چوروں سے ملا ہوا بادشاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ اب پرانے زمانے میں کوئی بریکنگ نیوز والے چینل وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے، تو بادشاہ دل بہلانے کو بھیس بدل کر رعایا کا حال معلوم کرنے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ تو یہ بادشاہ بھی ایک رات بھیس بدل کر نکلا اور چلتے چلتے ایک چوک پر پہنچا جہاں برگد کے درخت کے نیچے پانچ شرفا بیٹھے ہوئے تھے۔ بادشاہ بھی ان میں شامل ہو گیا۔

بات چلی تو معلوم ہوا کہ پانچوں چور ہیں۔ بادشاہ نے بھی خود کو چور بتایا۔ اور غور کریں تو بادشاہ کی یہ بات اتنی غلط بھی نہیں ہے۔ بہرحال یہ جان کر کہ بادشاہ بھی چور ہے، پانچوں نے اسے بھی اپنی منڈلی میں شامل کر لیا اور چوری کا منصوبہ بننے لگا۔ لیکن سوال یہ اٹھا کہ منڈلی کا سردار کون ہو گا۔ طے پایا کہ سب اپنی اپنی خاص کارگزاری بتائیں اور جو سب سے بہتر ہو گا اسے سردار چن لیا جائے گا۔

پہلا چور بولا ”میں کتوں کی بولی سمجھ لیتا ہوں۔ اس لئے پہرے پر موجود کتوں سے میں سب کو بچا سکتا ہوں اور ان کو اپنے ساتھ بھی ملا سکتا ہوں۔ پہریدار ہی ساتھ مل جائے تو چوری آسان ہو جاتی ہے“۔

دوسرا بولا ”میرے بازو ایسے توانا ہیں کہ کہ میں اونچی سے اونچی عمارت پر کمند پھینک کر اس پر چڑھ سکتا ہوں“۔
تیسرا بولا ”میرے ہاتھ ایسے ہیں کہ موٹی سے موٹی اور مضبوط سے مضبوط دیوار میں بھی چند لمحوں میں نقب لگا سکتا ہوں“۔

چوتھا بولا ”میری ناک ایسی تیز ہے کہ میں نہ صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ کسی گھر میں کتنے لوگ ہیں بلکہ مجھے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ اندر سونا چاندی ہے یا غربت کا راج ہے“۔
پانچواں بولا ”میری آنکھیں اندھیرے میں بھی صاف صاف دیکھ سکتی ہیں۔ اگر میں گھپ اندھیرے میں بھی کسی کی شکل دیکھوں تو دن میں اسے ایک منٹ میں پہچان لیتا ہوں“۔

اب بادشاہ کی باری تھی۔ وہ بولا ”میری طاقت میری داڑھی میں ہے۔ میں اسے ہلا کر اشارہ کروں تو پھانسی کی سزا سے بھی کسی کو فوراً بچا سکتا ہوں“۔
اس زمانے میں چوری کی سزا پھانسی تھی۔ چور یہ سن کر بہت متاثر ہوئے۔ کہنے لگے ”پھر تو تم ہی ہمارے سردار بننے کے لائق ہو، صرف پھانسی ہی ایسی چیز ہے جس سے ہماری جان جاتی ہے“۔

سب چوری کے لئے ہدف تلاش کرنے نکلے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر ایسی باصلاحیت ٹیم اکٹھی ہو ہی گئی ہے تو کیوں نہ شاہی محل کو ہی لوٹا جائے۔ وہ شاہی محل کی فصیل کے قریب پہنچے تو کتے بھونکنے لگے۔

بادشاہ نے پوچھا ”یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ “۔ کتوں کی زبان سمجھنے والے نے جواب دیا ”یہ کہہ رہے ہیں کہ بادشاہ آ گیا ہے“۔ سب کتوں کی دانش پر خوب حیران ہوئے کہ کہ وہ چوروں کو بادشاہ سمجھتے ہیں۔

اب کمند والے چور نے اونچی دیوار پر کمند پھینکی اور سب فصیل سے متصلہ گھروں کی چھت پر اترے۔ پہلے گھر کی چھت پر سونگھنے والے چور نے بتایا ”یہ گھر خالی پڑا ہے“۔ دوسرے گھر کی چھت پر اس نے بتایا کہ ”اندر چار مرد اور پانچ عورتیں ہیں اور یہ نہایت غریب ہیں“۔ تیسرے گھر میں بھی روپے پیسے کا نشان نہ ملا تو وہ آگے چل پڑے اور ایک اونچی سی دیوار تک جا پہنچے۔ چور نے سونگھ کر بتایا ”اس دیوار کے پیچھے بادشاہ کا خزانہ ہے۔ اندر سے سونے چاندی کی مہک آ رہی ہے“۔

نقب زنی کے ماہر نے دیوار میں نقب لگانا شروع کی اور جلد ہی راستہ بنا لیا۔ سب چور اندر پہنچے تو واقعی اندر سونے چاندی کے صندوق پڑے ہوئے تھے۔ وہ جتنا مال اٹھا سکتے تھے اٹھا کر واپس ہوئے۔ اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر انہوں نے مال آپس میں بانٹا۔ بادشاہ نے سب کا نام پتہ پوچھا تاکہ دوبارہ بھی ٹیم ورک سے لوٹ مار کر سکیں، اور اپنا حصہ لے کر واپس محل پہنچا۔

اگلی صبح چوری کا پتہ چلا تو پہلے محل اور پھر پورے شہر میں ہاہاکار مچ گئی۔ ۔ کوتوال اور سپاہی دیوانے ہو کر گھر گھر تلاشی لینے لگے۔ بادشاہ دربار خاص میں پہنچا اور اپنے وزیر کو چوروں کا نام پتہ دے کر ان کو پکڑنے اور قاضی سے سزا دلوا کر اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اپنے ساتھ سپاہی لے کر گیا اور چوروں کو پکڑ لایا۔ قاضی نے قانون کے مطابق سب کو چوری کے جرم پر پھانسی کی سزا سنائی۔ اب وزیر نے ان کو بادشاہ کے سامنے پیش کر دیا۔

بادشاہ نے غیض و غضب سے لرزتے ہوئے پوچھا ”بتاؤ کہ تمہیں کیوں فوراً سولی نہ چڑھا دیا جائے؟ “
چار چور رحم کی فریادیں کرنے لگے مگر اندھیرے میں دیکھ سکنے والا چپ چاپ بیٹھا رہا۔ بادشاہ نے اس سے پوچھا ”کیا تمہیں ڈر نہیں لگ رہا کہ تمہیں سولی پر چڑھا دیا جائے گا؟ “

چور بولا ”مجھے ڈر کس بات کا ہونا ہے۔ مجھے یہاں ایک ایسا شخص دکھائی دے رہا ہے جس کی داڑھی کا ایک اشارہ ہمیں پھانسی کے پھندے سے بچا لے گا“۔
یہ سن کر بادشاہ ہنس پڑا۔ اس نے داڑھی ہلا کر سپاہیوں کو اشارہ کیا کہ وہ ان چوروں کو چھوڑ دیں۔ بادشاہ نے چوروں کو آزاد کر دیا اور ان کو مزید انعام دے کر معاف کر دیا۔

تو صاحبو، بات یہ ہے کہ اگر بادشاہ ہی چوروں کے ساتھ مل جائے تو نہ تو خزانوں پر ڈاکے پڑنے میں کوئی دقت ہوتی ہے اور نہ ہی مجرموں کو سزا ملتی ہے۔ الٹا ان کو مزید انعام ملتا ہے۔
ایک قدیم دیسی حکایت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1199 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar