ڈاکٹر حسن عسکری کو دھکا کس نے دیا؟


مجھے امید ہے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کبھی اس شخص کو معاف نہیں کریں گے جس نے ان کا نام نگران وزارت اعلی کے لیے تجویز کیا ۔ نگرانی کام ہی ایسا ہے۔ ہاتھ پاؤں بندھے ہوتے ہیں  اور کہا جاتا ہے "اج لٹ لے جناں لٹنا جے”. ڈاکٹر صاحب کی نامزدگی سے پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ سردار جی نے اپنے دوست کو بتایا کہ سائیکل پر سوار ایک خاتون جب ساحل پر نہانے پہنچیں تو سردار جی کی غیر معمولی شرافت سے متاثر اور شدت جذبات سے مغلوب ہو کر بولیں، ” لٹ لے سردارا جو لٹنا جے اج” اور سردار جی خاتون کی سائیکل لے کر بھاگ آئے۔ دوست نے پوری رام کہانی سن کر کہا، ” چنگا کیتا سردارا! آہاں زنانیاں دے کپڑے کی کرنے سن” یعنی "تم نے ٹھیک فیصلہ کیا۔ عورتوں کے کپڑے اٹھا بھی لیتے تو ہمارے کس کام کے”۔

عسکری صاحب سے ہمارا بڑا عقیدت کا رشتہ ہے اور ہمارا نہیں، سبھی کا احترام کا رشتہ ہے۔ ہمارا ہر اس شخص سے احترام کا تعلق ہوتا ہے جو ہمیں کوئی مالی یا مادی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

کچھ بد گمان نگرانوں کو نادانوں کے ایما پر نامعلوم مدت تک ناآسودہ خواہشوں کی تکمیل کرتا دیکھ رہے ہیں حالانکہ بہت سمجھایا کہ نگران صرف لالٹین پکڑیں گے اور لالٹین بھی فیتے والی۔ ڈاکٹر حسن عسکری صاحب نے ایک مجرد زندگی گزاری ہے اور یہ تجرد خدانخواستہ شیخ رشید والا نہیں جہاں بندہ صرف بھینس باندھنے سے گریزاں ہو کیونکہ اسے دودھ دستیاب ہے بلکہ یہ تجرد تعقل کے سامنے سر نہیوڑائے کھڑا رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بہت گہرے آدمی ہیں جو اپنی ذات کے چند پہلو ہی ظاہر کرتے ہیں۔  نظم و ضبط بھی کمال ہے اور پرانے سے پرانے تعلق میں بھی بس لیے دیے ہی رہتے ہیں لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہر انسان کو سماجی زندگی میں برابر اہمیت دیتے ہیں ۔

وہ مجھے شکل سے تو پہچانتے ہیں لیکن شاید غائبانہ تعارف میں نہ پہچان پائیں۔ انہوں نے گھر بدلا اور مجھے اتفاق سے ان کے گھر جانا پڑا۔ انہیں اس وقت تک چین نہیں پڑا جب تک کہ میں ان کے دروازے تک نہیں پہنچ گیا۔ ہمارا پروگرام خبرناک ظاہر ہے ڈاکٹر صاحب کے مزاج سے بہت مختلف ہے لیکن اپنی بات کہنے کے لیے وہ اس میں بھی آجاتے تھے (بغیر کسی معاوضے کے) گو کہ ان پر ایسے فقرے بھی کسے جاتے، "ڈاکٹر صاحب موٹے شیششیاں دی عینک نال دوجے نوں اینج ویکھدے نیں جیویں طوطی امباں نوں”۔ یعنی ڈاکٹر صاحب موٹے شیشوں کی عینک کے ساتھ یوں دیکھتے ہیں جیسے طوطی آموں کو” ۔ کوئی بد لحاظ تو یہاں تک بھی کی دیتا کہ، ” ڈاکٹر صاحب! اچے ہو کے بیٹھو لگدا اے ٹوئے وچ بلی بیٹھی اے”. ڈاکٹر صاحب نے نہ کبھی گلا کیا اور نہ ہی جواب دیا۔ مجھے انہوں نے بتایا کہ وہ باقاعدہ نوٹس بناتے ہیں اور تجزیہ خالص فیکٹس پر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب جیسے تجزیہ کار ٹی وی کے لیے موزوں نہیں لیکن مجبوری یہ ہے کہ اگر آ پ ٹی وی پر تجزیہ نہیں کرتے تو بس پھر آ پ کو وہی سنے گا جو بیوی کی بدمزاجی سے تنگ آ کر آ پ کے پاس آئے گا۔ بھولا کانا کیونکہ بہت ہی بدتمیز ہے ،ایک دن بولا ،” اینے تجزیہ کار آ گئے نیں کہ وٹا کتے نوں مارو، وجدا تجزیہ کار نوں اے”  یعنی اتنے تجزیہ کار آ گئے ہیں کہ پتھر کتے کو بھی ماریں تو لگتا تجزیہ کار کو ہے”. میں نے کہا بھولا جی آ پ کو ٹی وی والے بلاتے جو نہیں، اس لیے جلتے ہو۔ تو بھولے کانے نے کہا، جانے دو یار جس کی اولاد گھر میں دوسری بات نہیں سنتی، وہ سیاست، تاریخ اور تہذیب کے بخیے یوں ادھیڑ ریا ہوتا ہے جیسے

چلا آ رہا ہے سمندروں کے وصال سے

کئی لذتوں کا ستم لیے جو سمندروں کے فسوں میں ہے

حالانکہ ذرا غور کرنے پر پتہ چلتا ہے حضرت مہا جغادری ہیں اور انہوں نے انسانی تاریخ کو چند ناموں اور واقعات کے ساتھ رٹا ہوا ہے۔ ہر جگہ جعلی غصہ طاری کر کے وہی بک دیتے ہیں اور لوگ عش عش کر اٹھتے ہی  کہ "اج فلانے نے اودھی فلانی نوں اے کر دتا، اے کر دتا ".

ڈاکٹر صاحب کیونکہ فیکٹس پر غیر جانبدارانہ بات کرتے ہیں اور کسی کی دلآزاری نہیں ہوتی اس لیے لالٹین ان کے ہاتھ میں پکڑا دی گئی ہے۔ جلد ہی ڈاکٹر صاحب "میں کہاں اور یہ وبال کہاں” کے مصداق اکتائے ہوئے نظر آئیں گے۔ ذاتی زندگی پر حملے ہوں گے، سنجیدگی پر تبرے بھیجے جائیں گے، تجرد پر آوازے کسے جائیں گے اور اگر خدانخواستہ عمران خان کے ہتھے چڑھ گئے تو رہے نام اللہ کا۔ امید ہے ڈاکٹر صاحب سب سے دلچسپ "سیاست دان” ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS