کہانیاں ہماری پھوپھو کی


نہیں یادوں کی ڈوری کو ہلنا نہیں چاہیے۔ یہ ایک تین منزلہ مکان تھا، اس مکان میں دس کمرے ہیں۔ پہلی منزل پر صحن کا فرش مٹی سے بنا ہوا تھا۔ صحن ہی میں ایک چبوترہ سا بنا ہوا تھا اس پر ایک مٹی کا چولہا تھا جس میں لکڑیاں سلگ رہی ہوتیں۔ اتوار کے دن چولہے پر میٹھے ٹکڑے پکتے۔ روٹی کے سوکھے ٹکڑوں کو ہاون دستے میں کوٹ کرانہیں بنا یا جا تا۔ اس میں گڑ ڈالا جا تا اور الائچی سے بگھار دیا جاتا۔ اسی طرح سوکھی روٹی کے ٹکڑوں کا ہی کھچڑا بھی پکا کرتا اس میں گرم مصالحے وغیرہ اور چنے کی دال بھی پڑتی۔ اس کا ذائقہ حلیم سے ملتا جلتا ہے۔ بجلی کچھ سال پہلے ہی آئی تھی۔ فرج کو لر وغیر نہیں تھے۔ عام طور پر مٹکوں اور صراحی سے پانی پیا جا تا۔ صرف دوپہر اور رات کے کھا نے کے وقت بازار سے برف آجا یا کرتی۔ ہم سب بہنیں نکڑ کی دکان برف لینے شوق سے جا تے۔ صاف ستھری شیشے کی مانند برف، جب گھر کا کوئی بڑا برف کے ٹکڑے کرتا، تو سارے بچے اس کے چاروں طرف بیٹھ جا تے۔ جیسے ہی کوئی ٹکڑا پھدک کر ادھر ادھر بھا گتا۔ سب اس طرف دوڑتے اور اپنی قمیض سے اسے صاف کر کے منہ میں رکھ کر بھاگ جا تے۔

باورچی خانہ اوپر تھا اور ہینڈ پمپ نیچے۔ امی صبح شام اوپر نیچے ہوتی رہتیں۔ ہمیں غصہ کہ، بابرہ پھوپھو سلائی کے بہانے بیٹھی رہتی ہیں اور امی کو سارا کام کرنا پڑتا ہے لیکن امی ہمیں سمجھاتیں، دیکھو دادی انہیں کتنا ڈانٹتی بھی تو ہیں۔ میری معصوم امی صبح سویرے کی اٹھی ہوئی دوپہر کو ذرا سا آرام کا موقع ملتا تو ہمیں پڑھانے لگتیں۔ شام کو روزانہ ہماری ماجدہ پھوپھو آجاتیں۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ انہیں اس بات پر بڑا غرور تھا کہ ان کے تین ہی تو بچے ہیں وہ ان کے ناز نخرے کیوں نہ اٹھائیں وہ ہماری امی پر طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے جا نے نہیں دیتیں۔ اگر گھر سے کسی کے پیسے چوری ہو جا ئیں تب وہ سب کو اس بات پر قائل کر ہی لیتیں کہ بھابی بیگم کے بچوں نے ہی چرائے ہوں گے۔

ہر ایک کے سوال و جواب سے ہمیں اپنی ان پھوپھو سے نفرت ہو گئی تھی۔ ان کی دونوں بیٹیاں اور ہم ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔ ان کے لاڈ پیار اور ہر وقت میکے میں بیٹھے رہنے اور دوسروں کی ٹوہ لینے کی وجہ سے ان کی بیٹیاں پڑھائی میں بالکل کوری تھیں۔ ہم ان کا نتیجہ جان کر ہی دم لیتے اور جب وہ خاندان بھر کو بتا رہی ہوتیں کہ ان کی بیٹیاں پاس ہو گئی ہیں، تو ہمارے پاس سب کے سامنے ان سے انتقام لینے کا بہترین موقع ہوتا۔ صرف ہمیں نیچا دکھانے کے لیے وہ اپنے بچوں کے لیے ہر طرح کا جھوٹ بولنے کے لیے تیار رہتیں۔ ان کی بڑی بیٹی باجی کی اور چھوٹی ہماری ہم عمر ہے۔ اور چھوٹا بیٹا ( شفو ) شفاعت کا ہم عمر تھا۔ تین بہنوں کے بعد بھائی ہوا تھا اس کے بعد پھر ایک بہن تھی۔

رمضان کے دنوں میں اگر ہم بہنیں خود سے سحری میں اٹھ بھی جا تیں، تب بھی امی ہمیں روزہ نہ رکھنے دیتیں۔ صبح نو دس بجے ہی ہمیں زبردستی کچھ نہ کچھ کھلا کر ہمارا روزہ تڑوا دیتیں۔ کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اتنی شدید گرمی میں ہم سہہ نہ پائیں گے۔ ماجدہ پھوپھو رمضانوں میں دوپہر سے ہی آجاتیں۔ اور طنز کر کے امی کو جلاتیں۔ میری صبا اور اسما کے تو ماشا اللہ سے پورے روزے چل رہے ہیں۔ ایک دن ماجدہ پھوپھو تو حسبِ معمول میکے میں تھیں، ہم ان کے گھر گئے تو صبا اور اسما پکوڑے کھا رہی تھیں۔ اب ہم روزانہ ان کے گھر جانے لگے، روزانہ ہی پارٹی ہوتی تھی۔ اسماء صبا نے ہم سے وعدہ لے لیا تھا کہ ہم کسی کو نہیں بتا ئیں گے۔ ہمیں بھی یہ پارٹی اچھی لگتی تھی ہم کیوں یہ پارٹی ہاتھ سے جا نے دیتے۔

ہمارے پاپا کی نوکری جیکب آباد میں تھی۔ جب عید پرپاپا گھر آئے تو امی کی شکائت کی گئی کہ یہ بچوں کو روزے نہیں رکھواتیں اور ساتھ ہی اسماء اور صبا کے بارے میں فخریہ خبر دے کر کہ انہوں نے پورے روزے رکھے ہیں، یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ اسما اور صبا کو کو ئی تحفہ دیں، تب ہم نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ مگر ہوا کچھ نہیں ہم سے غلطی ہو گئی تھی ہمیں کوئی ثبوت تو رکھنا چاہیے تھا۔ سو سب کی لعن طعن ہمیں سننی پڑی۔ لیکن ہمیں صرف اس بات کا افسوس رہا کہ امی کی تربیت کو نشانہ بنا یا گیا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2