کیا مدارس اور مولوی کی کوئی ضرورت ہے؟


مسلم معاشرے میں مولوی اور مدارس کے کردار پر بہت کچھ لکھا بولا گیا ہے۔ اس سلسلہ کے تمام مباحث اکثر دو انتہاؤں کے درمیان جھولتے ہیں۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کی رائے میں مولوی مسلم قوم کے اصل اور اکلوتے قائد ہیں اور مدارس اسلام کے قلعے ہیں۔ دوسرا طبقہ ایسے افراد پر مشتمل ہے جس کی نظر میں مولوی کا وجود کلی طور پر بے فائدہ بلکہ نقصان دہ رہا ہے اور مدارس سے جو افراد نکل رہے ہیں مسلم معاشرے میں ان کا نہ ہونا، ان کے ہونے سے زیادہ فائدے مند ہوتا۔ ضروی ہے کہ ان دو انتہاپسندانہ آرا کے درمیان پائے جانے والے منظرنامہ پر بات کی جائے۔ میرا محدود مشاہدہ اور کمزور اندازہ کہتا ہے کہ اس جھگڑے کی جڑ دینی اور دنیاوی تعلیم کو الگ الگ کرنے کے نظریہ میں دھنسی ہے۔ جب تک مسلم معاشرے میں دینی اور دنیاوی تعلیم کی تفریق رہے گی، کالج اور مدارس کے درمیان مناظرے کا ماحول رہے گا اور اہل کالج و اہل مدارس ایک دوسرے کی افادیت سے یکسر انکاری رہیں گے تب تک یہ مقدمہ نہیں سلجھنے والا۔

دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان فرق کا پورا مقدمہ دراصل اس سوال پر قائم ہے کہ ان دونوں میں زیادہ اہمیت کس کی ہے؟۔ یہ سوال آج کے اس تعلیمی نظام کے لئے عجیب ہے جس میں ایک شعبہ دوسرے شعبہ کی تکذیب نہیں کرتا۔ کوئی انجینئر کسی ڈاکٹر کی اہمیت کا سرے سے انکار نہیں کرتا اور کوئی اکاؤنٹینٹ کبھی یہ نہیں کہتا کہ علم تو بس اکاؤنٹینسی ہی ہے جرنلزم یا ماس کمیونی کیشن جیسے مضامین دراصل کوئی علم ہیں ہی نہیں۔ معلوم ہوا کہ متمدن دنیا کا تعلیمی نظام الگ الگ شعبوں میں بٹے ہونے کے باجود ایک دوسرے کی افادیت سے انکار نہیں کرتا بلکہ اس کے نزدیک علم ایک ہمہ گیر مملکت ہے اور الگ الگ شعبے اس کے ضروری اجزائ ہیں۔ دینی اور دنیاوی تعلیم کے درمیان تلخ رشتہ کا سبب یہ ہے کہ دینی علوم والے دنیاوی علوم کو علم تک گرداننے کے روادار نہیں ہوتے اور برملا کہتے ہیں کہ یہ تو محض فن ہے۔ اس کے جواب میں دنیاوی علوم والے بھی اکثر جارحانہ موقف اپنا کر دینی علوم کی افادیت کا سرے سے انکار کر دیتے ہیں۔

اب سوال یہ آ کھڑا ہوا کہ کیا اس جھگڑے کو ختم کرنے کی کوئی صورت ممکن ہے؟۔ اس سلسلہ میں جاوید احمد غامدی نے ایک کارآمد مشورہ دیا تھا لیکن چونکہ غامدی صاحب کو بعض مذہبی عناصر پسند نہیں کرتے اس لئے ان کے مشورے پر کون کان دھرتا؟۔ غامدی صاحب کے مطابق کسی بھی علم میں اسپیشلائزیشن کرنے سے پہلے ہر ایک طالب علم کو بنیادی تعلیم کے عمل سے گذرنا ہوتا ہے۔ ایک ہمہ گیر تعلیمی نظام میں بنیادی تربیت پانے کے بعد اسپیشلائزیشن کی منزل آتی ہے جس کے تحت کوئی ڈاکٹری کی تعلیم کی طرف چلا جاتا ہے، کوئی انجینئرنگ کی راہ لے لیتا ہے اور کسی کو اکاؤنٹینسی پسند آتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی بچہ جس دن اسکول میں داخل ہو اسی دن سے اسے میڈیکل یا انجینئرنگ پڑھانا شروع کر دیا جائے۔ مدارس اسلامیہ میں عمومی طور پر ہر طالب علم کو پہلے دن سے اسپیشلائزیشن کی تعلیم دی جانے لگتی ہے جبکہ وہ رائج بنیادی تعلیم سے محروم ہوتا ہے۔ اس صورتحال کے سبب ان طلبہ کا رابطہ رائج تعلیمی نظام سے کٹ جاتا ہے اور وہ اسپیلائزیشن کی تعلیم اس عالم میں مکمل کرکے نکلتے ہیں کہ ان کی نظر میں اپنے علاوہ کوئی اور نظام تعلیم جائز ہوتا ہی نہیں۔ غامدی صاحب کے مشورے کے مطابق جس طرح کسی اسکول میں پہلے دن داخل بچے کو انجینئر یا ڈاکٹر بنانا شروع نہیں کیا جاتا ایسے ہی مدارس میں پہلے دن داخل بچے کو عالم دین بنانا نہ شروع کیا جائے اور 15 برس کی عمر تک بنیادی تعلیم دینے کے بعد پھر انہیں اختصاص یعنی اسپیشلائزیشن کی طرف بھیجا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ فارغین مدارس اور دنیاوی علوم کے درمیان پائی جانے والی خلیج کچھ نہ کچھ ضرور کم ہوگی۔

مولوی اور مدارس کی مسلم معاشرے میں اہمیت کے حوالے سے یہ نکتہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ صرف مولوی یا مدارس کو ہر ایک معاملہ میں ذمہ دار نہیں بنایا جا سکتا۔ سماج ایک ہمہ گیر نظام ہوتا ہے جس میں الگ الگ شعبوں کے لئے مختلف ماہرین درکار ہوتے ہیں۔ بات کو مزید آسانی سے سمجھنے کے لئے ایک ریاست کی مثال دی جا سکتی ہے جہاں الگ الگ محکمے متعلقہ ماہرین کی مدد سے مختلف شعبوں کو دیکھتے ہیں۔ ریاست کا پورا نظام کوئی ایک محکمہ نہیں دیکھتا اور نہ ہی دیکھ سکتا ہے۔ بس اسی طرح مولوی اور مدارس کا بھی سماج میں لامحدود کردار نہیں ہو سکتا۔ مولوی اور مدارس سیاست سے لیکر عبادت تک ہر شعبہ کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ جہاں مذہبی امور میں رہنمائی کے لئے مولوی اور مدارس کا کردار ہوگا وہیں دوسرے امور میں دیگر ماہرین کی بھی اہمیت رہے گی۔ برصغیر میں مولوی اور مدارس کی کوشش رہی ہے کہ وہ سیاسی منظرنامے پر بھی محور کا درجہ حاصل کر لیں اور انہیں کی چشم و ابرو کے اشارے پر مسلم معاشرہ اپنی سیاسی آرا کا تعین کرے۔ اعضا کی پیوند کاری سے لیکر قانون تک ہر شعبہ میں مسائل کے تصفیہ صرف مولوی اور مدارس کی پنچایت طے کرنے لگے گی تو معاملات کے مزید پیچیدہ ہو جانے کا پورا خدشہ رہے گا۔

سوشل میڈیا پر دینی اور دنیاوی علوم کی بحث اور کالج و مدارس کے درمیان جاری مناظرے بازی کے درمیان انتہاپسندی کا اظہار دونوں ہی فریقین کھل کر کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیاوی علوم کے وکیلوں کا کہنا ہوتا ہے کہ مدارس کے طلبہ فکری اعتبار سے پسماندہ، جنسی طور پر فرسٹریٹ اور دنیا سے بے خبر ہوتے ہیں وہیں مدارس کے طلبہ کا الزام ہوتا ہے کہ کالج اور یونیورسٹیوں میں طلبہ صرف ناچ گانے اور زناکاری میں غلطاں رہتے ہیں۔ اس تلخ بحث سے آگے بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ مفاہمت کی کوئی راہ ڈھونڈی جائے۔

Facebook Comments HS

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 117 posts and counting.See all posts by malik-ashter