اسد محمد خاں سے چند باتیں
سوال: انتظار صاحب، نیئر مسعود صاحب، فاروقی صاحب، موجودہ فکشن کے بڑے اور محترم نام، کوئی تقابل نہیں، لیکن ان میں سے کس کے اُسلوب نے آپ کو متاثر کیا؟
اسد محمد خاں: صاحب نیئر مسعود میرے استاد ہیں۔ انہیں ایک روحانی استاد کہوں گا میں۔ ان کا اپنا ایک سٹائل ہے اور میں نے شایدچند ماہ پہلے اس سے لکھنا شروع کیا تھا۔ ان کی چھ آٹھ کہانیوں کو، نہ صرف اردو کی بلکہ عالمی ادب کی بڑی کہانیوں میں شمار کرتا ہوں۔ اور وہ کرافٹ جس طرح کا کرتے ہیں تو میں نے خط انہیں جو لکھے ہیں بے شمار، تو ان کا جواب اجمل(کمال) کو انہوں نے پکڑایا تھا وہ اجمل نے سنبھال کے رکھا ہے شاید کہیں چھپوایا بھی ہے یا نہیں۔ نیئرصاحب نے کہا۔ یہ کون صاحب ہیں میں تو ان کا فین ہوں، اور یہ باتیں جو ہیں، یہ اگر اسد صاحب کر رہے ہیں تو نیئر مسعود کوئی اور شخص ہوں گے جن کی یہ تعریف کر رہے ہیں۔ تومیں بہت حیران ہو ں کہ اس طرح کی محبت کی باتیں انہوں نے کی تھیں۔ کہنے لگے کہ اصل میں تو میں ان کا فین ہوں یہ تو بعد کی خبر ہے وہ میرے فین ہو گئے۔ تو میں طے شدہ طور پر ان کو اردو کا اہم افسانہ نگار سمجھتا ہوں۔
سوال: وہ جو چھ سات افسانے تھے، ان میں سے کسی ایک آدھ کے نام اگر آپ کے ذہن میں ہوں؟
اسد محمد خاں: میری یادداشت کمزور ہے، میں بعد میں آ پ کو فون پر بتا دوں گا۔ اجمل نے جو چھاپے ہیں افسانے ان میں سے کم از کم چھ سات افسانے ایسے ہیں کہ وہ اردو کی آبرو ہیں۔
سوال: انہوں نے کافکا کا بھی ترجمہ کیا، اس میں وہ اثر نہیں تھا، متاثر نہیں کر سکے اس میں، کیا کہیے گا؟
اسد محمد خاں: دیکھئے۔ نیئر مسعود جب لکھتے ہیں اپنا تو بس وہ نظر آتا ہے۔ بعض لوگ ان کو کافکا ئی رائٹرکہتے ہیں۔ کافکا کا طریق کار دوسرا تھا۔ وہ آپ کو بغیر کچھ کہے لے جاتا تھا مسٹری میں، اور اب بھی لے جاتا ہے، جب اسے پڑھیے۔ اس کے پرت آپ کو خود کھولنا پڑتے تھے۔ نیئر مسعود کا کرافٹ اتنا کمال کا ہے کہ بہت معمولی سے اشاروں میں وہ کہانی آپ کو دے دیتے ہیں۔ کافکا تو بعض اوقات کھلتا ہی نہیں ہے۔ نیئر مسعود صاحب تو اپنی روح کا احوال بیان کرتے ہیں۔ کافکا اپنے ذہن کی کیفیات بیان کرتا ہے۔ وہ بہت بڑے رائٹر ہیں۔ انتظار صاحب جس وقت لکھ رہے تھے اور ان کی جو بے مثال کہانیاں ہیں زرد کتا، وہ ہماری تربیت کا زمانہ تھا۔
جس شوق سے ہم اس وقت پڑھتے تھے اسی شوق سے ہم اب بھی پڑھتے ہیں۔ حالانکہ انہیں ایڈیشن کرنے کا مزید اضافہ کرنے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے انہیں جو کرنا تھا وہ کر چکے۔ ان کا ایک مقام ہے۔ استادوں کی طرح میں ان کی طرف نظر کرتا ہوں۔ کل پرسوں بھی وہ مجھے نظر آئے تھے اور اسلام آباد میں ایک کانفرنس تھی پتہ نہیں، چھ مہینے پہلے یا کب پتہ نہیں تو چھڑی دیکھ کر میں نے ان سے کہا تھا کہ نہیں آپ یہ چھڑی رکھئے۔ تو میری اور دوسرے دوستوں کی ضد پر انہوں نے کہا کہ اچھا بھئی لاؤ۔ تو میں نے کہا کہ دیکھئے اب آپ کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔ اب میں نے دیکھا کہ وہ ذرا سا سٹاپ کرتے ہیں تو اس سے سہارا مل جاتا ہے۔ اب ماشا اللہ 90 کے قریب ہیں وہ۔
سوال : یہ فرمائیے گا کہ سب رنگ اور دوسرے رسالوں کے لیے آپ نے جو کچھ لکھا، اس میں کچھ فرق تھا؟
اسد محمد خاں: میں نے سب رنگ اور دوسرے رسالوں کے لیے جو کام کیا۔ سب رنگ کا مسئلہ تو بالکل الگ تھا کہ جون (ایلیا) کے دوست ہیں بھائی شکیل۔ اور اطہر نفیس لے گئے تھے مجھے کہ بھائی شکیل کے ہاں تم چلو اور سب رنگ کے لیے لکھنا شروع کرو۔ سب رنگ کے لیے میں نے دوسرے یعنی کمرشل رائٹنگ کے مقابلے میں بہت الگ ہو کر لکھا۔ اس لیے کہ بھائی شکیل کہانی کو سمجھتے بھی ہیں اور خاص طور پر ادب میں اس شعبے کو وہ بڑے اچھے سمجھنے والے ہیں۔ تو مجھے ان کے ہاں لکھ کر مزہ آیا لیکن سب رنگ کی چیزوں کو۔ جیسے کہ اور رسالوں کے لیے بھی میں نے لکھا۔
تو اُن کہانیوں میں سے اپنے مطلب کا حصہ لے کر میں نے اس کونئی کہانی میں ڈھال دیا۔ فرض کیا ایک پیراگراف میں نے وہاں سے لیا اور اس کی ایک کہانی بنا لی۔ تو وہ اپنی جگہ پر ہے وہ ایک ایسے قاری کے لیے لکھا ہوا تھا جس کو ہم ایک خاص سطح تک لا سکتے تھے(سب رنگ کا قاری) اور اپنی اس دنیا میں لے جا سکتے تھے کہ جہاں سے دلوں اور دماغوں کو روشن کرنے والے فکشن شروع ہوتی ہے۔ عام رسالوں میں ایک سادہ بیانیے کے ساتھ ایک عام کہانی پسند کرنے والے قاری کے لیے میں نے لکھا۔ زیادہ میں اس میں علامتوں میں تو گیا ہی نہیں اور ایک آسان بیانیہ کے ساتھ میں نے وہ کہانیاں لکھیں جس میں اندرون کا احوال تو تھا لیکن بہت زیادہ دو تین پرت جو ایک کہانی میں رکھتا ہوں میں، وہ نہ تھا۔
مثلاً، سیلو ن، میری ایک کہانی ہے جس میں بظاہر یہ لگتا ہے کہ ایک لڑکا ہے جس کی پرورش ہوئی ہے کوٹھے پر اور وہاں وہ ایک لکڑی کی ٹال کے مالک جو استاد ہدایت اللہ بہاولپوری کے نام سے مشہور ہیں اور ان کے مسائل دیکھتا ہے کہ وہ کسی گانے بجانے والی کو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ دیکھ لیتے ہیں تو وہ گالیاں دیتے ہیں۔ اور پھر ایک روحانی ٹرانسفرمیشن ان میں آئی۔ یعنی ایک عجیب بات ہے کہ ان کا مرشد جو ہے وہ نوجوان آدمی ہے اور وہ ایک سیلون چلاتا ہے ہیئر کٹنگ سیلون۔ اور جو ان سے فیض پانا چاہتے ہیں وہ کٹنگ سیکھ کر ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور پھر فیض حاصل کر کے ان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ اور وہ صاحب سیلون کوٹھوں کے محلے میں یعنی گانے بجانے والیوں کے محلے میں کھولتے ہیں اور جاتے آتے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ جو وہاں سے شب بسری کے بعد واپس آر ہا ہو تا ہے اس کو وہ مل مل کے نہلاتے ہیں۔ ایک عجیب طرح کا۔ اور اندر کی صفائی کا کام خود بخود ہوتا جاتا ہے تبلیغ کے بغیر۔
جارج نام کا ایک عیسائی بہت پرانا طوائف باز ہے۔ وہ بھگا دیا جاتا ہے اور طرح طرح کے مسائل سے گزرتا ہے اور کورٹ کچہری کی طرف بھگا دیا جاتاہے تو اس کو اٹھا کے اپنے سیلون میں لے جاتے ہیں۔ اور پھر وہاں وہ دکھاتے ہیں ایک 72 برس کی ناچنے والی کو۔ جسے گھنٹیا ہے جس کے کھانے کی کوئی سبیل نہیں ہے اور جو کوٹھے کے دلال اور گانے ناچنے والیاں شب بسری کے لیے اپنا کلب کھولے ہوئے ٹائپ کی عورتیں، آٹھ آنے دیتے ہیں جس سے وہ سروائیو کر رہی ہیں اور زندہ ہیں۔ وہ اگر نہ دیں تو وہ عورت مر جائے۔ وہی کیئر کرتے ہیں اور ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جب وہ گزر رہی ہوتی ہیں تو وہ مرشد جو پینتیس چالیس برس کے ہوں گے، معاف کرتے ہیں ہدایت اللہ کو کہ ہدایت اللہ تم اب تو یہاں آکر ہاتھ باندھے کھڑے ہو۔ تو ٹھیک ہے یہ تمہارے شاگردوں نے تحفے میں سیب بھیجے ہیں تو میں پوچھ رہا تھا اس بچے سے کہ کیا یہ حلال کی کمائی کے سیب ہیں۔
تو ہدایت اللہ کیا یہ حلال کی کمائی کے سیب ہیں، اگر حلال کے ہیں تو میری ماں جا رہی ہے اسے یہ سیب دے دو۔ تو کس سطح پر انہوں نے اس کی تربیت کی۔ اس کو کون سپورٹ کر رہی ہیں وہی گانے بجانے والیاں۔ تمہاری طرف تو گھس نہیں سکتیں کیونکہ ناچتی ہیں۔ یہ کہا نہیں انہوں نے یہ Between the Lines ہے۔ انہوں نے بس یہ کہا کہ وہ میری ماں جا رہی ہیں یہ سیب انہیں دے دو۔ اور وہ خاتون وہی ہے جو ان کی کمائی پہ پلتی ہے۔ اور وہ خود بھی یہی کام کرتی تھیں، ناچتی تھیں۔ تو وہ اسے سر پر ٹوکری کو رکھ کے لے جاتے ہیں ہدایت اللہ اور اماں، اماں کہہ کر پکارتے ہیں تو وہ خاتون رکتی ہیں کیونکہ کوئی اسے اماں اماں کہہ کر نہیں پکارتا تو وہ دیکھتے ہیں حیران ہو کر تو وہ رکتی ہیں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ اماں تمہارے لیے یہ سیب لایا ہوں۔ وہ کہتی ہیں میرے لیے تو کہتے ہیں ہاں۔ اور جب وہ لے لیتی ہیں تو قلندروں کی طرح ایک ہاتھ اٹھا کر ناچتے ہیں اور پھر اس کے بعد ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمیں نہیں بتایا کہ اس ایک عورت کے لیے اور کیا کیا گیا۔ دوسرے جو آتے ہیں تماش بینی کرنے۔ لیکن وہ وہاں چھ آٹھ مہینے رہتے ہیں اور پھر اگلے کوٹھے پر۔ اب وہ آخری منظر یہ ہے استاد جاتے نہیں تھے محلے میں ہدایت اللہ۔ ہدہ واحد پوری جاتے ہیں اور اس ٹال کے لیے سال میں سردیوں میں دو تین ٹھیلے بھر کے پہنچاتے ہیں اور ایک پیسہ بھی نہیں لیتے۔
وہ کسی اور کے پاس ہے اب سیلون جہاں حمام وغیرہ ہے۔ گویا وہ بھی کچھ چھوڑ گئے اس میں اصلاح کی صورت میں جو ان کے مرشد چھوڑ گئے ہیں۔ تو وہاں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ یار اللہ بڑا بے پرواہ ہے۔ پتہ نہیں کب استاد جیسوں کو پھر بھیج دے تب یہ جو جارہے ہیں مجھ جیسے بھٹکے ہوئے ان کو میرا مرشد پھر اٹھا لے اور رستہ دکھائے صحیح جیسے جارج کو اٹھا لیا تھا کچرے میں سے جیسے مجھ برے کو اٹھا لیا تھا۔ تو ایسی کہانیاں کچھ خاص تھیں۔
مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے "اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

