متشاعرات اور جنسی ہراسانی کا غیر منصفانہ قانون


میں نے بارہا تذکرہ کیا ہے کہ ادب یعنی شاعری اور فکشن میں ایک خاص سوچ کی حامل خواتین نے یلغار کی ہے جن کی ادب شناسی عمیرہ احمد کے ناولوں، ڈراموں سے زیادہ نہیں، یا فراز اور پروین شاکر کی ہلکی پھلکی رومانی یا عشقیہ شاعری سے زیادہ نہیں۔

اپنے زمانے میں ساحر، مجاز اور اختر شیرانی مقبول تھے۔ جب فیس بک نے رابطے کا براہ راست اور محفوظ  ذریعہ فراہم کیا تو کچھ نے پسند کرنے والی مداحوں کو پسند کرنا شروع کیا اور انھیں شاعر یا افسانہ نویس بنادیا۔ رہی سہی کسر جوانی کی ایک دل کش پروفائل پکچر نے پوری کی (جو وہ اڈٹنگ آرٹ کی مدد سے بدلتی رہتی ہیں)۔ فین یا مداحوں نے سیکڑوں ہزاروں واہ وا، سبحان اللہ ارسال کیے اور ان باکس میں یقینا قصیدے پڑھے ہوں گے؛ اس نے ان خواتین کی غلط فہمی کو یقین میں بدل دیا کہ وہ اس صدی کی عظیم شاعر/ افسانہ نویس ہیں؛ اگرچہ یہی مداح بعد میں ”ٹھرکی“ کہلائے اور خواتین نے خوب اپنی پبلسٹی کی کہ ”میں تو ان باکس والوں سے عاجز ہوں“۔ زنانہ انداز کی دھمکی دی کہ ”میں ان فرینڈ کردوں گی قسم سے“۔ یہ سب شکوہ شکایت در حقیقت حوصلہ افزائی تھی۔ اس اسٹائل میں کہ ”تم تو مجھے چھیڑوگے، مجھے پتا ہے“۔ یوں ان خواتین کا ایک ٹولہ وجود میں آیا، جو اب مستند شاعر /افسانہ نویس ہیں۔

میں نے ایک شاعرہ کا ذکر کیا تھا جن کے چار مطبوعہ دیوان ہیں، لیکن خود انھوں نے ایک ”ذاتی“ مشاعرے میں کوئی عامیانہ سی غزل پڑھی تو اس کے اکثر اشعار بے وزن تھے۔ میں ایک ایسی جینئون شاعرہ کو جانتا ہوں جس کے بارے میں اپنی نصف صدی سے زیادہ کی سخن فہمی اور مطالعے کی بنا پر یہ دعوےٰ رکھتا ہوں کہ اس سے بڑی شاعرہ اس وقت کوئی نہیں لیکن اس کا پہلا دیوان ابھی زیر طبع ہے۔

بیش تر صاحب دیوان شاعرات کے بارے میں میرے ذاتی مشاہدے یا تجربے کے ذکر سے ایک پنڈورا باکس کھل سکتا ہے، لیکن مجھے کوئی خوش فہمی نہیں کہ
؎ مستند ہے میرا فرمایا ہوا

آج مجھے ایک ہم پیشہ عینی گواہ کی تحریری شہادت ملی ہے۔ میں ان سے معافی کا خواست گار ہوں کہ ان کی اجازت کے بغیر اس کو اپنے مقدمے کا حصہ بنا لیا، لیکن میں پانچ ایسے شاعروں کو جانتا ہوں، جو ان خواتین کو غزلیں لکھ کر دیتے ہیں۔ (جدید نظم زرا اوپر کی ذہنی سطح مانگتی ہے)۔ معاوضہ نقد ہی ہوگا لیکن معاشیات کی اصطلاح میں ”خدمات“ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ شاعرات اتنی از کار رفتہ بھی نہ تھیں، ایک بہت عامیانہ جملہ پر معذرت کہ ”برے کام کے لیے کوئی بری نہیں“ بعض تو کمال کے مرد ہوتے ہیں کہ کہتے ہیں ”نبض چلتی ہونی چاہیے“۔ ایسا ہے تو ہم نامرد ہونے کا الزام قبول کرنا بہتر سمجھتے ہیں۔

اب زرا دل تھام کے بیٹھیے۔ چند سال ہوئے اس ناچیز کو بھی جشن سوات کے ایک مشاعرے میں بلا لیا گیا۔ معاوضہ تھا دس ہزار سکہ رائج الوقت؛ ایک ٹکٹ میں دو مزے تھے۔ سوات کی سیر بھی تھی اور سرکار کی میزبانی کا لطف بھی۔ اس بہانے مالاکنڈ ایجنسی بھی ہو آیا (اور اس پر ایک بلاگ لکھا)۔ قیام تھا مولانا شیرانی کے ہوٹل میں جو عین دریا پر واقع تھا۔ گراونڈ فلور پر خواتین شاعرات تھیں، اوپر ہم مردوے۔ ٹاپ فلور کھانے کے لیے وقف تھا اور وہاں ہمہ وقت کھانا ’پینا‘ اور ادبی نشست چلتی تھی؛ جس میں خواتین بھی پوری ’تیاری‘ کے ساتھ شریک رہتی تھیں۔

چودھویں کا چاند بھی رات کی محفل کا لطف دوبالا کرنے آیا مگر خواتین کو یقین دلانے والے بھی تھے کہ آپ کے سامنے بے چارا شرم سار ہی لگتا ہے۔ جناب فضل الرحمٰن نے بھی ایک رات رونق بخشی۔ جن کو میں آج سب سے شریف سنجیدہ اور ذہین لیڈر تسلیم کرنے پر مجبور ہوں۔ اسٹیبلشمنٹ کا عطا کردہ خطاب ’مولانا ڈیزل‘ ایک اعزازہے۔ دوسرے بر طرف کردہ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین جیسوں کو ”قائد قلت“ اور شیر بنگال فضل حق کو ”غدار“ کا خطاب مل چکا ہے، انھوں نے قرار داد پاکستان پیش کی تھی۔

خیر! اصل بات یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ واپسی پر ایک مشہور شاعر نے اعتراف جرم یوں کیا، ”مشاعرے سے ایک رات قبل میں سونے کی تیاری کررہا تھا کہ دروازے پر چوڑیوں کی کھنک آمیز ہلکی سے دستک ہوئی؛ دیکھا تو فلاں شاعرہ مجسمہ حزن و ملال بنی کھڑی ہیں۔ اندر بلا کے بٹھایا اور ریفریجریٹر سے نکال کے کولڈ ڈرنک پیش کی۔ ان کے آنسو ٹپ سے سیون اپ میں شامل۔ دل جوئی کے بعد بولیں۔ ’فلاں شاعر ولد الزنا (حرامی کہا تھا) میرا دوست تھا، اس نے کہا تھا، آوں گا تو تازہ غزل لکھ دوں گا؛ نہیں آیا۔ (ایک اور زیادہ فحش گالی)۔ اب میری ”عزت“ پر بنی ہوئی ہے‘۔ میں نے یقین دلایا کہ آپ کی عزت اب میری عزت۔ صبح وہ عزت سے تازہ غزل لے کر گئی“۔

اب راقم الحروف پٹھان ہو کے بھی پٹھانوں کا نام بدنام کرتا ہے۔ شاعرہ کا نام یوں نہیں لے سکتا، کہ پردہ رکھنے کا حکم ہے۔ خیر سے اب وہ ”پھر“ شادی شدہ ہے۔ شاعر کا نام لیتے ڈرتا ہوں، کہ دوستی تو خیر جائے گی، اپنی جان بھی جائے گی؛ کیوں کہ وہ اصلی پٹھان با صفات ہے۔ یہ کہا ضرور کہا جائے گا، کہ خود کو فرشتہ ثابت کرنے کے لیے سب کو شیطان بناتے پھرتے ہو؟! جواب میں صرف فارسی بولوں گا۔
؎ گرگ در پیری شود پرہیز گار
81 سال کی عمر نے فرشتہ بنادیا ہے
؎ ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

تقریبا ہر عورت کا المیہ اور جائز شکوہ ہے، کہ شادی کے بعد پہلے سال یا زیادہ سے زیادہ پہلا بچہ ہونے تک ازدواجی زندگی ہنی مون رہتی ہے اور باقی تو بقول شخصے، ”قید شریعت“۔

یہ المیہ تو دو طرفہ ہے، مگرعورت کا اضافی المیہ یہ ہے کہ وہ گھر میں بند رہتی ہے اور مرد کلرک سیلزمین کی سطح کا ہو تو ظاہر ہے گھر چلانے اور بچے پالنے کے لیے صبح سے شام تک خوار ہونے جاتا ہے، لیکن بیوی کے ساتھ واپسی پر فلمی ہیرو جیسا رویہ نہیں رکھتا، تو بیوی کا شک شروع کہ یہ باہر صرف عیاشی کرنے جاتا ہے اور بڑا بزنس مین یا صنعت کارہو تو غیر ملکی دورے کرتا ہے۔ سیکرٹری ساتھ رکھتا ہے اور پنچ ستارہ ہوٹلوں میں ٹھیرتا ہے، تو یقین محکم کہ یہ شرابی زانی سب کچھ ہے؛ بس میرا شوہر نام کا ہے اور دوسری شادی تو لازمی کرے گا؛ کسی نو خیز چھپن چھری سے۔ کیوں کہ فراغت نصیب ہے تو لنچ اور ڈنر ہیں۔آن لائن بھی جو چاہا منگوالیا۔ اس کے ساتھ چالیس سال میں وہ خود نہ جوان رہتی ہیں، نہ دل کش۔ اکثر موٹی ہوجاتی ہیں۔ بیوٹی پارلر یا سلمنگ سینٹر بھی بس لوٹتے ہیں۔

زرا یہ تحریر پڑھنے کے بعد یاد سے حساب لگائیے کہ آپ نے اپنی زندگی میں کتنے مردوں کو دوسری شادی کرتے دیکھا۔ میں نے چار شہروں کے درجنوں محلوں میں اپنے خاندان میں، ادبی حلقوں میں صرف دو دیکھے۔غالب سے فیض تک، عالی جی سے مشتاق یوسفی تک، دلیپ کمار سے امیتابھ اور شاہ رخ تک کہ یہ حسن پرست ایک ہی بیوی کے ساتھ کیوں رہے؟ خواتین کا جواب ہوگا کہ وفا کی پتلی عورت نباہ کرتی رہی۔ مرد اور صرف مرد اِدھر اُدھر منہ مارتے رہے۔

رہی سہی کسر پوری کرتے رہے ”اسٹار پلس“ کے ڈرامے۔ ایک سوشل سروے اسی موضوع پر ہوا کہ ان ڈراموں نے کتنے گھر اجاڑے یا اعتماد کی خوش گوار فضا کو ختم کرکے، ازدواجی زندگی میں شک کا زہر گھولا۔ بعد میں پاکستانی چینل جن کا سرخیل ””ہم ٹی وی“ تھا اور ہے۔ اس مقابلے کے لیے خم ٹھونک کے میدان میں آئے، اور مرد کے ناجائز تعلق کے ایسے ایسے موضوع نکالے کہ سوچ کے شرم آتی ہے۔

”ماسی اور ملکہ“ ایک مقبول سیریل گھریلو ملازمہ سے شادی کا تھا؛ جس پر کئی ڈرامے لکھے گئے۔ بچا کوئی نہیں۔ سالی؛ بیوی کی سہیلی؛ بیٹی کی کلاس فیلو؛ پڑوس کی لڑکی؛ دوست کی منگیتر؛ بیوی کی کزن۔ ان ڈراموں کے پیچھے ”ریٹنگ“ تھی؛ کیوں کہ ہر طبقے کی تمام خواتین بلا لحاظ عمر، دیکھنے والی تھیں اور وہی تھیں ”کنزیومر“۔ مردوں کو گولی مارو۔ سالے کرکٹ یا نیوزدیکھتے ہیں؛ پیسا خرچ کرنے والی ہے عورت۔ مرچ مسالے سے میک اپ کے سامان اور کپڑوں تک؛ ان ڈراموں کو فنانسر خوب ملے جو زنانہ رائٹر نے تھوک کے بھاو لکھے۔ میری فیس بک ”فرینڈ لسٹ“ میں شاید دو درجن ڈراما رائٹر ہوں گی۔ چند ایک کو قلم پکڑنا نہیں آتا۔ادب ملحوظ ہے ورنہ قلم نہ لکھتا۔

عورت معصوم ہے؛ شریف ہے؛ عزت دار ہے؛ ماں ہے، بہن ہے۔ اس کے لیے ”سیکچوئل ہراسمنٹ“ کا قانون؟ استغفراللہ! یہ یک طرفہ ہتھیار صرف عورت کے لیے بنایا گیا ہے!!

Facebook Comments HS

احمد اقبال

احمد اقبال 45 سال سے کہانیاں لکھ رہے ہیں موروثی طور شاعر بھی ہیں مزاحیہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو کے قبولیت عامہ کی سند حاصل کر چکا ہے سرگزشت زیر ترتیب ہے. معاشیات میں ایم اے کیا مگر سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ملکی تاریخ کے چشم دید گواہ بھی ہیں.

ahmad-iqbal has 32 posts and counting.See all posts by ahmad-iqbal