خواجہ سگ پرست
جملہ وفاداریاں بھول کر ساقی اس کا جھٹکا کرنے پر تل گیا تھا۔
نثر پارے پر ساقی کے اعتراضات کے جواب میں کسی نے کچھ کہا۔ پھر فخرِ سلطنت جنابِ فردوسی نے صدر میں بچھے ہوئے صوفے پر سے کچھ کہنا شروع کیا، ہم سمجھ گئے کہ نقصِ امن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
فردوسی نے کہنا شروع کیا ”میں جب روس میں تھا۔ ۔ ۔ “ آگے انھوں نے بتایا کہ وہ جب روس میں تھے تو وہاں کون سی چیز کس طرح تھی۔
ساقی نے کہا، ”میں اپنے فاضل دوست فخرِ قوم ملک ملت جناب فردوسی سے۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔ “
ساقی انھیں اپنا دوست کہہ رہا تھا جب کہ فردوسی کی عمر شاید ساٹھ سے تجاوز کرچکی تھی، ساقی پورے بیس کا بھی نہ ہوگا۔
جواباً فردوسی بولے ”جب میں روس میں تھا تو۔ ۔ ۔ “ اور انھوں نے پھر یہ واضح کیا کہ اس وقت روس میں کیا کچھ کس طرح تھا۔
ساقی نے بے نیازانہ ایک ایسا فقرہ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ فاضل دوست فردوسی اس مغالطے میں رہتے ہیں کہ وہ چیزوں کو اور چیزیں انھیں سمجھ سکتی ہیں۔
ساقی حد سے تجاوز کرگیا تھا۔ فخرِ سلطنت جنابِ فردوسی نے کڑک کر کہا ”صاحب زادے! میں نے روس میں۔ ۔ ۔ “
ساقی نے جملہ پورا نہ کرنے دیا، ڈپٹ کر کہا ”اسٹاپ! مسٹر فردوسی پلیز اسٹاپ! ذہین ادیبوں، شاعروں کا یہ اجتماع!“ ساقی نے جھاڑوکی طرح اپنا ہاتھ سوئیپ کرتے ہوئے جملہ حاضرین کو روغنِ قاز مل دیا۔
بولا ”یہ ذہین اجتماع حلق تک اس اطلاع سے بھر چکا ہے بلکہ اب تو ابل رہا ہے، اس خبر سے مسٹر فردوسی کہ آپ سرکاری خرچ پر بالآخر روس بھی ہو آئے۔ “
حلقہ بگوشوں میں سے کسی نے برابر کے صوفے سے سر ابھارا، کہا، ”ساقی! کیا بدتمیزی ہے؟ “
ہمارے عقب سے بھی کسی نے حلقہ بگوشی کی ”شرم کرو! شرم کرو مسٹر!“
برابر سے ایک صاحب ”چچ چچ“ کے ساتھ افسوس کرتے ہوئے بولے ”فخرِ قوم ملک سلطنت جنابِ فردوسی دوراں کے ساتھ یہ سلوک ناقابل برداشت ہے۔ مسٹر فاروقی، آپ کو معافی مانگنی ہوگی۔ “
ساقی کے خلاف بغاوت پھیلتی جارہی تھی۔
ہمارے اچھی صحت والے ساتھی نے ساقی کے کان میں کہا، ”شریف زادے! تو ہمیں بھی مروا دے گا۔ “
دوسرے نے کہا”اب مرو بھی، اٹھو اور اپنی لاش لیے بھاگ جاؤ ٔ جلدی سے۔ چلو۔ سو ٔر!“
مگر ساقی۔ اپنی ننہال کی فاروقی نسبت کے ساتھ، اب پورے قامت سے تن کر اٹھ کھڑا ہوا اور اصیل لفظوں کی تمام جارحیت کے ساتھ اس نے دم سادھے ہوئے آڈی ٹوریم میں چھ سات منٹ مسلسل تقریر کی۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ پچھلی جنگِ عظیم کی حنوط کی ہوئی لاشوں کو ایک زندہ اور متحرک اور سیماب صفت نسلِ نو پر مسلط کردیا گیا۔ جوایک ارضِ نو شگفتہ کی کچی کونپل امنگوں کی نمائندگی کررہا ہے، یہ شغال ٹولہ جو ٹوڈیوں کا پروردہ ہے۔ ۔ ۔ کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد اور فیض صاحب کو ریڈیو پاکستان سے بین کردیا گیا ہے، ان کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا وہاں اور بے مغز خالی کھوکھے یہاں سے ارضِ چین تک بجتے چلے جاتے ہیں۔ کہنے لگا ”یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ حاضرین میں ان غلط کاریوں، غلط بخشیوں کا خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔ نو!“
حلقہ بگوش صفوں سے کسی نے لفظ غلط کاریوں پر کھیلتے ہوئے ساقی کے غیر محتاط لڑکپن پر حرف زنی کی۔ سیکریٹری گلڈ نے (یا جو بھی ان کا عہدہ تھا) ساقی کو یاد دلایا کہ یہ ادبی مجلس ہے، اس فورم پر سیاسی گفتگو نہیں کی جا سکتی۔ ہم نے اپنے میزبان ساقی فاروقی کی آستین کھینچی”چل۔ ۔ ۔ ! یہ کس پھڈے میں ڈال دیا ہمیں۔ “
اس کی آنکھیں روشن اور سر اور گردن کا زاویہ کشیدہ تھا۔ اسٹیج وہسپر میں یعنی دور تک سنائی دیتی سرگوشی میں بولا، ”طوطیِ خوش الحان سالے! دیکھتا نہیں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ تو یہاں شعر لکھنے آیا تو اب سیکھ لے کہ۔ ۔ ۔ سکوں کے بیوپاریوں کو خداوند کی ہیکل سے کیسے آو ٔٹ کیا جاتا ہے۔ اب یہ بھی سیکھ۔ “
مگر رائٹر گلڈ کا دفتر خداوند کی ہیکل نہ تھا اور نہ ہی شعر و ادب کی مملکتیں کسی فوج کشی سے جیتی جاسکتی ہیں۔ ساقی فاروقی کو بالآخر اس ”چوہا دوڑ“ کو سمجھنا اور کبھی کبھی اس میں شامل ہونا پڑا جو زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب میں بھی جاری و ساری ہے۔ شاید وہ پہلے بھی ایک چھوٹی موٹی چوہا دوڑ جیت چکا تھا کہ گلڈ کے ائیرٹکٹ پر ڈھاکے کا ایک چکر لگا آیا تھا، اس نے ایک نظم لکھی تھی، قطار اندر قطار پٹ سن کے نرم پودے۔ ۔ ۔ ہاں روس، چین نہیں جاسکتا تھا۔ تو وہ غصہ بہ دستور اپنی جگہ تھا۔
بعد کو اردو مرکز، بی سی سی آئی یا ”سوغات“ بنگلور کے سلسلے میں ساقی نے جو قلم کاریاں کیں انھیں روس چین محرومی، جمع استحقاق، جمع توقعات کے سلسلے کی شکستہ کڑیاں سمجھنا چاہیے۔ میں اس کی وکالت نہیں کررہا مگر شاید ساقی ابھی تک انوکھا لاڈلا بنا ہوا ہے، کھیلنے کو چاند مانگتا رہتا ہے۔ شاید ممتاز حسین، مدنی، سلیم احمد، اطہر نفیس اور ایسے بے شمار لوگوں نے بشمول راقم اسے لاڈ کر کر کے بگاڑ دیا۔ خیر چھوڑیے۔ ایک قصہ اور سنیے۔
ساقی سناتا تھا کہ ایک بار گلڈ کے کسی عظیم الشان اجلاس کے دوران (فاؤ ٔنڈر ممبر ہونے کے ناتے) وہ ڈرائیور سمیت گلڈ کی ایک گاڑی ہتھیانے میں کامیاب ہوگیا اور ڈرائیورکو لے کر کسی عزیز، کسی دوست یا کسی محبوبہ کے گھر جا پہنچا اور اپنی شان و شوکت دکھا کر وہاں سے دو گھنٹے بعد لوٹا۔ گلڈ کے عہدے دار (نام ان کا تاج صاحب فرض کرلیجیے) نے لاہور، پشاور، ڈھاکے، کوئٹے سے آئے ہوئے مندوبین کی موجودگی میں (انتظامیہ سے مخصوص) جھلاہٹ اورر عونت کے ساتھ ساقی سے جواب طلب کیا کہ ”مسٹر ساقی فاروقی آپ کس اتھارٹی سے گلڈ کا ڈرائیوراور گاڑی لے گئے تھے؟ “
ساقی غصے میں سانولے سے سفید ہوگیا مگر حالات سازگار نہیں تھے۔ اس نے دائیں بائیں، آگے پیچھے دیکھا۔ اس کی ذلت و خواری کوئی بیس مندوبین کے روبرو ہوئی تھی۔ وہ اس کا نام سن کر متوجہ ہوئے تھے اور اسے پہچان بھی گئے مگر وہ گلڈ کے عہدیدار تاج کی آفیشیل پوزیشن کے رعب و داب کو بھی تسلیم کرچکے تھے کیونکہ تاج نے ساقی جیسے معروف شاعر کو ڈانٹ دیا تھا جبکہ تاج (بقول ساقی) بہت برے شاعرتھے بلکہ سرے سے شاعر تھے ہی نہیں۔
ساقی نے دیکھا کہ آڈی ٹوریم لوگوں سے بھرتا جارہا ہے ایک ٹیکنیشین مائیکرو فون ٹیسٹ کررہا تھا۔ ٹھن ٹھن، ہیلو ہیلو، ون ٹو تھری کیے جارہا تھا۔ ساقی نرمی کے ساتھ تاج کا ہاتھ تھامے اسے ڈائس پر، پھر مائیکرو فون کی رینج میں لے آیا۔ ساقی بہت نرمی سے بڑبڑاتا ہوا آیا تھا کہ یار تاج بات سنو۔ قصہ یہ ہے کہ، یار بات سمجھا کرو۔ ۔ ۔ وہ اس لیے۔ ۔ ۔ وہ اس لیے کہ تاج کو اس کے اصل عزائم کا علم نہ ہونے پائے۔ جوں ہی یہ لوگ مائیک کے دائرہ ٔ اثر میں پہنچے، ساقی نے ٹیکنیشین کو آہستگی سے ہٹایا اور قرونِ وسطیٰ کے درباری نقیبوں کی سی ٹھنٹھناتی ہوئی آواز میں براہِ راست مائیک کو مخاطب کیا کہ” تاج محمد فلانے جائنٹ سیکریٹری (یا جو بھی عہدہ تھا) پاکستان رائٹرز گلڈ، یونانی کتوں کے مورثِ اعلیٰ، کفن چور، حلال زادے، عجمی گونگے تیری یہ مجال کہ تو ساقی فاروقی سے گاڑیوں، ڈرائیوروں کے بارے میں جواب طلب کرے“ پھر اس نے اپنے سلسلے میں لاف زنی کی کہ ”میں ساقی فاروقی عربی الاصل ہوں۔ صاحبِ لسان ہوں، ایسا زبردست شاعر ہوں کہ اللہ اللہ اور وغیرہ وغیرہ اور فرہاد تک ”رکھ کے تیشہ کہے کہ یا استاد“ اور تونے اب تک کیا لکھا ہے؟ تاج محمد فلانے ہیچ پوچ سالے! دشت گم نامی کے چراغِ کشتہ۔ “
ساقی کی سینچورئین آواز چالیس لاؤ ٔڈاسپیکروں سے نشر ہوئی اور چار ہزار کے مجمعے نے سنی جبکہ تاج محمد فلانے کی کڑوی جھنجھلاہٹ بیس آدمیوں تک ہی پہنچ سکی تھی۔
ساقی کا انتقام پورا ہوچکا تھا۔ یہ قصہ سنا کر ساقی کہنے لگا، ”پیارے! یہ ہوتی ہے غصے کی حکمتِ عملی!“
وہ شاید چاہتا ہوگا کہ انسان کو اپنے غصے اور اپنے پیار کی حکمت عملی خوب سوچ سمجھ کر تیار کرنی چاہیے کہ کہیں یہ قیمتی اثاثہ دشت میں کھلی ہوئی چاندنی کی طرح ضائع نہ ہوجائے۔ (میں نے غصے کی حکمتِ عملی کے قصے سنادیے۔ اس کے پیار کی حکمتِ عملی کا ایک بھی واقعہ نہیں سناسکتا۔ میں محتاط روایتوں کا آدمی ہوں۔ خود ساقی چاہے تو مجلے ”راوی“ بریڈ فرڈ والے مضمون کی طرح پاکستان، ہندوستان میں بھی اول فول چھپواسکتا ہے، اس کی مرضی۔ )
خیر تو ساقی نے کہا۔ ”پیارے! یہ ہوتی ہے غصے کی حکمتِ عملی!“ مگر ٹھہریے یہ باتیں ساقی کے ”اقوالِ زریں“ کے شعبے میں آئیں گی۔ ۔ ۔ جب بھی وہ شعبہ کھلے۔ میں تو اس وقت اس شخص کی کھری اور کھوٹی، اوندھی اور کج، خبیثانہ اور آدمیوں جیسی، گہری اور الجھی باتیں یاد کرنا چاہتا ہوں۔ میں کیوں اس کے لیے اقوالِ زریں ڈرافٹ کروں؟ اقوال زریں تیار کرنے کا کام خود ساقی کا ہے اور اس کے پاس ابھی بہت وقت ہے۔ وقت ہی وقت پڑا ہے، اپنی کلیات چھپوا کر بیٹھا ہے وہ۔ اب تو شعر بھی نہیں کہہ رہا۔ تو بس اب دن بھر بیٹھا اقوال زریں گڑھتا ہے سسرا۔
نوٹ: قارئین اور خود صاحب ِ موصوف جان گئے ہوں گے کہ یہ ایک صدیقی، فاروقی، نسبتوں والے عربی الاصل کے لیے مہمیز کے کلمات ہوسکتے ہیں تاکہ وہ اٹھ کھڑا ہو اور لکھتا رہے۔ ۔ ۔ عزیز حامد مدنی کی طرح، سلیم احمد اور اطہر نفیس کی طرح لکھتا رہے۔ اپنی آخری سہ پہر تک۔
سید سلیم احمد کا من موہنا نام پھر درمیان میں آگیا ہے اور اطہر نفیس کا بھی۔ جہانگیر روڈ کے شب و روز یاد آتے ہیں مگر وہ بیان کیے جانے کے لیے الگ الگ پوری داستان ہے۔
ساقی پہلی بار ہمیں سلیم بھائی کے گھر جہانگیر روڈ لے گیا تو اس نے اس واقعے کو تقریب کی طرح ٹریٹ کیا۔ کہنے لگا ”آج میں تجھے کسوٹی پر گھس کر دیکھوں گا کہ تو زر خالص ہے یا پیتل ویتل ہے۔ آج تجھے سلیم خاں کے سامنے نظمیں پڑھنا ہوں گی۔ “ پھر کہنے لگا” سید سلیم احمد کو اعزازی خان مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ’ایک‘ جلالی سید اور مخدوم زادے ہیں تو انھیں اپنے جیسا ”چ“ نہ سمجھ لینا۔ اور خبر دار! عمر کے کسی حصے میں سلیم احمد کو تو سلیم خاں نہ کہنا۔ ہاں بیٹا، حذر بکنید! سلیم خاں پکارنے کایہ استحقاق گنتی کے لوگوں کو حاصل ہے، اس لیے اے پسر! تا عمر اپنی زبان کو لگام دیتا رہیو۔ “
اور ساقی نے اطہر نفیس سے ملوایا۔ مجھے ہدایت کی کہ اس شخص کے ساتھ تو وفا کرنا اس لیے کہ یہ اول درجے کا وفا سرشت ہے۔ کہنے لگا کہ تم دونوں کو اس لیے بھی ملا رہا ہوں کہ سوریہ ونشی راجپوتوں اور اچک زئی پٹھانوں میں ایک چیز مشترک ہے یعنی وہی وفا وغیرہ تو بیٹے میرے نام کو بٹہ نہ لگانا ورنہ یہ سوریہ ونشی مزاج کے کڑے بھی بہت ہوتے ہیں۔ تونے کوئی حرم زدگی کی اور ادھر راجپوتانی”جہالت“ نے غلبہ کیا تو کنور اطہر علی خاں پیٹ پھاڑ کے تیرا ”جوہر“ کر دے گا اور پھر تا عمر کفِ افسوس مل مل کر گریہ کرے گا۔
تو ساقی فاروقی نے ان دونوں سے ملوایا اور پلک جھپکتے میں یہ صحبت تمام ہوئی۔ خبر نہیں اس ملاقات کو دو تین دہائیاں گزری ہوںگی یا دو تین ساعتیں کہ وہ سید صاحب اور وہ کنور صاحب ملکِ بقا کو روانہ ہوئے۔ بس دوہالے روشنی اور خوشبو کے یہیں کہیں آس پاس موجود ہیں۔
ساقی کے انگلستان ہجرت کرجانے کو دل سے نہ سلیم احمد نے پسند کیاتھا نہ اطہر نفیس نے۔ مگر دونوں کا خیال تھا کہ اگر یہ نہ جاسکا تو اس کے ہاں اس درجے کا فرسٹریشن پیدا ہوگا کہ پھر یہ سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ اس کا شاعر واعر سب ختم ہوجائے گا۔
قاضی محفوظ نے جو پاسپورٹ آفس میں نوکر تھا، اس کا پاسپورٹ بنوایا۔ بھائی ارشاد نبی نے جو ساقی سے چند ہی برس چھوٹا تھا اور اس سے پہلے لندن جا بسا تھا، ساقی کے لیے مستند کنجڑے اور قصاب کا اجازت نامہ ٔ سفر و رہائش بھیج دیا۔ اب ایک ہی مسئلہ رہ گیا تھا اور وہ تھا ایئر ٹکٹ کے پیسوں کی فراہمی۔
(مرحوم) ڈاکٹر التفات نبی نے اپنی بیگم کے اور اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے (ان کے تین بیٹے دو بیٹیاں ہیں) بہت سے خواب دیکھے ہوں گے۔ ہر آدمی دیکھتا ہے۔ ایک خواب یہ بھی تھا کہ اپنے ذاتی مکان میںر ہا جائے۔ نارتھ ناظم آباد میں اچھے خاصے قطعہ ٔ زمین پر ایک مکان ہاؤ ٔس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے تعاون سے بن بھی رہا تھا، وہ بن گیا۔ سب جا بسے اس گھر میں کہ ناگاہ ساقی نے فیصلہ سنادیا ”میں لندن جارہا ہوں، پڑھوں گا۔ “
مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” پر کلک کریں

