شکریہ، جنرل اسد درانی


 آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابقہ چیف ایس اے دلت کے ساتھ لکھی گئ کتاب دی سپآئی کرونیکلز نے ملک میں ایک ہنگامہ سا بپا کر دیا ہے۔  اسد درانی نے اس کتاب میں اسامہ بن لادن اور ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں جو اہم انکشافات کئیے ییں ان کو لے کر دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ میں بے حد اضطراب اور بے چینی کی کیفیت ہے۔  ایک سابقہ سربراہ کا یہ تحریر کرنا کہ ایبٹ آباد آپریشن میں پاکستان کی مرضی شامل تھی اور امریکہ سے پچاس ملین ڈالرز کے عوض ہمارے ایک سابقہ فوجی افسر کی جانب سے اسامہ کی مخبری کی گئی انتہائی سنجیدہ نوعیت کا الزام ہے۔ اسد درانی اپنی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ پچاس ملین ڈالرز میں سے اگر رقم کا ایک حصہ یا کوئی فارم ہاوس سابقی آرمی چیف جرنل اشفاق پرویز کیانی کو بھی ملا ہے تو وہ خود اس معاملے پر احتجاج کی صدا بلند کریں گے۔

کشمیر پالیسی کے حوالے سے بھی جنرل اسد درانی کا بیان انتہائی اہم ہے اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ امان الہ خان کو گڈ بک سے نکال کر جماعت اسلامی اور لشکر طیبہ کی تائید کو بھی ایک غلطی قرار دیا ہے۔  یاد رہے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ہمیشہ سے کشمیر کی خودمختاری چاہتی تھی اور پاکستان یا بھارت سے الحاق کے بجائے ایک خود مختار کشمیر کی طالب تھی۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ میرا جیسا نابغہ جسے کم عمری میں امان اللہ خان سے ملاقاتوں کا شرف حاصل رہاہے ، یہ بات تب ہی سے سمجھتا تھا کہ امان اللہ خان کا خود مختار کشمیر کا مطالبہ ہی کشمیر کے مسئلے کا واحد پریٹیکل حل ہے لیکن ہماری دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کو یہ بات جاننے اور سمجھنے میں قریب چار دہآئیاں لگ گئیں۔  جنرل درانی نے ہائپر نیشنلزم یعنی حد سے زیادہ حب الوطنی کو ملک میں شدت ہسندی کی وجہ قرار دیا۔ حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن نہ کرنے کی وجوہات بھی بتائیں۔  غرض ہر وہ سچ اور حقیقت جس سے وطن عزیز کا ہر باخبر شخص واقف ہے اسے اسدر درانی نے اپنی کتاب میں تحریر کیا۔

اس کتاب کے منظر عام پر آنے کے بعد جی ایچ کیو کی جانب سے اسد درانی کو وضاحت کیلئے طلب کیا جا چکا ہے اور 28 مئی کو انہیں جنرل ییڈ کوارٹرز راولپنڈی میں اس ضمن میں وضاحت دینے جانا ہے۔  جنرل اسد درانی کی اپنے سابقہ بھارتی ہم منصب کے ساتھ لکھی گئ کتاب نے دراصل اس حقیقت اور ضرورت کو آشکار کیا ہے کہ ہمیں اپنی تاریخ میں سے جھوٹ اور پراہیگینڈے پر مبنی خودساختہ اور من گھڑت حقائق کو نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔  اب غالبا وقت آن پہنچا ہے کہ جب اپنی تاریخ کو درست کرنے کیلئے تمام حقائق منظر عام پر لائے جآئیں ۔  جنرل اسد درانی چونکہ خود فوج کے سابقہ افسر ییں اس لئیے ان کے سچآئی بیان کرنے پر نہ تو انہیں غدار کے لقب سے نوازا گیا اور نہ ہی انہیں سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا۔  یہ بھی ہماری دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کی ذرہ نوازیاں ہیں کہ وہ جب اور جہاں چاہیں کسی بھی منتخب نمائندے کو غداری کی سند عطا کر دیتی ہیں لیکن اپنے پیٹی بھآئی کو ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد جانے دیتے ہیں۔

حیران کن طور پر دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کے وظیفہ خوار صحافی اور دانش ور ابھی بھی اسد درانی کے بتائے ہوئے حقائق کو یا تو سرے سے ماننے سے ہی انکار کر رہے ہیں یا پھر پالش کا کام جی جان سے کرتے ہوئے موجودی عسکری قیادت سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ فوجی افسران کی کتابوں یا یاداشتوں کو چھپائی سے پہلے عسکری اداکاروں سے قبولیت کی سند کو حاصل کرنا لازم قرار دیا جائے۔  یعنی اہنا گھر اور قبلہ درست کرنے کے بجائے ہر اس حقیقت کو مسخ کرنے کی روایت برقرار رکھی جائے جو ہمارے ناکام دفاعی بیانئیے اور خارجہ پالیسیوں میں کمی اور کوتاہیوں کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔

ذرا سوچئیے کہ اگر یہ کتاب کسی عام مصنف یا پھر کسی سابقہ وزیراعظم نے لکھی ہوتی تو اس کے ساتھ کیا سلوک روا ہوتا۔  ابھی تک شاید اسے غدار قرار دیکر اس پر آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے مقدمے کی کاروآئی کا آغاز ہو چکا ہوتا۔  یہ حقیقت اس وطن میں سویلینز اور وردی کے فرق کو عیاں کرتی دکھآئی دیتی ہے۔  وطن عزیز میں سویلین اور عوامی نمائندے شودر تصور کئیے جاتے ہیں اور وردی والے جرنیل برہمن کے درجہ پر براجمان ہیں۔  اسد درانی نے کتاب میں جو انکشافات کئیے ہیں ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے پالیسیوں اور بیانیوں پر زبردستی عسکری ایسٹیبلیشمنٹ اپنا تسلط جمائے رکھتی ہے ۔ حب الوطنی اور امریکہ سے نفرت کے جنون میں عام عوام کو اندھا بنا کے خود امریکہ سے مالی اور سفارتی فوائد بھی حاصل کئیے جاتے ہیں، امریکہ کے ایما پر کرائے کی جنگوں کو جہاد کا نام دیا جاتا ہے اور پھر امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے کہ نعرے بھی خود ہی لگوائے جاتے ہیں۔  اب اسامہ بن لادن کی مخبری کر کے پچاس ملین ڈالرز میں سے حصہ وصول کر کے وطن عزیز میں موجود فضآئی ریڈارز بند کر دیے جآئیں اور امریکی فوج کو ایبٹ آباد میں آپریشن کرنے دیا جائے تو پھر ہمارے ناقابل تسخیر قوت اور دشمنوں پر ہماری عسکری طاقت کی ہیبت و خوف کے دعوے ایک بھونڈا مذاق ہی لگیں گے۔

چونکہ اس حوالے سے یہ تمام حقائق اسد درانی نے پیش کئیے ہیں اس لئیے جان کی امان چاہتے ہوئے اتنا ہی کہنا ہے کہ راقم تحریر پر غصہ کرنے کے بجائے لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی صاحب کو کٹہرے میں طلب کیجئے گا جن کے الزامات کی بدولت خاکسار دفاعی بیانیے کے کھوکھلے اور دوغلے ہونے کے متعلق تنقید کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔  چونکہ ہمارے قومی وقار کو ایبٹ آباد آپریشن ، کے بجائے اس کے محرکات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے سے ٹھیس پہنچتی ہے اس لئیے راقم تحریر کو اس وسیع ترین قومی مفاد کے تحت معاف کر دیجئے گا جس کو روز اول سے بنیاد بنا کر کبھی ملک میں گڈ اور بیڈ طالبان پالے جاتے ہیں تو کبھی بھارت سے پراکسی جنگ لڑنے کیلئے لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی جیسی شدت پسند تنظیمیں پالی جاتی ہیں۔  وہی وسیع ترین قومی مفاد جس کو جواز بنا کر میرے عزیز ہموطنو کا درس ہر دس سال بعد دیتے ہوئے آمریت نافذ کی جاتی ہے اور کبھی ڈالرز کے عوض افغان جہاد اور پھر اس جہاد کے نتیجے میں پیدا کئیے گئے اپنے ہی بچوں کے خلاف ایک اور ڈالر سپانسرڈ جنگ دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر لڑی جاتی ہے۔  وہی وسیع ترین قومی مفاد جو ہر منتخب پاپولر سیاسی رہنما کو سیکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے اسے محلاتی سازشوں کے دم ہر کبھی سیاست اور کبھی زندگی سے ہی ناک آوٹ کر دیتا ہے۔ ویسے قرائن بتاتے ہیں کہ اب شاید اس وسیع تر قومی مفاد کے چورن کا بکنا محال ہو چکا ہے۔  پہلے ریمنڈ ڈیوس نے اپنی رہآئی کے ضمن میں جنرل پاشا صاحب اور دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کی مہربانیوں اور التفات کا ذکر کیا اور اب ماشاالئہ خود جنرل اسد درانی صاحب نے ایسی مزید مہربانیوں کا خود ذکر کر ڈالا ہے۔  جنرل درانی نے را چیف دلت کے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ نواز شریف کو ان کی خارجہ محاذ بالخصوص بھارت دوارے پالیسیوں کے حوالے سے عسکری حلقوں میںں سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔  یعنی نواز شریف نے جو الزام لگایا ہے کہ انہیں نکالنے کی سازش ایسٹیبلیشمنٹ نے کی تھی وہ جنرل اسد درانی کے اس بیان کی روشنی میں سو فیصد درست نظر آتا ہے۔

جنرل اسد درانی کو ایک کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس کتاب میں کم سے کم انہوں نے سچ بولنے کی جسارت کی ہے اور دفاعی ایسٹیبلیشمنٹ کی غلط پالیسیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں فیصلوں کی قوت صرف عسکری اداروں کے پاس ہے۔  اس کتاب میں بتائے گئے حقائق سے پاکستان کا ہر باخبر شخص واقف ہے لیکن ان حقائق کو ایک عام آدمی کھل کر بیان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا کیونکہ عام آدمی کو ان موضوعات پر تحریر کرنے کا جرمانہ لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہونے یا نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل ہونے کی صورت میں بھرنا پڑتا ہے۔  شاید اب وقت آن پہنچا ہے کہ جنرل اسد درانی کی مانند کچھ اور سابق جرنیلز بھی آگے آئیں اور ہماری جنگی اور سیاسی تاریخ کے جھوٹوں پر سے پردہ اٹھا کر وطن عزیز میں سچ کی بنیاد پر نئے بیانئیے کو ہروان چڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ فی الحال تو ہمیں اس کتاب اور اس کے نتیجے میں منظر عام عام ہر آنے والے حقائق کی روشنی میں جنرل اسد درانی کو "شکریہ” کہنا چاہیے۔

Facebook Comments HS