اسد محمد خاں سے چند باتیں


سوال: تو ان کا ایکسیڈنٹ آپ بتا رہے تھے، وہ کیسے ہوا؟

اسد محمد خاں: اس کی پوسٹنگ حیدر آباد ہو گئی تھی۔ وہ سینئر بینکر ہو گیا تھا۔ اور اس کو انہوں نے ریکوری کا بھی کام سونپا تھا، ان قرضوں کے لیے جو لوگ لے لیتے تھے اور بہت دیر لگاتے تھے، وہ بہت کنوینسنگ تھا، اپنی بات دلیل کے ساتھ اور بڑے میٹھے انداز کے ساتھ کہتا تھا۔ پٹھان پن نہیں تھا اس میں۔ جھگڑالو یا غصے والا نہیں تھا۔ غصہ اسے آتا ہو گا لیکن میرے سامنے یا اپنے کسٹمرز کے سامنے وہ بالکل نارمل رہتا تھا۔ دو تین بڑے کیسز تھے جنہیں اس نے ٹیلی فون پر آمادہ کر لیا تھا کہ میں آپ کے پاس حاضر ہو رہا ہوں آپ لوگ اس طرح کر کے قرض واپس کر دیں۔ وہ ٹرین سے گیا، اپنی بیوی سے وہ کہہ گیا، مجھ سے اور اپنی بھابھی سے بھی وہ کہہ گیا تھا کہ میں ٹرین سے جاتا ہوں اور ٹرین سے واپس آتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں اس میں سفر محفوظ ہے۔ بس غلطی یہ ہوئی کہ واپسی میں ٹرین میں شاید تین ساڑھے تین گھنٹے باقی تھے اور بس تیار کھڑی تھی۔ وہ بس میں بیٹھ گیا۔ دس میل دور چل کے حادثہ ہوا اور چار آدمی ہلاک ہو گئے۔

دو پٹھان سگے بھائی تھے اور تیسرا یہ بھی پٹھان تھا۔ اس کی جیب سے شناختی کارڈ ملا تو انہوں نے دیکھ کر کہا کہ یہ بھی ہمارا بھائی ہے، کراچی میں اس کا گھر ہمارے گھر کے قریب ہے، ہم اطلاع کر دیں گے۔ بڑے کلچرڈ انداز میں وہ آئے۔ خود ان پر قیامت گزر چکی تھی لیکن انہوں نے آکر اطلاع دی کہ صاحب ایک حادثہ آپ کے ساتھ ہوا ہے، ہمارے ساتھ بھی ہوا ہے تو آپ کے بھائی کا یہ کارڈ ہے۔ تو ہم گئے اور ان کی ڈیڈ باڈی لے آئے اور وہیں تدفین ہوئی۔

سوال: آپ کا بچپن بھوپال میں گزرا، کچھ بتائیے وہاں کے واقعات، کیا اقدار تھیں، کیا لوگ تھے؟

اسد محمد خاں: ہمارے دادا کی ٹھیک ٹھاک جاگیر تھی لیکن وہ دربار کے پروٹوکول کے قائل نہیں تھے۔ ان سے کچھ غلطی ہو گئی اور اس کے بعد ان سے جاگیر واپس لے لی گئی اور وہ پھر سے کسان ہو گئے، ٹھیکے پر کاشت کاری کرتے تھے، ان کو اٹھارہ برس کی عمر میں جاگیر ملی تھی جو واپس لے لی گئی۔ پھر انہوں نے بٹیا ( سرائیکی لفظ مستاجری اس لفظ کے مفہوم سے قریب تر ہے۔ راقم ) پر زمین کاشت کرنا شروع کر دی کیونکہ ریاست نے تین نسلوں کے بعد ان سے زمین واپس لے لی تھی۔ انہوں نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہم دیکھتے تھے کہ وہ کسانوں کی طرح سخت محنت سے کام کرتے تھے۔ وہ بہت ہی فعال شخص آدمی تھے اور حقیقی معنوں میں کسان تھے۔ کسانوں کے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ا ن کی باتیں سنتے تھے۔

ایک خاص بات ہم نے نوٹ کی بھوپال میں بھی، اور وہاں زمینوں پر بھی۔ زمینوں پر تو ہم زیادہ نہیں گئے کیونکہ ہم بہت چھوٹے تھے۔ لیکن زمینوں پروہاں، کسان سارے بیٹھتے تھے فرش پر، داداکے کسان فرش پر نہیں بیٹھتے تھے۔ سٹول، بینچ وغیرہ انہوں نے رکھے ہوئے تھے۔ اگر کوئی نیا آدمی آتا تھا اور نیچے بیٹھنے کی کوشش کرتا تھا تو وہ اسے ڈانٹ کے کہتے تھے کہ جا چلا جا یہاں سے۔ پھر لوگ اسے سمجھاتے تھے کہ انہیں برا لگتا ہے تم نیچے نہ بیٹھو، یہاں بیٹھ جاؤ جہاں سب بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ ان کا مزاج تھا۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ پورا ماحول وہاں جاگیرداروں کا تھا اور جاگیرداروں کے ہاں جو ہوتا ہے، مجرے وغیرہ، میرے دادا کے ہاں ایسا کوئی تماشا نہیں ہوتا تھا۔ فارسی کی کتابیں تھیں ان کے پاس جس میں سے وہ صوفیاکا کلام پڑھتے رہتے تھے اور انہوں نے اپنی ساری زندگی ایک کسان کی طرح گزاری جتنی ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

یہ ہم میں بھی آیا اور والد جو تھے وہ کانگرسی تھے، اور ہندوستان چھوڑ دو (کوئٹ انڈیا) تحریک میں کافی سرگرم رہے تھے اور ایسا بھی ہوا کہ ایک مرتبہ نوکری بھی خطرے میں پڑ گئی تھی حالانکہ اس زمانے میں ابھی نئی نئی ان کی تقرری ہوئی تھی لیکن ریاست تھی اس لیے لوگوں نے کچھ زیادہ ان کے ساتھ نہیں کیا۔ تو یہ بات کہ اپنی بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہیے، اُنہیں سے سیکھی۔ اگر آپ کے ہاں کچھ گڑبڑ ہو رہی ہے اور آپ کے ملک پر کوئی قابض ہے تو اس کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے۔ بعد میں وہ مسلم لیگی ہو گئے تھے، وہاں کے مراٹھوں کے رویے سے۔ کیونکہ ریاست گوالیار بھی مراٹھوں کی ریاست تھی۔ وہاں شدت پسندی جناح صاحب نے بھی محسوس کی تھی جس پر خود گاندھی پریشان تھے کہ کیا کیا جائے۔ ان شدت پسند لوگوں ہی نے پاکستان بنوایا۔ اس طرح ہماری تربیت ہوئی۔

سوال: ایک سوال اور تھوڑا اس تناظر سے ہٹ کر، کہ ساقی فاروقی نے آپ کا ذکر اپنی آپ بیتی میں کیا اور بڑے مزے کے انداز میں کیا۔ کچھ ان سے متعلق آپ یادیں شیئر کرنا چاہیں گے جو ان سے رہ گئیں۔ کیونکہ میرے خیال میں یہ بہت اچھا اضافہ ہو گا۔

اسد محمد خاں: ساقی سے میری برہمی چند برس رہی اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جو خودنوشت اپنی لکھی ہے وہ انہوں نے کہا تھا کہ تم اس کی پروف ریڈنگ کرو اور اس کے بارے میں جو تم کہو گے میں وہی کروں گا۔ تو میں نے اس سے کہا کہ پروف ریڈنگ میں نے کر لی ہے، اس کی نگرانی بھی کر لی ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے۔ 18 صفحات فلاں صفحے سے لے کر فلاں صفحے تک یہ آپ نکال دیجئے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس میں جو باتیں بیان کی گئی تھیں وہ مناسب نہیں تھیں۔ نام تو چھپائے تھے انہوں نے، لیکن وہ لوگ فوت ہو چکے ہیں۔ ساقی وہ آدمی ہے کہ جس نے میری پہلی نظمیں سنیں اور اس نے کہا کہ تمہارے ہاں نظم کا جو شعور ہے وہ کمال ہے، تو اس نے کہا کہ تین دن کے بعد ہم پھر ملیں گے اسی ہوٹل میں اور اگر مزید کوئی نظم نہیں آئی تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔

یہ اس کی محبت کا ایک انداز تھا، جھگڑے وہ کرتا رہتا تھا۔ وہ واحد آدمی ہے جس نے کہا کہ تم شروع کرو۔ پہلی نظمیں جب میں نے اس کو سنائیں تو وہ تو کھل اٹھا اور اس نے کہا ارے بسم اللہ بہت ہی کمال بات ہے یہ۔ اور وہ نظم پھر چھاپی بنگلور کے ایک بہت ہی بڑے ادبی پرچے نے۔ جس کا دفتر ایک نو منزلہ بلڈنگ میں تھا۔ جس پر اس نے ریڈیو پر دھوم مچا دی کہ جاؤ ڈھونڈ کے لاؤ ایسی نظمیں کہنے والا اور لفظوں کو برتنے والا لاؤ دوسرا، اور باقاعدہ جھگڑا کیا اس بات پر لوگوں سے۔ میں نے اسے کہا کہ یہ تو کیا کر رہا ہے تو کہنے لگا کہ فلاں صاحب نے تمہاری نظموں پر اعتراض کیا تھا تو میں اس کی طبیعت صاف کرنے گیا تھا۔ شدت تو اس کے ہاں تب بھی موجود تھی اور محبت بھی وہ کرتا تھا۔

بہت سے لوگوں نے اس سے تعلقات اس لیے منقطع کر دیے کہ وہ خط لکھتے وقت ابے تبے جیسے الفاظ استعمال کرتا تھا۔ شمس الرحمن نے کہا تھا کہ آپ خط نہ لکھا کریں تو اس نے کہا کہ میں تو لکھتا رہوں گا، آپ اس کو ایک نظر دیکھ کر کاٹ دیا کریں۔ یہ سب تماشے کرتا رہتا تھا۔ میں نے بھی اس کو دھمکیاں دیں اور اس کا واحد خط جو میں نے چھپنے کو دیا تھا گلزار صاحب نکالتے ہیں راولپنڈی سے ایک پرچہ، گلزار صاحب نے اس پرچے میں جس کا میں نام بھول رہا ہوں بہت لمبا انٹرویو چھاپا تھا۔ سب کے انٹرویوز آئے ہیں اس میں۔ تو اس میں وہ خط چھاپا اور تقریباً26 ٗ 27 شخصیات کے چھپے، اسد الرحمن سے لے کر نیئر مسعود تک۔ تو ساقی کا خط بھی انہوں نے چھاپا۔ میری دھمکیوں کے بعد اس نے خط میں ایسی زبان لکھنا چھوڑ دی۔ تو یہ جو کرائسِس پیدا ہوا وہ ان اٹھارہ صفحوں کا تھا جو میں نے کہا تھا کہ یہ نکال دو گے تو ٹھیک رہے گا جو اس نے نہیں نکالے اور مبین مرزا کو اس نے دھمکیاں دیں اور کہا کہ یہ پراجیکٹ میں ختم کر دوں گا کیونکہ رائٹر تو میں ہوں۔ تو اسد کو میں منا لوں گا ان صفحات کے لیے۔

کئی برس ہو گئے، تقریباً آٹھ برس میں نے اس سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ ظاہر ہے کہ اس کی جو بہنیں تھیں وہ میری بھی بہنیں ہیں۔ ان کی بہن نے کہا کہ قاضی سعید صاحب بیمار ہیں، بھائی فلاں دن ان کے ہاں جائیں گے، آپ بھی اس دن وہاں آجائیں، تو میں نے اس سے کہا کہ بیٹا ان کی وکالت مت کرو۔ وہ کہنے لگیں کہ میں کروں گی کیونکہ میں بہن ہوں۔ اور آپ کو بھی کرنی چاہیے ان کی وکالت، غصہ چھوڑ دیجئے۔ میں نے کہا کہ اچھا چھوڑ دیا چلو جاؤ بس ختم کرو۔ اس کو میں نے تسلی دی اور وہ خوش ہو گئی۔ لیکن بات بنی نہیں۔ بات خود ہی ایسے بنی کہ مبین نے مجھ سے کہا ساقی بیمار ہے، اور ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ وہ خودکشی کرنا چاہتا ہے بلکہ اس نے بھی یہ کہا ہے کہ وہ خودکشی کر لے گا۔ میں نے کہا کہ وہ کہتا ہے لیکن کرے گا نہیں۔ انشاء اللہ وہ فطری موت مرے گا جب بھی اس نے مرنا ہے پچاس، ساٹھ، ستر سال کے بعد۔ پھر مجھے خیال آیا کہ غصے کی ایک حد ہوتی ہے میں 80 کراس کر چکا ہوں۔ ساقی مجھ سے تین چار سال چھوٹا ہے۔ اب وہ 80 کی طرف آرہا ہے۔ تین سال میں ہو جائے گا 80 کا۔ اگرچہ وہ شراب نہیں چھوڑ رہا، سموکنگ چھوڑ دی ہے اس نے۔

تو پھر میں نے اس سے کہا اب یہ دو مضامین ہیں ساقی کے سلسلے کے یہ تم چھاپو، مبین سے میں نے کہا۔ وہ چھاپ رہے ہیں۔ اس کی کتاب پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں اس کی ڈکٹیٹرانہ محبت، چاہت جو وہ کرتا ہے دوستوں سے اس کا ذکر کیا ہے۔ یہ اب جورسالہ آئے گا یہ سب اس میں چھپے گا۔ فراز صاحب سے بہت ناراض تھا ایک زمانے میں، اس پر میں نے اس سے کہاکہ فراز صاحب کی ایک ڈومین الگ ہے اور تمہارا طریقہ کار الگ ہے، تم الجھن کیوں محسوس کر رہے ہو، وہ کہنے لگا کہ یہ نظم یا اردو نظم کے ٹھیکیدار نہیں ہیں۔ یہ کوئی سپریم کورٹ نہیں ہے کہ جہاں جو آپ بولیں وہی ہو گا۔ تو آپ یہ چھوڑیے محبت کرنے والے ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ اور پوری دنیا میں بہت ہیں۔ آپ کو شوق سے وہ پڑھتے ہیں یہ آپ چھوڑیں۔ یہ اچھا نہیں لگتا۔ فراز کا اپنا کنٹری بیوشن ہے اس کا نہ کوئی مٹا سکتا ہے۔ اور فراز میں اب بہت تبدیلی آگئی تھی آخری دنوں میں۔ اب ان میں ایک وضع داری تھی۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain