“کھانا خود گرم کرلو” سے آگے ایک مکالمہ


ثروت نجیب

میم بشریٰ کی ہی بات آگے بڑھاتی ہوں ـ ـ ـ مرد اور عورت کی ساری کہانی عقل سے شروع ہو کر عقل پہ ختم ہو جاتی ہے ـ ـ ـ ـ عقل اور شعور سے ہی مرد یا عورت ایک دوسرے پہ فوقیت حاصل کرتے ہیں ۔ عقل اور شعور کے درجے بنیادی تفریق پیدا کرتے ہیں ـ اور شعور تعلیم سے ہی آتا ہے ـ

دوسری بات یہ کہ مارکیٹ انسانی ہمدردی کے اصولوں پہ نہیں چلتی ـ چیز کس طرح بیچنی ہے بس یہ سکھایا جاتا ہے ـ اور اس کے لیے سروے ہوتے ہیں لوگوں کا معیار کیا ہے ـ جیسے ہندی فلموں کو دیکھ لیں ـ جھوٹ پہ جھوٹ ـ ـ ـ سب کو پتہ ہے ہیرو نہیں مرے گا اور فلم کا انجام ہیرو اور ہیروئین کے ملن پہ ہوگا پھر بھی لوگ جاتے ہیں دیکھتے ہیں فلم ـ اس طرح پراڈکٹ بھی مصالحہ لگا کر بیچی جاتی ہے ـ ـ ـ اس میں بیچنے والوں کا قصور نہیں ـ ـ مشتری ہوشیار باش ـ ــ ـ خریدنے واے سوچیں نا

بطور ڈیزائنر مجھے کہا جاتا ہے بل بورڈ بنانا ہے ـ مجھے اب معلوم ہے بل بورڈ پہ پانچ سکینڈ کے لیے ہی کسی کی نظر پڑتی ہے اب میں کیسے چونکا دینے والا بناتی ہوں کہ لوگ متوجہ ہوں ـ ـ ـ یہ الگ کہانی ہے ـ

ابصار فاطمہ

ثروت یہی بات تو سوچنے والی ہے کہ یہ بیچنے کے لیے غیر ضروری چیز کو اہم کیوں بنایا جارہا ہے۔ پانی تو بک ہی رہا تھا جاپان میں ہوا تک کے کین آگئے ہیں۔ بقول نیسلے کے سی ای او، کہ پانی بنیادی ضرورت نہیں ہے اس لیے ہم بیچیں گے نیسلے کے کئی پلانٹس کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگ خشک سالی کا شکار ہورہے ہیں۔ ایک لیٹر پانی کی بوتل کی مینیوفیکچرنگ میں تقریبا 20 لیٹر پانی استعمال اور آخر میں ناقابل استعمال ہوجاتا ہے ۔ جو کہ پورے سیارے کے موسم پہ خطرناک اثر ڈال رہا ہے اور یہ صرف ایک مثال ہے ایک پراڈکٹ کے حوالے سے۔ ایسے ہی تو نہیں سب سرمایہ دار گلوبل وارمنگ کی طرف سے آنکھیں بند ہونے کا ناٹک کر رہے ہیں

ثروت نجیب

میں نے دیکھا ہے عورتوں کی آسانی کے لیے زیادہ چیزیں ایجاد ہوئی ہیں ـــ بہ نسبت مرد کے لیے ـ ـ ـ کیونکہ مغرب میں عورت نے بہت پہلے کہہ دیا تھا ” کھانا خود گرم کر لو” توـاوون ایجاد ہوگیا ـ ـ ـ اس طرح پراڈکٹس بنتی گئیں اور بنتی رہیں گی ـــ ٹکنالوجی میں کچن کو لے لیں کیا کچھ نہیں ایجاد ہوا ـــ اتنی انرجی اگر زراعت کو آسان بنانے کے لیے مصرف ہوتی تو خوشحالی آ چکی ہوتی ـ ـ ـ

ابصار فاطمہ

بالکل درست۔ مگر ایک فیکٹ یہ بھی ہے کہ ابھی بھی جتنا اناج اگ رہا ہے وہ فی الحال انسانی آبادی کے لیے کافی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ تمام آبادی کے پاس اسے خریدنے کی سکت نہیں۔ مگر پھر بھی بکے گا تو ہی ملے گا ورنہ نہیں یہ کونسی لوجک ہے مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی۔ غذا خریدی کیوں جائے؟

بشریٰ اقبال

یہاں سچے اور جھوٹے معاشرے کی سمجھ آتی ہے۔ ہر معاشرے کے عام طبقے کو دیکھ کر وہاں کی معیشت اور معاشرت اور تہذیبی معیار کا اندازہ کریں۔ خاص اور ایک فیصد لوگ معاشرےکا حصہ ہی نہیں ہوتے ۔ ہم ان کو نہ دیکھیں

ابصار فاطمہ

بالکل درست بات ہے اور انہی اکثریت کے بنیادی مسائل کی بنیاد پہ معاشرے میں تبدیلی لانی چاہیے تاکہ وہ مسائل ختم ہوسکیں نا کہ 1 فیصد سمٹ کے 0.5 فیصد رہ جائے اور پھر بھی 80 فیصد سے زیادہ آسائشات کا مالک ہو

ثروت نجیب

کیوں! کیوں کہ ہم سٹیٹس کے چکر میں اس دھرتی کو تباہ کر رہے ہیں ـ پانی صاف کرنے کے بجائے پانی خریدنا شروع کر دیاـاور اب سب دھڑا دھڑ نیسلے پی رہے ہیں ویسے بھی جن کے گھر کے ساتھ بہتے دریا ہیں ـ ـ کمپلیکس کا شکار ـ ـ چترال میں میری بھابی کہتی ہے کہ ہر گھر میں پندرہ سولہ مرغیاں ہوتی ہیں پر لوگ پھر بھی بریلر مرغی لاتے ہیں اس لیے کہ اس طرح وہ شھر کے لوگوں کی طرح دیکھائی دیں گے ـ ـ ـ لسی چھوڑ کے پیپسی پینے لگے کیونکہ شھر کے لوگ پیپسی پیتے ہیں ـ اور شھر کر لوگ اس لیے پیپسی پیتے ہیں کیونکہ شاید آفریدی پیپسی پیتا ہے

ابصار فاطمہ

بالکل یہی بات اور یہ چیز انہیں اشتہاروں نے بتائی ہے۔ ان چیزوں کو اسٹیٹس سمبل بھی اشتہاروں نے بنایا ہے۔ اسی لیے اشتراکیت میں اشتہار بازی معیوب سمجھی جاتی ہے۔ جو بنیادی ضرورت ہے وہ بغیر خرید و فروخت حق دار تک پہنچے باقی سب فن ہے جو خریدنا چاہے خریدے نا خریدنا چاہے اس کی مرضی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima