خواجہ سگ پرست
گھر میں کیا ہوتا رہا اور کیا ہوا، یہ ایک آبرو مند گھرانے کا انتہائی ذاتی مالیاتی معاملہ ہے۔ دوستوں کو بھی کیوں معلوم ہو۔ ہاں ایک روز ساقی بہت پژمردہ سا آکر بیٹھ گیا، ہم نے پوچھا تو کہنے لگا”میں نے آج زندگی میں پہلی بار ابا کی توہین کی ہے، میں اس وقت اپنی ذلت خواری کے جہنم میں جل رہا ہوں، لعنت ہے مجھ پر۔ “
تفصیل ہم لوگ کیا پوچھتے، اس نے خود ہی اپنا بوجھ ہلکا کردیا۔ کہنے لگا ”ائیر ٹکٹ کے پیسوں کی فراہمی کے بارے میں ہر طرف سے ابا پر دباؤ ٔ ڈلوارہا تھا آج سویرے انھوں نے جھنجھلا کر کہا”ساقی!“ (وہ اسے ساقی کہتے تھے، اس کے شاعر ہونے پر فخر کرتے تھے) کہنے لگے ”ساقی! پیسوں کی فوری فراہمی کی دو صورتیں ہیں یا تو میں پانچ ہفتے کا بسا ہوا یہ گھر بیچ دوں یا جو کام کبھی نہیں کیا وہ کروں۔ ۔ ۔ رشوت لینے لگوں!“
ساقی نے بڑی اداسی سے بتایا کہنے لگا ”یار میں نے بہت لائٹلی ہاتھ لہرا کے کہہ دیا کہ رشوت لے لیجیے، سبھی لے رہے ہیں۔ پتا ہے کیا ہوا؟ میری یہ بے ہودہ بات سن کر ابا حیرت سے میری صورت دیکھتے رہ گئے پھر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ لعنت ہو یار! میں ایک شریف آدمی کی عمر بھر کی ریاضت کو گالی دے کر آرہا ہوں۔ “
خبر نہیں کہاں سے، کس طرح انتظام کیا گیا۔ ہم نے آج تک نہیں پوچھا۔ تاہم ٹکٹ کا بندوبست ہوا۔ ہونا ہی تھا اور ایک دن بھینس کے چمڑے کا نیا سوٹ کیس اٹھائے شمشاد نبی ساقی فاروقی ایئر پورٹ پہنچ گیا۔
ہوائی کمپنی کے کاؤ ٔنٹر پر ایک سفید فام خاتون بیٹھی تھی۔ ورناکیولر میں اپنی طاقت لسانی کے جوہر دکھانے والا ساقی کاؤ ٔنٹر تک پہنچتے پہنچتے کھانسنے لگا۔ بہ مشکل منھ سے رومال ہٹا کر بولا، ”اس سے معلوم کرو کہ جہاز کی روانگی کا وقت بدلا تو نہیں؟ “
ہم نے خباثت سے کہا ”تو خود پوچھ بیٹا!“ پہلی بار اس کی گدی ہمارے ہاتھ میں آئی تھی۔
وہ آنکھیں نکال کر بولا”بدتمیزی مت کرو۔ دیکھ نہیں رہے سالے، مجھے کھانسی آگئی ہے۔ “
”ہاہاہا“ ہم نے کمینگی کا قہقہہ لگایا۔ ”لوگو! یہ سالا پینڈو انگریزوں کے شہر لندن جارہا ہے!“
” مگر اس واقعے کے 28 برس بعد جولائی 1991ءمیں بریڈ فورڈ میں برطانوی آرٹس کاؤ ٔنسل کا لٹریچرڈائرکٹر، ڈاکٹر السٹیئر نی وین میرا افسانوں کا مجموعہ بریف کیس میں رکھتے ہوئے خوش ہوکر مجھے بتا رہا تھا کہ لندن میں اس کا ایک دوست ہے” سے کی فے روکی“۔ تو یہ مجموعہ وہ”سے کی“ کے حوالے کردے گا اور کئی گھنٹے پر محیط تعارفی سیشن میں ساقی فاروقی ڈاکٹر نی وین (Niven) کو سامنے بٹھا کر اس مجموعے کے محاسن پر روشنی ڈالے گا۔ وہ کہنے لگا ”ایک صاحب نظر آدمی کی مدد سے میں آپ کی کہانیوں سے متعارف ہوں گا مسٹر خان۔ ساقی فاروقی کو تو آپ جانتے ہوں گے مسٹر خان؟ “
میں نے کہا”جی کم و بیش!“ اور مجھے کھانسی آگئی۔
اس سالے کی گدی اس وقت بھی آزاد تھی اور اٹھائیس برس پہلے بھی میرے ہاتھ نہیں آئی تھی۔
لندن میں اڑتی اڑتی یہ خبر سنی کہ ساقی کو اس کی انگریزی شاعری پر یا شاید اردو یا دونوں زبانوں کی شاعری پر نقد انعام دیا جانا ہے۔ شاید چار ہزار یاچالیس ہزار پاؤ ٔنڈ اسٹرلنگ۔ یہ بات ایک ایسے آدمی نے سنائی جو ساقی سے خوش نہیں تھا۔ اس نے دبی زبان سے اور شماتتِ ہمسایہ کے سے انداز میں مجھے بتایا کہ ناپسندیدہ مصنف سلمان رشدی نے بھی ساقی کی لکھی بعض انگریزی نظموں کی تعریف کی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے گسٹاپو کے اسٹائل میں آنکھیں چلائی تھیں۔
میں نے پوچھا تھا ”کون رشیدی(Rasheedee)؟ “
”شماتتی“ ہمسائے نے حیران ہوکر سوال کیا تھا، ”تم اخبار نہیں پڑھتے؟ “
”نہیں۔ “
مگر یہ ساقی کے اصلی سفر لندن سے اٹھائیس برس آگے کی باتیں ہیں۔
ساقی فاروقی اس عرصے میں کراچی آتا رہا اور ہم سب کو ہاتھ پیر مارتے، اپنے لیے جگہ بناتے دیکھ دیکھ کر واپس جاتا رہا۔ مجال ہے جو اس نے کبھی بتایا ہو کہ وہ وہاں کیا کررہا ہے؟ کس طرح زندہ ہے؟ بس اتنی خبر دی کہ کمپیوٹر سے متعلق کچھ کررہا ہے۔
جب اس نے وہاں کچھ ٹھیک ٹھاک کرلیا تو ایک بار آکر بتایا گیا کہ میں نے بیس ہزار روپے کا واٹر بیڈ خریدا ہے یعنی پانی سے بھرا ہوا بستر۔ کہنے لگا پانی کی وجہ سے لہریں لیتا ہے وہ۔ ہم نے کہا، ”ڈوب مرو خبیث!“
سلیم احمد نے کہا”خوب!“ لہجے میں خفگی تھی۔
اطہر نفیس بولے”دوست کی طرف سے جو خبر بھی آئے، خوب ہے۔ “ اور بات واقعی خوش ہو کر کہی گئی تھی۔
آصف جمال سن کر ہنسنے لگا۔
جمال پانی پتی نے کہا ”ساقی گھاس کھا گیا ہے۔ “
چنانچہ ساقی نے پچاس پاؤ ٔنڈ منافع سے اپنا واٹر بیڈ ایک یہودی کو فروخت کر دیا اور یہاں اطلاع بھیج دی۔ ہم نے کہا ”جیتا رہ میرے یار!“ ہمیں پچاس پاؤ ٔنڈ کا منافع اچھا لگا۔
سلیم احمد بولے ”واہ! خوب!“ آواز میں ساقی کے لیے لاڈ جھلک رہا تھا۔
اطہر نفیس نے کہا ”بھئی یہ بھی اچھی رہی۔ “ اور انھوں نے قہقہہ لگایا۔
جمال پانی پتی بولے ”جب تک اس سے نہ پوچھ لوں کہ خریدا کیوں تھا اور بیچ کیوں دیا؟ اس وقت تک کچھ کہہ نہیں سکتا۔ “
تو پھر ساقی نے پہلے ایک نظم لکھی:”ویرونیکا روتی کیوں ہو، بات کرو دل ڈوب رہا ہے“ پھر خبر آئی، اس نے وہاں شادی کرلی ہے۔ لڑکی کا نام ویرونیکا نہیں تھا، گنڈی تھا۔ ساقی نے ایک پب میں بیٹھ کر گنڈی کو بارہا سڑک سے گزرتے دیکھا تھا اور موقع پاکر اسے ویرونیکا والی نظم ترجمہ کرکے سنائی تھی، پھر شادی کرلی تھی۔
یہاں میں نے شادی کرلی۔ ساقی آیا، اس نے فرزانہ کو سن تریسٹھ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تک وہ میری بیوی نہ ہوئی تھیں۔ ہماری شادی کے بعد اس نے گھر آکر مجھے دھمکیاں دیں کہ تونے فرزانہ کا خیال نہ رکھا تو میں تجھے فی النار کردوں گا۔ فرزانہ سے کہے لگا”تمھارا شوہر بس ٹھیک ٹھاک شاعر ہے تاہم اس کی قدر کرو اور بی بی! اپنے رب کی نعمتوں کا اثبات کرتی رہو۔ “ انھوں نے کہا، بہتر ہے۔ پھر جاتے جاتے مجھے ہدایت کرگیا”تیری اہلیہ مومن ہے اور ہاتھ ہے اللہ کا”مومن بندی کا ہاتھ“۔ اس لیے تجھ پر لازم ہے کہ اپنی بیوی سے گاہے گاہے ہاتھ ملایا کر۔ اسی میں تیری نجات ہے۔ “
مگر یہاں زندگی اس کے فقروں کی طرح ہلکی پھلی، چٹک مٹک نہیں گزری تھی، خاص طور پر اس کے اپنوں کے لیے۔
گھر والے نارتھ ناظم آباد کے مکان سے اٹھ کر دست گیر سوسائٹی میں کسی کرایے کے مکان میں آبسے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت پہلے سے نہیں رہی تھی۔ چھوٹے بھائی کو جو پاکستان میں تھا، اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے الجھنوں کا سامنا تھا۔ امی اداس رہنے لگی تھیں۔ اس وقت تک دونوں بیٹوں میں کوئی بھی گھر نہیں آیا تھا اور کہیں پتھر کی کسی سل پر یہ لکھ دیا گیا تھا باپ ان بیٹوں کو دوبارہ نہیں دیکھے گا۔
مگر پھر اللہ نے خوشیاں بھی دیں، ساقی کی بہنوں کے گھر آباد ہوئے۔ اس نے لندن سے دونوں بہنوئیوں کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی اور قہقہے لگائے اور دوسرے بھائی ارشاد نبی نے بھی ٹیلی فون کیا۔
اطہر نفیس کی سربراہی میں دوستوں کا ایک جیش ڈاکٹر صاحب کو اور امّی کو مبارک باد دینے پہنچا۔ تقریبوں والے دن ہم سب نے مہمانوں کو پان الائچی کی تھالیاں پیش کیں، ان کی طرف تولیے بڑھائے، پلیٹوں میں کھانے نکالے اور میزوں کے درمیان مصروفیت سے ٹہلتے رہے۔
ساقی نے یہ سب کرنے کے لیے لندن سے ہدایات جاری کی تھیں اور دھمکیاں بھی دی تھیں۔
ڈاکٹر التفات نبی صاحب نے ہمیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھا اور اپنے بیٹے کی طرح قہقہہ مار کر بولے”بھئی ان تقریبوں میں ساقی کی شرکت بھی ایک اعتبار سے ہو ہی گئی۔ ہیں نا؟ ہا ہا ہا۔ “
خدا مغفرت کرے۔ کمال کے بزرگ تھے۔ ان کے بچے خوب جانتے ہیں کہ اپنی اولاد سے کیسی وفا کی ہے، ڈاکٹر صاحب نے اور کیا قیمت چکائی ہے؟ کیوں نہ کرتے؟ صدیقی جو تھے۔ استواری اور وفاداری کی روایت ان کے بڑوں سے چلی آرہی ہے۔
اور یہاں میں چاہوں گا کہ میرا قاری کچھ دیر کے لیے ٹھہر جائے۔
خود اس کی شاعری سے زیادہ میری ان سطروں میں ساقی فاروقی ایک پر خواہش، امنگ بھرا، ہوش مند، ایمبی شش آدمی نظر آتا ہے۔ بے شک وہ ایسا ہی ہے مگر وہ ایک بہت حساس اور دردمند انسان بھی ہے۔
وہ محبت کے اظہار میں تھیٹریکل ہے۔ دور سے لگتا ہے کہ مکر کررہا ہے یا گمان ہوتا ہے کہ شاید اس وقت پبلک ریلیشنگ چل رہی ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں، ہم میں سے بہت سے کہ ایسا نہیں ہے۔ 19ء میں آخری اور شاید پہلی بار ہم دو بوڑھے آدمیوں نے اس کے سنی گارڈنز والے مکان میں اپنی تقریباً چہل سالہ دوستی کے بیس تنہا اور خوب صورت منٹ گزارے۔ اوپر گنڈی جانے کی تیاریاں کررہی تھیں۔ یہ شخص میرے کمرے میں بھالوو ٔں کے پہننے کا اپنا ٹرٹل نیک سوئٹر اٹھائے ہوئے آیا۔ بولا، ”اسے پہن لے اور کچن گارڈن میں جا کے بیٹھ جا۔ میں تیرے لیے چائے بنا کے لا رہا ہوں۔ “ اس نے ضد کرکے وہ ٹرٹل نیک مجھے پہنایا۔ دھمو کے مار مار کے اس کو کندھوں پر سیٹ کیا۔ میں آخر جولائی کے تیکھے موسم میں سیب کے درختوں تلے کرسی بچھا کر بیٹھ گیا۔ یہ چائے لایا تو سہگل کے انداز میں گارہا تھا”بھور سہانی چنچل بالک۔ “
چائے پیتے ہوئے اس نے پوچھا ”یار یہ بتا میری شاعری کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟ “
میں نے کہا ”تیرے میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بھائی یہ تو مکافاتِ عمل ہے اگر کچھ کیا ہوگا تونے تو تیرے دیدوں گھٹنوں کے آگے آئے گا۔ “
ہنسنے لگا۔ بولا ”بدتمیزی مت کر۔ ویسے مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاعر تو میں بڑا ہوں۔ لاریب!“
فقرے بازی سے قطعِ نظر اگر سنجیدگی سے پوچھا گیا تو میں بلا خوفِ تردید کہہ دوں گا کہ اس شخص نے لکھے ہوئے تازہ کار لفظ کے سوا کسی سے وفا نہیں کی۔ شاعری کے حوالے کے سوا اپنے لیے کسی اورحوالے کو دستارِفضیلت نہیں جانا۔ اردو نظم کی ڈرافٹنگ کرتے ہوئے اس نے نے ہر پامال روش کو چھوڑا، ایک نئی راہ نکالنے کی سعی کرتا رہا۔ ازکارِ رفتہ اور عامیانہ لفظوں (کلیشے) سے اس نے اس طرح گریز کیا جیسے مومن لحمِ خنزیر سے گریز کرتا ہے۔ اپنے لیے اس نے بس ایک مسند چاہی۔ ۔ ۔ جائنٹ سیکریٹری، صدر، مہمان خصوصی، کمپیوٹر منیجر، شوہر، دوکاروں کا مالک یا خان بہادر کا پوتا، ان سب افتخاروں سے گزر کر ساری زندگی وہ اس ایک مسند کا ہوس مند رہا جو شاعر کی مسند ہے۔
اور اس نے تو حد ہی کردی۔ ظالم نے اپنے دل کی امنگ میں بنارس کے آسمان شکوہ جولا ہے کبیر کی چٹائی پر ان کے برابر بیٹھنا چاہا۔ ۔ ۔ ایسا یزداں شکار حوصلہ لے کر آیا ہے یہ حلال زادہ!
اپنے کسی انٹرویو میں اس نے کہا کہ وہ مرنے کے پانچ برس بعد تک زندہ رہے گا!
بکواس کرتا ہے!
ساقی فاروقی مرنے کے پچاس برس بعد تک (ہوپ فلی) پڑھا جائے گا۔ اور یہ مدت اس کم سواد زمانے میں کسی بھی اردو شاعر کے لیے انفینٹی ہے۔

