افسانہ صرف وسی بابا پر نہیں بیتا


ہائیں! دل ہی دل میں خود کو نکال کر ان لڑکیوں سے اتفاق کیا کہ جملہ کلاس کے لڑکے واقعی کمینے ہیں اور ناول کی کاپیاں دینے والے تو مہا کمینے نکلے۔ یہ بھرم مگر پھر بھی قائم رہا کہ اپنے جیسا محبت نامہ کون لکھ سکتا تھا بھلا۔ چھٹی کے وقت محترمہ ہمیں پارکنگ میں ملی جہاں ہماری پھٹپٹیا بھی کھڑی تھی۔ ہم نے بڑے چاؤسے ناول اخبار سے نکالا۔ جیب سے محبت نامہ نکال کر بیچ میں رکھا اور جل تو جلال تو پڑھ کر محترمہ کے پاس گئے۔

ابھی ہم قریب ہی پہنچے تھے کہ محترمہ کھلکھلا کر ہنسی۔ اچھا تو رائٹر صاحب بھی ناول لائے ہیں۔ آج کی یہ پانچویں کاپی ہو گی۔ میرا بیگ تو ناولوں سے بھر گیا۔ ہم تھوڑے ہڑبڑائے، ایک دو قدم پیچھے لئے پھر مرشدی ولادی میر لینین یاد آگئے One Step Forward Two Steps Back۔ ایک ہی قدم میں قریب پہنچے۔ اور عرض کیا، پروفیسرفلاں صاحب کو جانتی ہوں گی آپ؟ جی جی ان کو کون نہیں جانتا، آپ تو شاگرد خاص ہیں ان کے۔ عرض کیا، خیر اس کو ابھی چھوڑ دیتے ہیں۔ فی الحال مدعا یوں ہے کہ یہ جو ناول ہے یہ پروفیسر صاحب کا ہی ہے۔ اور یہ دیکھیں ان کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ہم ذرا وکھرے ٹائپ لوگ ہیں، لڑکی کو ایمپریس کرنے کے لیے کتاب دیتے نہیں بلکہ موقع دیتے ہیں کہ وہ ایمپریس کر سکے۔

what do you mean؟ نازنین بے ساختگی پکار اٹھی۔
آئی مین جی۔ یہ کتاب پروفیسر صاحب کو واپس کرنی ہے۔ آج کینٹین میں خبریں گرم تھیں کہ آپ کے پاس ناول کی تین کاپیاں آ چکی ہیں اور اب تک تو ماشاء اللہ چار ہو گئیں ہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ ایک کاپی ہمیں عنایت کیجیے۔ وہ ایک بار پھر زور سے ہنسی اور بیگ میں سے فوراً ایک ناول نکال کر ہمیں تھما دی۔ ہم نے شکریہ ادا کیا۔ کورنش بجا لائے اور سلاما لیکوم کہا۔
پیچھے سے آواز آئی۔ I am impressed
واپس پلٹے، عرض کیا۔ ناول کی طرح ہم پہلی چائے بھی لڑکی کے پیسوں سے ہی پیئں گے۔ بتا ریا ہوں میں۔ وہ پھر ہنسی۔ پھر یوں ہوا۔ بقول وسی بابا، آگے میں گھٹ ہی بتانا۔ تکا لگاؤ مسلمانو۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah