گولڈ فش، چوہے، بلی اور مچھر کی آنکھ سے دنیا کیسی نظر آتی ہے؛ ملاحظہ کیجیے

ہمیں مختلف مناظر کس طرح سے نظر آتے ہیں یہ تو ہم جانتے ہیں لیکن چوہوں، بلیوں، مکھیوں اور مچھروں کو یہ دنیا کیسی نظر آتی ہے؟ اب سائنسدانوں نے یہ معمہ بھی حل کر دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے 600کے لگ بھگ جانوروں اور حشرات کی بصری طاقت کا اندازہ لگا کر کچھ مناظر بنائے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ جانوروں اور حشرات کو دنیا کیسی نظر آتی ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق کے بعد ایک ہی منظر کو بار بار دکھایا ہے جس میں وہ بالکل واضح سے آہستہ آہستہ دھندلا ہوتا جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق انسان کو جو منظر بالکل صاف نظر آرہا ہوتا ہے وہ بلی کو معمولی فرق سے صاف نظر آتا ہے۔ اس کے بعد گولڈ فش کو وہ ہلکا سا دھندلا نظر آتا ہے۔ پھر چوہے کا نمبر آتا ہے اور اسے وہ کافی دھندلا نظر آتا ہے۔ مکھی کو یہ منظر اس قدر دھندلا نظر آتا ہے کہ اشیاءکے بس آثار نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد مچھرکی باری آتی ہے اور منظر مکمل دھندلا ہو جاتا ہے، یعنی جو منظر ہم بالکل صاف دیکھتے ہیں وہ مچھر کو نظر ہی نہیں آتا۔
سائنسدانوں نے اس تحقیق میں ایک چارٹ ترتیب دیا ہے جس کے مطابق سب سے تیز نظر عقاب کی ہوتی ہے اور وہ سرفہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر انسان اور چمپنزی آتے ہیں۔ اس کے بعد کتا، زرافہ، شترمرغ، اونٹ اور دیگر اقسام کے جانور اور حشرات آتے ہیں اور سب سے آخر میں مچھر آتا ہے جسے سب سے کم دکھائی دیتا ہے۔اس چارٹ کے مطابق انسان کی نظر بلی سے 7گنا، چوہوں اور گولڈ فش سے درجنوں گنا اور مچھروں سے سینکڑوں گنا زیادہ تیزہے۔ڈوک یونیورسٹی کی اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ایلینر کیویس کا کہنا تھا کہ ”جانوروں، پرندوں اور حشرات کی بہت کم اقسام ہیں جو انسان سے زیادہ تیز دیکھ سکتی ہیں، باقی تمام اقسام کسی منظر کو اتنی تفصیل سے نہیں دیکھ سکتیں جتنی تفصیل سے ہم انسان دیکھتے ہیں۔“
Facebook Comments HS



