“کھانا خود گرم کرلو” سے آگے ایک مکالمہ
ثروت نجیب
پرائس کنٹرول کے چکر میں ایک بار ڈیرہ اسماعیل خان میں گنے کی کاشت کی ہوئی فصل کو مجبوراً آگ لگانا پڑی کیونکہ شوگر ملوں کا کوٹہ پورا ہو چکا تھا اور اضافی گنا ریجیکٹ کر دیا گیا ـ ــ ـ پاکستان میں شکر سازی کی تقریباً 78 ملیں ہیں جن میں اکثریت مل مالکان ساست دان ہیں ٹیکسٹائل کے بعد سب بڑی صنعت کا یہ حال ہے کہ مل مالکان کی پانچوں انگلیاں گھی اور سر کڑاہی میں جبکہ کسان گنے کے ساتھ کرش ہو جاتا ہے کیونکہ مل مالکان گنا لے کر قسطوں میں رلا رلا کر ادائیگی کرتے ہیں ـ گنے کی ٹرکوں میں لدا سوکھنے لگتا ہے تو گنے کی قیمت گرا کر کسان کو لوٹ لیتے ہیں ـ گنا کی کاشت ذیادہ جبکہ شکر کی ملیں اس نسبت سے کم ہیں وجہ اگر ملیں ذیادہ ہو جائیں تو چینی کی قیمت گر جائے گی ـ اس کے باوجود چینی سٹور کی جاتی ہے اور بلیک پہ بیچی جاتی ہے ـ صرف گنا خرید کر مل مالکان شکر بنا کر بیچنے کے علاوہ گنے سے مولاسز (راب) بگاس (پھوگ) حاصل کیا جاتا ہے جنھیں پھر الگ سے بیچا جاتا ہے راب یعن بھورے شیرے کی تخمیر سے ایتھانول یعنی بائیو فیول حاصل ہوتا ہے اس ایندھن سے ساری مل چلتی ہے پھر بھی ایندھن بچ جاتا ہے ـ لیکن کسان کو صرف خون کے آنسو ملتے ہیں کیا بجلی کے بحران والے ملک میں ایتھانول یعنی حیاتی ایندھن پیٹرول سے مل کر قابل استعمال ہو کے بحران سے نکال سکتا ہے مگر اس صورت میں پھر لوڈ شیڈنگ ختم ہو جاٰئے گی ـ اور سرمایہ داری نظام میں کاسٹ کنٹرول کرنے کے چکر میں چائے سمندر برد تو ہو سکتی ـ ـ ـ تیل ذخیرہ اندوز کیا جاـسکتا ہے مگر اس کی قیمت نہیں گرائی جا سکتی ـ
ابصار فاطمہ
جی ثروت یہی مسئلہ ہے غذا ضائع کی جاتی ہے تاکہ سستی نہ ہوسکے مفت دینا تو دور کی بات ہے۔ آج ہی خبر پڑھ رہی تھی کہ تھر کے سات لاکھ گھرانوں کو مفت گندم دی جائے گی تین چار سال کے قحط کے بعد چند بوری گندم سے یہ قحط سالی ختم نہیں کرنا چاہتے ورنہ کوئی اور اقدام کیا جاتا۔ خیرات پہ ملک نہیں چلائے جاتے اتنی سنگین غذائی قلط کے اختتام کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی درکار ہے۔ روزگار اور غذا کی مسلسل ترسیل کے ذرائع بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہی کسان جو فصل اگاتا ہے اس کا اس غذا پہ ہی حق نہیں تو کس کا ہے؟
ثروت نجیب
کسان رو رہے ہیں، اور سرمایہ دار پیسے بٹور کے لے جاتے ہیں ـ پاکستان میں جتنی بھی ملیں ہیں اکثریت فکٹریوں کی مالک سیاسی حلقے کے لوگ ہیں پوری دنیا میں نہ تیل کم ہے نا اناج کم ہے اگر کچھ کم ہے تو وہ ہے انسانیت ـ ـ
ابصار فاطمہ
بالکل تبھی تو یہ ایک فیصد مزید کم ہوتا جارہا ہے اور ان کے پاس دولت کی مقدار برھتی جارہی ہے اور اس سب میں ہم خرید و فروخت کے ڈرامے کو سمجھ جائیں تو اصل کہانی پتا چلتی ہے۔ جو دوا ایک روپے میں ہزاروں گولیوں کی تعداد میں مینوفیکچر ہوتی ہے مریض کو سو روپے کی گولی ملتی ہے۔ اور سب منافع مالک کے پاس جاتا ہے مزدور کو پیس کے حساب سے ٹکون میں ادائیگی ہوتی ہے محنت کی۔
ثروت نجیب
مارکیٹ کی تو بات ہی نہ کرو بہن، اس ظلم کی روداد لمبی ہے ـ ـ ـ دوائی بعد میں لاتے ہیں وائرس پہلے ایجاد کرتے ہیں ـ ـ ـ پچھلےسال کھانسی کا وایرس تھا ـ ـ یہ ڈینگی مچھر ــ ـ کینسر یہ سب بیماریاں باقاعدہ وائرل کی جا رہی ہیں تاکہ دوائیوں کی صنعت کو فروغ ہو ـ قدرت کی طرف واپس پلٹنے میں عافیت ہے ـ ـ
ابصار فاطمہ
تو آپ میرے پوائنٹ پہ آگئیں نا
ثروت نجیب
تو مارکیٹ سے اچھائی کی امید کی کس نے ـ ـ آپ نے کہا وہ ایسا کرتی کیوں ہے ـ ؟ میں کہتی ہوں کہ وہ کرتی ہے اور کرے گی جب مشتری ہوشیار نہیں ہوتا
ابصار فاطمہ
میرا پوائنٹ مطلب جہاں سے بات شروع ہوئی تھی کہ عورت کو نمائشی چیزبنانے اسے نت نئے ملبوسات اور پراڈکٹس کی دوڑ میں لگانے سب کے پیچھے یہی نظریہ ہے۔ باڈی شیمنگ حد یہ کہ باڈی پوزیٹو کا نام لے کر بھی جب پراڈکٹ بیچی جاتی ہے تو مقصد ایک مصنوعی معیار بنا کے اپنا مال بیچنا ہوتا ہے۔ جب تک عورت کمزور تھی اسے سامان کی طرح سجنے پہ لگایا پھر برابری کا دور آتا گیا یہ ہونے کی بجائے کہ دونوں ایک دوسرے کو قدرتی انداز میں قبول کرتے مردوں کو بھی اسی کام پہ لگا دیا کہ خود کو اپروو کرواو۔ جبکہ ہر ساخت کے بندے میں قدرتی کشش رکھنے والا کوئی نا کوئی ہوتا ہے۔ اپنی اپئرینس بدل کے ہم نیچرل سیلیکشن کے پروسیس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ثروت نجیب
میں جب چھوٹی تھی تو کسی گھر میں بھی کوئی کھانا باہر سے نہیں آتا تھا عورتیں گھر پہ نمک پارے بھی بناتی تھیں اور چھولے چارٹ سے لے کر سب کچھ اب سب باہر سے آتا ہے گندہ تیل اور پتہ نہیں کسے بنا ہوتا ہے ـ ـ ـ پہلے عورتیں گھر میں سکھاتی تھیں سبزیاں ـ مٹی کی ہانڈی ہوتی تھی ـ جب عورت یہ کہے کہ کھانا خود گرم کر لو تو مائکروویو اوون ایجاد ہوں جو کہ کینسر کی جڑ ہے ـ ـ ـ عورت کہیں نا کہیں اس کی ذمہ دار ہے ـ ـ ـ کوئی مانے یا نا مانے ـ ـاس سے انسان پرفیکٹ نہیں ہوتے دوہری بیماریوں کو شکار ہوتے ہیں ـ ـ ـ بات مختصر بس جتنا ہو سکے قدرت کے قریب رہیں قدرت میں شفا ہے علاج ہے ـ ـ اور نہیں تو نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ جاؤ کچھ دنوں میں سکن اچھی ہو جائے گی ـ ـ ـ
ابصار فاطمہ
ثروت یہی فرق تو سمجھنا ہے کہ مائیکروویو اوون عورت کی آسانی کے لیے نہیں بلکہ اس لیے عام کیے گئے تاکہ فیکٹریز کو زیادہ ورکرز مل سکیں۔ ورنہ کھانا چولہے پہ گرم کرنا ہو یا مائیکروویو میں کرنا "عموما” عورت کو ہی پڑتا ہے۔
ثروت نجیب
یہی چیز ـ ـ یہی چیز یـ ـ مارکیٹ کو مزدور چاہیں ـ ـ وہ عورت ہو بچہ ہو یا مرد ہو اسے پروا نہیں ـ ـ میں کہتی ہوِ گھر کو بلاوجہ پرتعیش بنانے کے اتنا کمایا جائے کہ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں ـ ـ آخر کو وہی مستقبل ہیں
بشریٰ اقبال
حیرت انگیز بات کہ دنیا کا امیرطبقہ اور تعلیم یافتہ طبقہ مشین یاکیمیکل والا کھانا نہ کھاتا تھا اور نہ کھاتا ہے ۔ یہ سب کم عقل انسا نوں کی خوراک کہلا ۓ جاتے تھے۔ فوڈ چیئنز غربا کے لیے بنیں تھیں یہاں اور اب بھی یہی سمجھا جاتا ہے ۔
ثروت نجیب
یہی بات ـ ـ ـ تقلید نے لوگوں کو مار دیا ـ ـ ـ
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ پر کلک کریں


