“کھانا خود گرم کرلو” سے آگے ایک مکالمہ


ابصارفاطمہ

بالکل بشریٰ زمیندار عوام کے لیے جی ایم او والی گندم اگاتا ہے اور اپنے لیے ارگینک۔ اور ثروت اس تقلید پہ لوگوں کو لگایا گیا۔ جان بوجھ کے اب وہ مسائل کو قسمت سمجھ کے مزید کمانے میں لگ جاتا ہے یہ سوچے بغیر کے وہ جتنا کمائے گا بنیادی ضرورت اتنی ہی مہنگی کردی جائے گی

ثروت نجیب

یہ آگہی پھیلانی ہوگی

منرل واٹر کے بجائے گھر کا پانی ابال لو ـ ـ ـ پانی صاف ہو جاتا ہے ـ پیپسی کے بجائے لسی پیو ـ ـ چینی کا استعمال کم کر دیں ـ بیوٹی پراڈکٹس کے بجائے گھریلو ٹوٹکے بہترین ـ کنڈیشنر کے بجائے آملے کا پانی لگائیں ـ درختوں سے پیار کریں پھولوں سے باتیں کریں ـ کچی سبزیاں کھائیں ـ سبزیاں گھر پہ اگائیں ـ گھر پہ کھانا کھانے کو رواج دیں ـ ـ ـ ایران کے وزیراعظم احمدی نژاد جب ٹفن لاـسکتا ہے بیوی کے ہاتھ کا کھانا اور انڈیا میں ٹفن کی ایک انڈسٹری ہے جو دفتروں میں ٹفن پہنچاتی ہے۔اس ٹرینٍڈ کو فروغ دیں گے تو ستایا ہوا طبقہ قسم سے کسی رہبر کے انتظار میں ہوگا فالو کرنا شروع کر دے گا۔

ابصار فاطمہ

ہاں سادہ بات ہے مگر اتنی بھی سادہ نہیں کیمیکلی پولیوٹڈ پانی صرف ابالنے پہ صاف نہیں ہوتا۔ کئی لوگ مجبور ہیں صرف ابال کے پانی پینے پہ مگر ان کے جسم میں تابکار عناصر بڑھتے جارہے ہیں۔ بدقسمتی یہ کہ پاکستان انڈیا افغانستان جیسے ممالک میں منرل واٹر میں بھی یہی پانی بھر کے بیچا جاتا ہے

بشریٰ اقبال

جی یہی تو اصل کام ہے شعور کی بیداری کا۔

ثروت نجیب

میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ عورت اور مرد آپس میں مقابلہ کرنے کے بجائے مل کر حالات کا مقابلہ کریں تو شاید مثبت تبدیلیوں کو ظہور ہو۔

ابصار فاطمہ

بالکل صحیح خیال ہے دونوں میں مقابلہ بازی کروائی جارہی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹوائی جائے

ثروت نجیب

 "ہوتے ہیں فتنہ ساز یہی درمیاں کے لوگ”

 آخر میں میاں بیوی کی ناچاقی کا فائدہ تعویز گنڈے والے اپنا کاروبار چمکا کے اٹھاتے ہیں ـ مطلب کاروبار در کاروبار ـ ـ ـ مذہب کے ٹھیکے دار مذہب کے حوالے دے کر اس رشتے کو اور الجھا دیتے ہیں ـ

تو قارئین ہمارے مکالمے کا اختتام تو یہاں ہوگیا مگر اس مکالمے کا کوئی انجام فی الحال نظر نہیں آرہا۔ مسئلہ نکلا کھانا گرم کرنے سے اور جا پہنچا ذخیرہ اندوزی پہ آپ ان تانے بانوں کو سمجھنا چاہیں تو آپ بھی مکالمہ کیجیے۔ آنکھیں بند کر کے کسی کی نا مانیے۔

ترتیب

ابصار فاطمہ

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima