباس کی نئی تراش خراش سے ہے۔ بس وہ باڈی شیمنگ کا نتیجہ نا ہو
بشریٰ اقبال
جی درست خوب صورتی خوشحالی سے جڑی ہے۔ اور محنت خوش حال ہونے کے لیےکی جاتی ہے۔ مگر گرد وغبار اور گند سے اٹے ماحول میں خوشحال ہی مارے جاتےھیں۔ ایسا معاشرہ جانوروں کا معاشرہ ہو جاتا ۔یعنی طاقتور کا ۔ انسان موت سے ڈرتےہیں۔کیونکہ ان میں اور جانورمیں موت کی حقیقت کو جاننے کا اور خوشحالی کو سمجھنے کافرق ہے۔ موت سے بچنا اور خوشحال رہنا انسانیت کا نام ہے۔ مگریہ انسانیت کب ممکن ہے ۔ جب زندہ رہنے کے لیے اصول مرتب ہوں ۔ ہر معاشرہ سازی وہاں کے جغرافیے سے منسلک ہوتی ہے ۔ موسمکے ساتھ لباس وخوراک کی تبدیلی اور اسکو برتنے کا سلیقہ اس معاشرے کی معیشت سے وابستہ ہے اور۔معیشت علم اورمحنت سے
فیشن انڈسٹری بھی خوشحالی کی علامت ہے
ابصار فاطمہ
خوش حالی یاسرمایہ داری؟
بشریٰ اقبال
یہ سلیقہ ہے ۔ تاجر اور خریدار کا
عقل ہے دونوں کی ۔ دونوں میں سے کم عقل مارا جاۓ گا
ابصار فاطمہ
مگر اپنی پراڈکٹ بیچنے کے لیے عوام کو ایسے معیار اختیار کرنے پہ مجبور کرنا جو کہ کسی بھی صورت نارمل نہ ہوں یہ معاملہ صرف بیچنے خریدنے سے کہیں آگے کا ہے۔ باڈی پوزیٹیو امیج کی جگہ باڈی شیمنگ کو فروغ دیا جاتا ہے۔
بشریٰ اقبال
اس لیے تعلیم اور تربیت کی بہت اہمیت ہے ۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ پر کلک کریں


