یورپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ تین سو سال میں جتنی ترقی انسانی دنیا آج دیکھ رہی ہے، اتنی ترقی انسانی تاریخ میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی،جو ترقی ان تین سو سالوں میں ناچتی گاتی نظر آرہی ہے، وہ ترقی گزشتہ ہزاروں سالوں میں کیوں نظر نہیں آئی، یہ وہ سوال ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے؟اس کی بنیادی وجہ کیا تھی، ویسے تو اس کے بڑے فیکٹرز ہیں۔ ان تین سو سالوں میں فیوڈلزم کا خاتمہ ہوا، سیکولر اور لبرل خیالات سامنے آئے۔ اس کے علاوہ ان تین سو سالوں میں ٹرانسپورٹیشن کا جدید نظام آیا۔ ان تین سو سالوں میں نئی نئی سائنسی ایجادات ہوئی،اس کے علاوہ کیپیٹالزم جیسا نظام آیا، منافع کی لالچ کی وجہ سے نئی نئی چیزیں بنی، کیپیٹالزم کی وجہ سے بہت کچھ ایجاد ہوا۔ دنیا کے لئے عظیم ترقی کے کام کئے گئے۔ لیکن اس کے باوجود سوال یہ ہے کہ اس ترقی کی بنیادی وجہ کیا تھی؟

بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب یورپ کا معاشرہ چرچ کے کنٹرول سے آزاد ہوا تو اس کے بعد یورپ کی دنیا میں عظیم ترقی دیکھنے میں آئی۔ عہد وسطی کے زمانے میں یورپ پر چرچ کا کنٹرول تھا، تمام یورپ کا تعلیمی نظام چرچ کے کنٹرول میں تھا، چرچ مذہبی تعلیم کے ذریعے انسان کی ذہن سازی کرتا تھا۔ بادشاہ اور حکمران چرچ سے خوف زدہ تھے۔ پوپ اور چرچ سے عام آدمی، بادشاہ اور حکمران سب خوف زدہ تھے۔ بادشاہ، حکمران اور عوام خوف کی وجہ سے چرچ کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے۔ جو بھی چرچ کی مخالفت کرتا تھا، اسے عیسائیت سے نکال دیا جاتا تھا۔ بادشاہ ایسا کرتا تو چرچ اس کے خلاف بغاوت کرا کے اسے قتل کرا دیتا تھا، عام آدمی پوپ کے کنٹرول سےباہر نکلنے کی کوشش کرتا تو اسے قتل کردایا جاتا تھا۔ پھر ایک زمانہ آیا جب چرچ اور پوپ کے خلاف منظم انداز میں ایک تحریک چلی، تاریخ میں اس تحریک کو نشاۃ ثانیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس تحریک کی کامیابی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ تعلیم کے نظام کو سیکولر اور لبرل بنیادوں پر کھڑا کیا گیا۔ دنیا کے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیم کے نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ نشاۃ ثانیہ کی تحریک نے یورپ کے تعلیمی نظام کو پوپ اور چرچ سے آزادی دلوا دی۔

خفیہ چھاپہ خانہ

یورپ نےچرچ سے ناتا توڑا اور یورپ کی تہذیب نے اپنے آپ کو یونانی اور رومی تہذیب و ثقافت سے نتھی کردیا۔ یونانی اور رومی تہذیبیں سیکولر تھی۔ چرچ کے خلاف پہلی بغاوت لوتھر نے کی۔ لوتھر نے اصلاح مذہب کی تحریک کی بنیاد د رکھی۔ لوتھر کی وجہ سے یورپ کی عیسائی دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ۔ اس تقسیم نے یورپ میں چرچ کے اثر و رسوخ کو کم کیا۔ پروٹسٹنٹ تحریک کی وجہ سے یورپ میں ذہنی ترقی کی بنیاد رکھ دی گئی۔ تجارت کا دور شروع ہوا۔ سائنسی خیالات کو اہمیت ملنے لگی، اس کے ساتھ ساتھ سیاسی فکر و نظریات میں جمہوری اقدار کی آمد کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کا دور شروع ہوا۔ اس تحریک کی وجہ سے یورپ میں مذہبی تعصبات کا خاتمہ ہوا۔

والٹیئر

اب صرف پوپ کی سچائی دنیا کے سامنے نہ تھی، بلکہ باقی تمام سچائیاں بھی یورپ میں رقص کررہی تھی۔ پہلے یہ تھا کہ چرچ اپنی سچائی کو نافذ کرتا تھا اور باقی سچائیوں پر پابندیاں تھی۔ روشن خیالی کی تحریک نے دنیا کے سامنے کئی جدید اور سائنسی سچائیاں لاکر کھڑی کردی۔ روشن خیالی کی تحریک کا مرکز فرانس بنا۔ عظیم فلسفی روس، والٹئیر اور دیدرو نے روشن خیالی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تینوں فلسفیوں کے جدید خیالات کو یورپی معاشرے میں جگہ مل گئی۔ ان کی وجہ سے یورپ میں متعصبانہ نظریات و خیالات کا خاتمہ ہوا۔ یورپ کا معاشرہ روشن خیال بن گیا۔ فرانس کے فلاسفرز نے یورپ میں ذہنی تبدیلی لانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ والٹئیر نے چرچ کے خلاف آواز بلند کی اور ظالمانہ باشاہت کے خلاف آواز بلند کی اور کہا کہ بادشاہ وہی ہوتا ہے جو عادل ہو، اگر وہ ظالم ہے تو اسے عوام کو ہٹا دینا چاہیئے۔ اس نے ہی پہلی مرتبہ کہا تھا کہ چرچ کے ادارے کو بالکل ختم کردینا چاہیئے۔ اس کے بعد عظیم فلاسفر روسو نے کہا کہ اقتدار اعلی بادشاہ کے پاس نہیں، عوام کے پاس ہونا چاہیئے۔ ان کی وجہ سے فرانس میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا جسے فرنسیسی انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

روسو

ان فلسفیوں کے خیالات کو فرانس کے آئین،دساتیر، قوانین اور رسوم و رواج میں شامل کیا گیا۔ ان خیالات میں آزادی تھی، مساوات تھی، اب اقتدار اعلی عوام کے پاس تھا۔ بادشاہت کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ سماج کے اندر جمہوری روایات پیدا ہو چکی تھی۔ اس فرانس کے انقلاب نے پورے یورپ کو متاثر کیا۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد سماج بدل گیا اور انڈسٹریل صنعتی انقلاب کا آغاز ہو گیا۔ پہلے پورے یورپ کی آمدنی کا ذریعہ زراعت تھا۔ انڈسٹریل صنعت کاری نے سرمایہ داری کو پیدا کیا۔ اس سرمایہ داری کے خلاف سوشلزم کا ظہور ہو گیا۔ یورپ میں سوشلزم کی وجہ سے جمہوری اقدار میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں بنیں، ریاست کا ادارہ ایسا بنادیا گیا جس کا مقصد عوام کی خدمت تھا۔ عوام کے مسائل کو دور کیا گیا اور یہ سب کچھ سوشلزم کی وجہ سے ممکن ہوا۔ اس ساری کہانی میں بنیادی وجہ وہ عظیم مفکرین اور فلسفی ہیں جن کے خیالات کی وجہ سے یورپ کا معاشرہ تبدیل ہوا۔ ان فلسفیوں کی وجہ سے یورپ چرچ کے کنٹرول سے مکمل طور پر آزاد ہو گیا۔ اب یورپ میں لاکھوں کے حساب سے کتابیں شائع ہورہی تھی، انسانوں کے ذہن تیزی سے بدل رہے تھے۔ انگلینڈ میں ڈیوڈ ہیوم اور ڈیوڈ سمتھ جیسے فلاسفر آگئے، ان کے فلسفیانہ خیالات و نظریات نے سنجیدگی سے انگلینڈ کے نئے سماج کی بنیاد رکھی۔

جرمنی کی طرف دیکھا جائے تو جرمنی ہمیشہ عظیم فلسفیوں کا گڑھ رہا ہے۔ عظیم فلسفی ہیگل کا تعلق جرمنی سے تھا۔ ہیگل کی وجہ سے تاریخ کا نیا نظریہ سامنے آیا۔ اس نے کہا انسانی عزائم اور خیالات کی تکمیل ہمیشہ تاریخ سے ہی ممکن ہے۔ اس نے جو تاریخ کا جدلیاتی نظریہ پیش کیا، اس میں کہا گیا کہ تاریخ ہمیشہ تین انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ ایک ہوتا ہے تھیسس، اس کی مخالفت میں اینٹی تھیسس آتا ہے۔ یہ خیال تھیسس کے ردعمل میں پید اہوتا ہے۔ ان دونوں میں تضادات اور کشمکش ہوتی ہے۔ پھر ان تضادات میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے، پھر یہ تھیسس بن جاتا ہے۔ اس نے کہا تاریخ ہمیشہ جدلیاتی طور پر ایک کشمکش کی صورت میں آگے بڑھتی ہے۔ جدلیاتی نظریئے نے تاریخ کے اصولوں کو بدل کر رکھ دیا۔ پھر یوں ہے کہ یورپی سمجھ گئے کہ تاریخ حقیقت میں کیا ہے اور کس طرح آگے بڑھتی رہتی ہے۔ ہیگل کا نظریہ یورپی اور جرمن افراد کے لئے بہت اہم ہو گیا۔ ہیگل کے فلسفے کی وجہ سے مارکس نے اپنے نظریئے کی بنیاد ڈالی۔ جدلیاتی نظریئے کو طبقاتی جدوجہد کے نظریئے کے ذریعے ثابت کیا۔ اس نے کہا پوری تاریخ میں طبقاتی جدو جہد جاری رہتی ہے۔ انسان کو سکون اس وقت ملے گا جب طبقاتی جدو جہد ختم ہو جائے گی اور معاشرے کے اندر حتمی مساوات قائم ہو جائے گی۔

ان تمام فلسفیوں کی وجہ سے یورپ میں انقلابی سوچ پیدا ہو ئی۔ یورپی تہذیب و تمدن جو اس وقت نظر آرہا ہے، اس میں تمام یورپ کے فلسفیوں کا حصہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کسی بھی تہذیب و تمدن کی ترقی میں فلسفی ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ فلسفیوں نے انسان کی سوچ بدلی، ریاست کے کردار کو تبدیل کیا، ریاست قومی ریاست بنی۔ ریاست چرچ کے کنٹرول سے باہر نکلی۔ یورپ کے ذہن کو آگے بڑھانے میں فلسفی پیش پیش تھے۔ آج ہمارے معاشرے کی وہی کیفیت ہے جو صدیوں پہلے یورپ کی تھی۔ لیکن کیا یہاں ایسے فلسفی ہیں جو جدید، لبرل اور آزاد انسان کو پیدا کررہے ہیں ؟یہاں تو وہ ہیں جو اس جدید دور میں بھی قدیم روایات کا احیاٗ چاہتے ہیں۔ کیا آج ہمارے معاشرے میں کہیں سے یہ آوازیں آرہی ہیں کہ جدید دور کے جدید نظریات کو اختیار کیا جائے۔ کیا کوئی ایسا ہے جو یہ کہتا ہو کہ یہاں سوشلزم ہو، لبرل ازم ہو، سیکولرازم ہو۔ ہم نے ترقی کرنی ہے تو وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے آپ کو بدلنا ہوگا، اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •