خواجہ سگ پرست


ہم میں سے ہر ایک نے خوب پانی دیے ہوئے سر سبز و تروتازہ لان کو اندھیرے میں دریافت کیا اور لطف اندوز ہوئے پھر وہاں گھنٹے سوا گھنٹے بیٹھ کر آخری بس سے ہم اپنے اپنے گھروں کو چل دیے۔
ساقی کے قابلِ رشک، آئیڈیل سبزہ زار کی یاد تین چار دن تک ہمیں گھیرے رہی۔

اینٹی کلائی میکس یا رجعتِ قہقری اس وقت ہوئی جب ہم تین دوست ساقی سے ملنے کے لیے اس کے گھر جا پہنچے۔ بینچوں پر بیٹھنے کے ارادے سے مکانوں کی قطار سے نکلے تو سامنے حدِ نگاہ یا کم سے کم دو فرلانگ تک کچا دھول بھرا میدان تھا۔ بے گیاہ ننگی زمین پر کنکر بکھرے پڑے تھے اور چھوٹے چھوٹے بگولے دھول اور تنکوں کے بھنور سے بناتے تھے۔

ہم نے بھنا کر ساقی کی طرف دیکھا۔ وہ بولا، ”اوہو! تم سبزہ زار کو پوچھتے ہو؟ “ پھر دانش مندی سے کہنے لگا، ”وہ تو رات میں بچھایا جاتا ہے۔ صبح ہوتے ہی میونسپل کارندے لپیٹ کر لے جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ہیں ہیں ہیں۔ ۔ ۔ کیسی رہی استاد؟ “

ہمارے اس دور کے ساتھیوں میں قاضی محفوظ کو پیارے ”علامہ الدہر“ یا ”مولانا ابوالکلام“ کہا جاتا تھا۔ قاضی محفوظ کا کمال یہ تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے مشاہدے یا خبر کو علمی جبہ ود ستار پہنا کر علمی مجاہدہ کو مجادلہ بنادیتے تھے یعنی یہ کہ اگر بادل چھائے ہوئے ہیں اور پھہار پڑسکتی ہے تو قاضی میم اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر، منڈی گھماکر اطلاع دیں گے کہ ”مطلع ابر آلود ہے، چنانچہ ترشح کا ہونا ناگزیر و لابدی ہے۔ “ جو بات مشکل زبان میں کہی جا سکتی ہو وہ اسے آسان زبان میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ بہت سے جملوں کے ساتھ وہ ”علیٰ ہذا القیاس“ کا لاحقہ بھی لگاتے تھے چاہے کچھ ہوجائے۔ کہتے تھے اور شاید اب بھی کہتے ہوںکہ ”علیٰ ہذا القیاس“ کہہ دینے سے ”مشاہدے کی تشہید میں وقوف حاصل ہوجاتا ہے۔ ۔ ۔ “ یا خدا جانے کیا ہوتا ہے۔

تو ایسی علمی مقطع چقطع صورتِ حال میں اپنے قاضی محفوظ سن چون سے سن اٹھاون تک ہم دوستوں کو اسد صاحب، احسان صاحب کہہ کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔ ہم لوگ بھی جواباً انھیں ”محفوظ صاحب“ کہا کرتے تھے اور کیا؟ جیسے کو تیسا۔

”سبزہ زار“ والے واقعے کے تیسرے روز کہ ساقی کے ساتھ ساتھ ہمارے مراسم بالکل نئی ”سطح مرتفع“ مرتب کرہے تھے۔ معاف کیجیے۔ ۔ ۔ ”ترتیب پذیر ہونے کی جانب مرفوع تھے۔ “ اور ہم قاضی محفوظ کے گھر میں بیٹھے رَوے کا حلوہ کھارہے تھے کہ اچانک ساقی نے چہرہ سرخ کرکے ڈپٹ کر کہا، ”اسٹاپ!“

حلوے کا ہنگام تھا، کچھ لوگوں نے ہاتھ کھینچ لیا، رک گئے، بعض نے پروا بھی نہ کی تو ساقی نے خود کو اور مشتعل کیا اور بولا، ”سنو! لاریب کہ اندر صحن تک میری آواز پہنچ سکتی ہے اور صحن میں امی (قاضی محفوظ کی امی) ہوں گی اور مینا ہوگی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ ہم سب گلیارے میں چلیں۔ “

ہم سمجھ گئے کہ وہ سب کو گلیارے میں کیوں لے جانا چاہتا ہے۔
کوئی ایسی بات ہوگئی تھی جس پر ساقی فاروقی کو گالی گلوچ کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔

ہم میں سے بعض نیم دلی سے اٹھ کر گلی میں آگئے بعض نے روے کے حلوے سے ہاتھ کھینچنا پسند نہ کیا۔ کمرے میں ہی بیٹھے رہے۔ خیر ساقی نے گلی میں نکل آنے والوں کے سامنے ایک مختصر سی تقریر کی، کہنے لگا:

”نیک بختو! “ ( ان سطور میں نیک بختو، بد نصیبو، طوطیان شیریں مقال وغیرہ کو ناشر کی معذوری سمجھنا چاہیے۔ ساقی نے جو اسمائے تخاطب استعمال کیے وہ فی الحال ضبط تحریر میں نہیں لائے جاسکتے) تو کہنے لگا، ”نیک بختو! تم ایک قعرِ مذلت میں پڑے ہوئے تھے۔ میں آیا، میں نے دیکھا، اور سالو میں نے تمھاری اصلاح کا ارادہ کیا۔ ۔ ۔ “

اب وہ یونانیوں کے خطیبانہ اسلوب میں ایک ایک سے سوال کرنے لگا”۔ ۔ ۔ اور مجھے اس کے بدلے میں ملاکیا؟ “
کسی نے رواروی میں کہہ دیا، ”حلوہ۔ ۔ ۔ حلوہ ملا سالے تجھے!“ تو ساقی ذاتی طور پر اشتعال میں آگیا۔ خیر، ہاتھا پائی تو وہ کرتا نہیں۔ کچھ دیر بعد ”نارمل“ ہوا توکہنے لگا۔

”بدنصیبو! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم آج تک اجہل الجاہلین حلال زادوں کی طرح ایک دوسرے کو اسد صاحب، محفوظ صاحب، ارشاد صاحب، کہہ کر پکارتے ہو۔ ارے پانچ پانچ چھ چھ برس کی دوستیاں ہیں اور اب تک۔ ۔ ۔ ہیہات! اب تک یہ حرام زدگی چل رہی ہے؟ تف ہے!“

کسی نے بات ختم کرنے کو کہا، ”یا ہادی! ہم نام نہ لیں تو ایک دوسرے کو اور کس طرح پکاریں؟ تم ہی بتاؤ ٔ نمبر شمار مقررکرلیں اور نمبروں سے بلائیں ایک دوسرے کو؟ ایک؟ “

ساقی نے سر پیٹ لیا، بولا ”کندہ ٔ ناتراش، سالے، طوطیِ شیریں مقال! ارے نمبروں سے کیوں پکارو؟ میرے بچو نام تم لوگوں کے بہت خوبصورت ہیں۔ بہ خدا مجھے ناموں سے کوئی کد نہیں مگر یہ جو ”صاحب“ لگاتے ہو آخر میں، یہ کیا ہوگیا ہے تم کو؟ بدنصیبو! ارے دوستو کے درمیان آپ جناب کا حجابِ ذلیل کہاں ہوتا ہے؟ سالو! دوست تو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں اور وہ کیا کہتے ہیں بے حجاب اور بے محابہ۔ ابے کچھ خبر بھی ہے؟ اپنے جوش صاحب تو پرنس معظم یا مکرم جاہ کے حوض میں اپنے دوستوں کی معیت میں حالتِ بے ستری میں بے خطر کود پڑتے تھے اور ایک تم ہو سالو! ننگ ِ اسلاف، کہ ایک دوسرے کو ”صاحب“ کا غلاف اڑھاتے ہو۔ صد ہزار افسوس!“

ساقی آب دیدہ ہوچلا تھا اور گلی میں کھڑا غصے سے کانپ رہا تھا اس لیے ہم نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا اور وعدہ کیا کہ اب ایک دوسرے کو ”صاحب“ پکار پکار کے ذلیل و رسوا نہیں کریں گے۔ چنانچہ وہ دن ہے اورآج کا دن۔ ۔ ۔ اور اس کا کریڈٹ ساقی ”صاحب“ کو جاتا ہے۔

اب جبکہ وہ اس مختصر گروہ کا ”والدین“ بن بیٹھا تھا تو ہمیں مزید مطیع و مرعوب کرنے کے ارادے سے اس نے فیصلہ کرلیا کہ ہم سب کو رائٹرز گلڈ کے اس اہم اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے جس میں مصور فیضی رحمن اور عطیہ بیگم فیضی تشریف لارہے ہیں۔ ہم نے عذر پیش کیا کہ بھئی ہم لوگ کیا کریں گے جاکر، ہم تو گلڈ کے ممبر نہیں ہیں۔ پھر بعض نے ابھی دو ڈھائی ماہ سے لکھنا شروع کیا ہے۔ بعضے لکھتے لکھاتے بھی نہیں، صرف پڑھتے ہیں۔ ایک تو ایسا ہے جو پڑھتا بھی نہیں بس ”منہ زبانی“ تیرا کلام سن لیتا ہے، داد تک نہیں دیتا۔ تو گلڈ کے جلسے میں ہمیں کیوں لے جارہا ہے بھائی؟ “

ساقی نے اس ”کیوں“ کے جواب میں وجوہ گنانی شروع کیں جو کچھ اس طرح تھیں: کہ ”اوّل یہ کہ میرا حکم ہے اس لیے چوں و چراں کی گنجائش نہیں۔ دوم میں رائٹرز گلڈ کا فاؤ ٔنڈر ممبر یعنی بنیادی رکن ہوں، میں جس کو چاہوں لے جاسکتا ہوں۔ امام بخش صاحب پہلوان بھی میرے ساتھ اجلاس میں داخل ہو جائیں تو کوئی ”چوں“ نہیں کر سکتا۔ “

ہم نے کہا ”امام بخش صاحب تو کابینہ تک کے اجلاس میں داخل ہوسکتے ہیں، کوئی چوں نہیں کرے گا۔ ہاتھ پیر نہیں تڑوانے کسی کو۔ “

ساقی نے کہا ”بدتمیزی مت کرو، بات سنو، میں تم سب کو اپنی شان و شوکت دکھانا چاہتا ہوں۔ تم لوگ ابھی میرے عظیم شاعرانہ رتبے کے قائل نہیں ہوئے ہو۔ میں چاہتا ہوں تم گلڈ جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھو لو جو دبدبہ اور شکوہ میرا ہے۔ “

ہم نے کہا ”ہم قائل ہوچکے ہیں اور دبدبے کے سلسلے میں یہ سن چکے ہیں کہ تم نے ایک محترم نقاد، ایک سینئر شاعر کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا تھا کسی بات پر۔ “
کہنے لگا”وہ اور بات تھی اور محترم کا لفظ یہاں غور طلب ہے۔ دیگر یہ کہ میں نے جھٹکا نہیں دیا تھا۔ جس نے یہ واقعہ اس طرح سنایا وہ راوی ضعیف اور گردن زدنی ہے۔ نام بتاؤ ٔ اس کا؟

ہم نے کہا”ہم پاگل نہیں ہیں اور عہد شکنی بھی نہیں کرسکتے۔ راوی نے اپنے سفید سر پر ہاتھ رکھوا کر ہم سے قسم کھلوائی تھی کہ اس کا نام تم پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ “
یہ سن کر ساقی خوش ہوا شاید اس لیے کہ گلڈ لے جائے بغیر اس کی ”دہشت“ ہم پر منکشف ہو رہی تھی۔
خیر اسے اور خوش کرنے کو ہم گلڈ کے جلسے میں پہنچ گئے۔

جلسہ گاہ بنیادی اراکین اور ان کے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں سے بھری پڑی تھی۔ اس جلسے میں ساقی نے کوئی خاص جگلری نہیں دکھائی۔ اپنی ”سینیاریٹی“ اور شہرت (بری بھلی دونوں قسم کی) کی سنہری آنچ میں لوگوں کے درمیان ہمیں لیے ٹہلتا رہا۔ بیگم عطیہ فیضی کے روبرو شولری کے سکہ بند اصولوں کے مطابق اپنے شکم پر ایک ہاتھ رکھ کر جھکا، کہنے لگا، ”بیگم صاحب! کمال حسین لگ رہی ہیں آپ۔ “

بیگم عطیہ فیضی کی بینائی جواب دیتی جارہی تھی۔ انھوں نے سرمہ لگی آنکھوں سے اس کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کی، پھر سیکریٹری گلڈ سے پوچھا، ”میں اس لڑکے کو پہچانتی نہیں، کون ہے یہ؟ بہت مہذب ہے۔ “

سیکریٹری گلڈ نے کہا، ”بیگم صاحبہ! ساقی ہے۔ شاعر ساقی فاروقی۔ “
”شاعر!“ عطیہ بیگم نے دہرایا۔ ”اچھا یاد آیا۔ خوب شاعر ہے۔ بہادر اور منحرف۔ ۔ ۔ مگر یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔ “

ساقی داد وصول کرتے ہوئے ہنسا”آداب عرض کرتا ہوں! اب آپ اور حسین لگ رہی ہیں بیگم صاحبہ۔ ہہ ہاہا۔ “
عطیہ بیگم روشن آنکھوں سے مسکراتی آگے بڑھ گئیں۔
ساقی نے ہمارے پاس پہنچ کر کہا ”دیکھ لیا سالو؟ “

بعد میں ”جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا“ کے ضمن میں ساقی ہمیں قائل کرتا رہا کہ وہ اگرمولانا شبلی، علامہ اقبال اور عطیہ بیگم فیضی کے عہد زریں میں ہوتا تو عطیہ بیگم کے سلسلے میں حضرت علامہ اور جناب شمس العلما دونوں کا چراغ نہ جلنے دیتا بلکہ عین ممکن تھا کہ اپنے فیضی رحمن صاحب کی ریاضتیں بھی رائگاں جاتیں۔
ایسا خبیث آدمی تھا یہ اس زمانے میں۔

یہ ہمیں دوسری اور آخری بار گلڈ کے دفتر میں لے گیا تو وہاں فخر سلطنت، جناب فردوسی بہ نفس نفیس موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر ساقی نے ہم سے کہا”ذرا خیال رکھنا۔ آج بہت سی باتیں ایسی ہوں گی جن سے میں اشتعال میں آسکتا ہوں۔ “

ہم میں جس کی صحت سب سے اچھی تھی اس نے ساقی سے کہا”ذرا تم بھی خیال رکھنا کیونکہ میں مشتعل ہوئے بغیر گدی میں ہاتھ دے کے آدمی کو ادھر ادھر لے جانے کی مشق کررہا ہوں۔ “
ساقی فاروقی فقرے کی سنگینی کو سمجھ گیا۔ اس کی صحت اس زمانے میں بھی کوئی زیادہ قابل رشک نہیں تھی۔

جلسہ شروع ہوا تو صدر میں صوفے پر بیٹھے ہوئے فخرِ قوم جناب حفیظ جالندھری نے حسب معمول چھوٹے چھوٹے بظاہر بے ضرر فقروں سے کارروائی میں رخنے ڈالنا شروع کردیے۔ کوئی رپورٹ پڑھی جارہی تھی جس سے حاضرین بیزار ہو رہے ہوں گے۔ فخرِ سلطنت کے فقروں کی حوصلہ افزائی کیے بغیر لوگوں نے دبی آواز میں ہنسنا، سرگوشیاں کرنا، اونچے سر میں کھانسنا اور جماہیاں لینا شروع کردیا تھا۔ فخرِ سلطنت جناب فردوسی کو گمان ہوا کہ یہ پھلجھڑیاں ان کے ”ذہین“فقروں کے سبب سے چھوٹ رہی ہیں، انھوں نے اور تیزی سے فقرے مارنا شروع کردیے۔ ساقی نے ہم سے کہا”میں بتدریج طیش میں آرہا ہوں۔ عین ممکن ہے، اس شخص کی بے جا اور بے کیف مداخلت پر مکمل ساقیانہ جلال میں آجاؤ ٔں۔ آگاہ کیے دیتا ہوں پھر نہ کہنا۔ “

ہماے اچھی صحت والے ساتھی نے کہا”آگاہ اپنی موت سے کوئی بشرنہیں اور یہاں ”کوئی بشر“ سے مراد تم ہو ساقی فاروقی۔ اس لیے سکون سے بیٹھنا۔ گڑبڑ بالکل نہ کرنا۔ “
ساقی چپ ہورہا۔ اس کھلی چیتاؤ ٔنی کے جواب میں کیا کہہ سکتا تھا؟

خیر رپورٹ ختم ہوئی۔ کسی نثر نگار نے کچھ پڑھا پھر اس پڑھے ہوئے پر بات چیت کی دعوت دی گئی تو سب سے پہلا آدمی جس نے اس نثر پارے کے بخیے ادھیڑنا شروع کیے، ساقی فاروقی تھا۔ ساقی کی یہ جارحانہ کارروائی اصلاً ہمیں متاثر کرنے کے لیے تھی۔ اب یاد نہیں رہا کہ نثار کون تھا؟ ہر نئے جملے پر بے چارہ حیران ہوکر ساقی کا منہ تکنے لگتا تھا جیسے کہہ رہا ہو ”بروٹس! تم بھی؟ “

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” پر کلک کریں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4