قوموں کے عروج و زوال کا فلسفہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قوموں کا عروج و زوال دنیا کی تاریخ میں ایک پیچیدہ، پراسراراور غم و اندوہ سے بھرپور عمل ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے کہ جو انسانی ذہن کو افسردہ کردیتا ہے اور وہ اس اُتار چڑھاؤ کے عمل سے یاس و نا امید کا شکار ہوجاتا ہے۔ اگرچہ انسانی ذہن نے قوموں کے عروج و زوال کو سمجھنے کی بہت کوشش کی ہے، مگر اس کے لیے اب تک یہ ایک نہ حل ہونے والا معمہ ہے کہ ایک قوم کن حالات میں عروج حاصل کرتی ہے، تہذیب و تمدن میں کمال تک پہنچتی ہے اور پھر ایک شاندار ماضی کو چھوڑ کر زوال پذیر ہوجاتی ہے۔

ابن خلدون نے حکومتوں، شاہی خاندانوں اور قوموں کے عروج و زوال کو پہلی مرتبہ سائنسی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی، اور اس عمل کے پس منظر میں جو قوانین کارفرما ہیں انہیں دریافت کرنے اور ان کے اثرات کو متعین کرنے کی کوشش کی۔ وہ عروج و زوا کے اس عمل کو انسانی زندگی سے تشبیہ دیتا ہے کہ جس طرح ایک انسان بچپن، جوانی اور بڑھاپے کے درجات طے کرکے موت سے ہم آغوش ہوجاتا ہے، اسی طرح سے قومیں بھی ان مرحلوں سے گزر کر زوال پذیر ہوجاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ موت سے دوچار ہونا ہر قوم کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے اور ایسی کوئی صورت نہیں کہ قومیں خود کو موت سے بچا سکیں اور اپنی زندگی کو طول دے سکیں۔ ابن خلدون کے فلسفہ میں مجبوری اور تقدیر کے تابع ہونا قوموں کی زندگی ہے۔

ابن خلدون کے بعد اور دوسرے مفکروں نے اس مسئلہ پر سوچ و بچار کی، ان میں دو نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اوسوالڈ اشپنگلز، اور آرنلڈ ٹوائن بی اشپینگلز نے اپنی کتاب ”زوال مغرب‘‘ میں تہذیبوں کے عروج و زوال کا مطالعہ کیا ہے اور ان قوانین کی نشاندہی کی ہے جو اس ڈرامہ کے پس منظر میں عمل پیرا ہیں۔ اس کے نظریے کے تحت ایک تہذیب جن مرحلوں سے گزرتی ہے اس کی مثال موسموں کی طرح ہے یعنی گرمی، سردی، بہار اور خزاں۔ جب تہذیب خزاں کے موشم میں داخل ہوتی ہے تو اس کے بعد موت اس کا مقدر ہوجاتا ہے لہذا موت سے خوف اور ڈرنے کی بجائے اس کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ یہاں اشپنگلز کے لہجہ واضح اور صاف ہوجاتا ہے وہ یونانی المیہ پہ یقین کرتے ہوئے آخری دور میں بہادری سے موت کو قبول کرنے پر زور دیتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جب ایک تہذیب اعلی کلچر تخلیق کرلیتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کی تخلیقی قوتیں ختم ہوجاتی ہیں اور وہ خستگی کے اس مرحلہ پر پہنچ جاتی ہےئی کہ جہاں موت ہی اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن کر آتی ہے۔

اور دیکھا جائے تو اس میں کسی حد تک صداقت بھی ہے، کیونکہ جب کوئی تہذیب اپنے عروج پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے، تو زوال کے دور میں اس کی زندگی انتہائی تلخ ہوجاتی ہے۔ عزت و توقیر کے بعد ذلت و خواری قوموں کو نفسیاتی مریض کردیتی ہے۔ ایک طرف اس کا ماضی ہوتا ہے تو دوسری طرف حال، ایسی صورت حال میں قومیں کبھی ماضی کی شان و شوکت میں ڈوب جاتی ہیں تو کبھی حال کی پسماندگی میں۔ ان کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ خود کو اس دلدل سے نکال کر اپنے لیے کوئی نئی راہ تلاش کریں۔

آرنلڈ ٹوائن بی وہ تیسرا مورخ ہے کہ جس نے ابن خلدون اور اشپنگلز کے بعد تہذیبوں کے عروج و زوال کے بارے میں ایک نئی راہ دریافت کی ہے۔ وہ تہذیبوں کے اتار چڑھاؤ میں جس عمل کو دیکھتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر تہذیب کو مسلسل چیلنج کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر وہ چیلنج کا موثر جواب دیتی رہتی ہے تو اس کے نتیجہ میں آگے بڑھتی رہتی ہے، لیکن جیسے ہی اس کا ردعمل کمزور ہوتا ہے اس کے ساتھ ہی اس میں زوال کے آثار شروع ہوجاتے ہیں۔ لہذا اس کی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی تہذیب اس وقت تک زندہ رہ سکتی ہے کہ جب تک اس میں چیلنج کا جواب دینے صلاحیت ہے۔ ٹوائن بی کے ہاں تہذیبوں اور قوموں کی بقا کی امید اس امر پہ ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ رکھ کر حالات کا مقابلہ کریں۔

تہذیبوں اور قوموں کے عروج و زوال کے عمل کو سمجھنے کے لیے ان تینوں فلسفیوں کے افکار مدد کرتے ہیں، مگر انسانی تاریخ اس قدر پیچیدہ اور الجھی ہوئی ہے کہ ہم ان قوانین کا اطلاق تمام تہذیبون پہ نہیں کرسکتے ہیں، عام طور پر ان پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے یہ ایک فریم بناتے ہیں، اورپھر اس میں تاریخ سے واقعات کو چن کر اس میں جڑ دیتے ہیں، اس لیے ان کی دریافت شدہ قوانین پوری طرح سے تمام تہذیبوں اور قوموں کی تاریخ پر پورے نہیں اترتے ہیں۔

مثلاً اشپنگلز یورپ کے عروج کو فیڈول ازم اور اس کے کلچر سے منسل کرکے دیکھتا ہے، اس کے نزدیک فیوڈل ازم کے خاتمہ کے ساتھ ہی اعلی کلچر کی تخلیق ختم ہوگئی اور اس کی جگہ عمومی کلچر پیدا ہوا کہ جوانتہائی کم تر اور ناقص ہے۔ لہذا اس کے لیے زوال مغرب یہی ہے کہ کلچر کی گہرائی کی جگہ عمومیت لے رہی ہے اس طرح یہ زوال ایک طبقاتی نقطہ نظر ہے۔

ان فلسفیوں کے علاوہ مختلف مورخوں نے قوموں کی تاریخ لکھتے ہوئے ان کے زوال کے اسباب کی نشاندہی کی ہے۔ مثلاً جب کوئی قوم اپنے ذرائع آمدن سے زیادہ خرچ کرنے لگے۔ جیسا کہ رومی سلطنت میں ہوا۔ جب کوئی چھوٹی ریاست امپیریل پاور بنتی ہے تو اس کے نتیجہ مٰں اس کا پھیلاؤ ہوجاتا ہے اور بعد میں آنے والی نسلیں سامراجی عادات اختیار کرلیتی ہیں جس کے نتیجہ میں سماجی راسخ العقیدگی پیدا ہوتی ہے، معاشرہ تعلیم و تجارت میں ٹھٹر کر رہ جاتا ہے، انتظامیہ جدیدیت کے خلاف ہوجاتی ہے۔

جب ریاست امپائر بنتی ہے تو اپنے ذرائع سے آگے بڑھ کر دوسروں کے ذرائع پر انحصار کرنے لگتی ہے اور اس کے ساتھ ہی خود انحصاری کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” پر کلک کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر مبارک علی کی دیگر تحریریں