ظالم یورپ والے ہمیں ویزہ کیوں نہیں دیتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے چند قریبی احباب اس غلط فہمی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ دوچار ممالک کی سیاحت کے بعد اب میرے لیے کسی ملک کا ویزہ حاصل کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہا جبکہ درحقیقت میں خود بھی برطانیہ کا ایک دفعہ ویزہ حاصل کرنے کے بعد دوسری دفعہ ناکام رہ چکا ہوں۔ میرے دوست اکثر مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ وہ ایسی کون سی ’خفیہ‘ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے حصول ویزہ کی مکمل دستاویزات ہونے کے باوجود کسی ترقی یافتہ ملک کے لیے عموماً پہلی دفعہ عام لوگوں کی ویزہ درخواستوں کو معمولی اعتراض لگا کر نامنظور کر دیا جاتا ہے یا اگرآپ کے کاغذات پر کوئی اعتراض نہ بھی لگ سکے تو زیادہ تر ویزہ نہ دینے کی صرف یہ وجہ بتائی جاتی ہے کہ ویزہ آفیسر آپ کے وطن واپسی کے دعوے سے مطمئن نہیں ہے۔ مزید یہ کہ اب تو بعض ممالک نے عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے آپ کی اپیل کا حق بھی ختم کر دیا ہے۔

موجودہ دور میں انٹرنیٹ کی برکتوں کی وجہ سے اب شاید ہی کوئی خفیہ معلومات ’خفیہ‘ رہ پائی ہوں۔ بہرحال پھر بھی آج ہم ان خفیہ ’سنہری اصولوں‘ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی بنیاد پر اکثر عام لوگوں کو(اشرافیہ کے علاوہ) کسی جدید ریاست کا ویزہ آسانی سے نہیں مل پاتا اور اگر خوش قسمتی سے مل بھی جائے تو متعلقہ ریاست کے ہوائی اڈے پر دوسری اقوام کے مقابلے میں ہمارے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ کیوں اختیار کیا جاتا ہے۔

کسی ملک کی کسی بھی کیٹگری کے ویزہ کے حصول کے لیے سب سے اہم سفری دستاویزات پاسپورٹ کے ساتھ تمام لازمی مطلوبہ اور سپورٹنگ ڈاکومنٹس (جو کہ ہر صورت میں اصلی ہونی چاہئیں) کی بنیادی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ آپ متعلقہ ویزہ آفیسر کو اس بات کا مکمل یقین دلا سکیں کہ آپ ویزہ ملنے کی صورت میں اپنی ویزہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے وعدے کے مطابق بہرصورت اپنے آبائی وطن واپس جائیں گے۔ مدت ویزہ ختم ہونے پر وہاں غیرقانونی طو رپر ’کھسک‘ کر کسی ملازمت یا کاروبار کے غیرقانونی دھندے میں ہرگز ملوث نہیں ہوں گے اور اس ملک کے پبلک فنڈز پر بھی آپ اپنا ناجائز حق جتانے کی کوشش ہرگز نہیں کریں گے۔ دوسرے معنوں میں متعلقہ ویزہ آفیسر کو اس معاملہ پر مکمل قائل کر لینا ہے کہ آپ کا اپنے آبائی وطن کے ساتھ اتنا گہرا اور مضبوط رشتہ ہے یا آپ کے اپنے ملک میں آپ کے کندھوں پر ایسی ذمہ داریاں او رمجبوریاں ہیں کہ آپ نے ویزہ درخواست میں واپسی کی جو تاریخ بتائی ہے، اس کے مکمل ہوتے ہی فورً اپنے آبائی وطن واپس کوچ کریں گے۔

یہاں ایک اہم بات لازمی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ متعلقہ ویزہ آفیسر آپ کی سابقہ ٹریول ہسٹری اور دیگر ضروری کاغذات کی چھان بین کے علاوہ آپ کی ریاست کی مجموعی معاشی، معاشرتی، سیاسی یا مذہبی صورتحال وغیرہ کو بھی لازمی مدنظر رکھتا ہے۔ تھوڑی سی تحقیق کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملکی حالات اور سابقہ و موجودہ ’کالے کرتوت‘ ہی ہمارے لیے حصول ویزہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جن کوہم سمجھ نہیں پا رہے اور نہ ہی سمجھنا چاہتے ہیں اور مسلسل اسی غلط فہمی میں رہنا چاہتے ہیں کہ متعلقہ ویزہ آفیسر اپنے سفارتخانے میں بند آنکھوں اور بہرے کانوں والا ایسا بدنصیب قیدی ہے کہ اس کو کچھ پتہ نہیں کہ باہر کی دنیا اور ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ مثلاً:

  1. ویزہ آفیسر اتنا بھولا ہے کہ آج تک اسے اس بات کا قطعاً علم نہیں ہو پایا کہ ہم چند ٹکوں کے عوض جعلی کاغذات (جعلی ڈگری سے لے کر پاسپورٹ تک) تیار کرنے میں اتنی مہارت حاصل کر چکے ہیں کہ ان کے مقابلے میں اصلی دستاویزات جعلی محسوس ہونے لگتی ہیں جن کے مسلسل استعمال کا خوفناک نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ ہمارے سب سے معتبر ڈیٹابیس کے قومی ادارے ’نادرا‘ کی اصل دستاویزات کی قانونی حیثیت کو بھی بعض جدید ممالک تسلیم کرنے سے صاف انکاری ہیں یعنی نادرا کے جاری کردہ برتھ یا میرج سرٹیفکیٹ وغیرہ کی قانونی حیثیت کو بھی اب تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اب آپ کو اپنے خاندان سے رشتہ ثابت کرنے کے لیے کم از کم DNA ٹیسٹ کروانا پڑے گا۔ ویسے تو غیرملکیوں کو بے دریغ پاکستانی پاسپورٹ جاری ہونے کی وجہ سے شاید آئندہ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ممالک ہمارے پاسپورٹ کو بھی تسلیم کرنے سے کہیں انکار نہ کر دیں۔
  2. متعلقہ ویزہ آفیسر اس بات سے مکمل بے خبر ہے کہ سٹوڈنٹ ویزہ کے غلط استعمال کرنے میں پوری دنیا میں اللہ کے فضل سے ہمارا شمار پہلی صف میں ہوتا ہے۔
  3. ویزہ آفیسر اتنا صوفی منش شخص ہے کہ اس کے علم میں یہ معاملہ آج تک نہیں آ سکا کہ اس کے اپنے ملک میں پولیس جب کسی کی ’مخبری‘ پر کسی ادارے، ریسٹورنٹ یا سٹور پر چھاپہ مارتی ہے تو وہاں سے گرفتار ہونے والے زیادہ تر تارکین وطن بدقسمتی سے ہمارے ہم وطن ہی ہوتے ہیں۔
  4. یہ اہم معاملہ بھی اس بے چارے کے ذہن میں آج تک نہیں آسکا کہ فنگر پرنٹ یا دیگر جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے قبل تک ہم اپنے سگے بہن بھائیوں کے جعلی نکاح نامے تیارکر کے یا دوسروں کے بچوں کو اپنا ظاہر کر کے انسانی سمگلنگ کا کاروبار نہایت ڈھٹائی اور کامیابی کے ساتھ سرانجام دیتے رہے ہیں۔
  5. ویزہ آفیسر اتنا تنہائی پسند ہے کہ اسے آج تک ہمارے پیپر میرج کے ذریعے دھڑا دھڑ جدید فلاحی ریاستوں کی شہریت حاصل کرنے کی داستانوں کا قطعاً علم نہیں ہو سکا جو کہ لمحۂ موجود میں بھی کسی نہ کسی صورت میں مسلسل جاری وساری ہے۔
  6. ویزہ آفیسر بے چارہ اتنا سادہ ہے کہ اسے ہرگز علم نہیں کہ کیسے ہم جعلی دستاویزات پر کامیابی کے ساتھ سیاسی پناہ کے حقدار ٹھہرتے رہے ہیں اور اب بھی موقع ملنے پر ہرگز باز نہیں آتے جس کا سب سے بڑا نقصان سیاسی پناہ کے اصل حقدار اپنے ہم وطنوں کو ہی اٹھانا پڑتاہے۔
  7. ویزہ آفیسر اتنا اللہ والا ہے کہ وہ ہمارے خمیر میں چھپے اس مستقل مزاجی کے عمل کو آج تک ڈھونڈ نہیں پایا کہ ہم بہتر سماجی اور معاشی مستقبل کی خاطر ہجرت کر کے کسی جدید فلاحی ریاست میں جا بستے تو ہیں لیکن ’جیسا دیس ویسا بھیس‘ پر الٹا عمل کرتے ہوئے تادم مرگ اس ’کافر‘ معاشرے کے تمام فوائد سمیٹنے کے باوجود اس کے معاشرے کو اپنی جوتی کی نوک پر ہی رکھنا گوارا کرتے ہیں۔
  8. یہ بات بھی ویزہ درخواست کے فیصلہ کے وقت قطعاً ویزہ آفیسر کے ذہن میں نہیں ہوتی کہ خود اپنی ساری عمر اس ’کافر‘ معاشرے میں گزارنے کے باوجود اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدار کو بچانے کے بہانے ہم اپنی اگلی نسل کا رشتہ ہر صورت میں اپنے آبائی وطن میں ہی کرانا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں بننے والا یہ نیا رشتہ اس سماج میں نوارد کے لئے بالکل اَن فٹ ہوتا ہے جس سے مستقبل میں مزید پیچیدہ اور گھمبیر مسائل جنم لیتے ہیں۔
  9. ویزہ آفیسر ہماری ان ’خفیہ باطنی‘ صلاحیتوں سے ذرا سا بھی آشنا نہیں ہے کہ ہم جنرل ضیاء الحق کے افغان وار کے عظیم تحفہ افیون اور منشیات کو بڑی مہارت کے ساتھ زیادہ تر اپنی ہی قومی ایئرلائنز کے بھرپور تعاون سے باآسانی دنیا کے کسی بھی کونے میں پہنچا سکتے ہیں۔ کبھی کبھار کسی ’غدار‘ کی مخبری پر متعلقہ ریاست کے ظالم جنگی جہاز ہماری قومی ایئرلائن کو گھیرے میں لے کر بحفاظت کسی دوردراز کے ہوائی اڈے پر اتارنے پر مجبورہو جاتے ہیں جس کی گونج ایک لمبے عرصے تک بین الاقوامی میڈیا میں سنائی دیتی ہے لیکن ہم حسب روایت بجائے شرمندہ ہونے کے پوری بے شرمی کے ساتھ اگلے آرڈر کی سپلائی کی تیاری میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
  10. چونکہ ویزہ آفیسر اسلام آباد میں واقع فیض آباد چوک کے بارے میں قطعاً کوئی معلومات نہیں رکھتا اس لیے کچھ عرصہ پہلے اسے بائیس دن کے ہمارے مذہبی عدم برداشت کے بھیانک رویوں کے دھرنے کا بھی ہرگز علم نہیں اورنہ ہی 2014ء کے ڈی چوک کے ایک سو بیس دن کے طویل لیکن ’کنٹرولڈ‘ دھرنے کے بارے میں وہ کوئی معلومات رکھتا ہے کیونکہ اس طویل دھرنے کے دوران ڈپلومیٹک انکلیو سے ڈی چوک کا راستہ مکمل طور پر بند تھا۔
  11. یہ بات بھی ویزہ آفیسر کے وہم وگماں میں نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کے ظالمانہ طرزحکومت کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری کا جن بے قابو ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کئی بے چارے نوجوان اپنے سنہرے مستقبل کی تلاش میں سفاک جعلی ایجنٹوں کے ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹا کر یونان، ترکی، لیبیا اور آسٹریلیا وغیرہ کے ساحلوں یا سرحدوں پر ناقابل شناخت لاشوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر ان لاشوں کو اپنے آبائی وطن میں دفن کرنا بھی ہماری ریاست کے لیے ایک پہاڑ جیسی آزمائش بن جاتی ہے۔
  12. ویزہ آفیسر ہمارا یہ دوغلہ پن آج تک سمجھ نہیں پایا کہ اپنی ریاست میں تو اپنے گھر اور محلے کی صفائی اقلیتی ’اچھوت‘ کے بغیر ممکن ہی نہیں لیکن دوسری طرف کسی ترقی یافتہ ریاست میں اپنے بہتر مستقبل کی خاطر انہیں اقلیتی ’اچھوتوں‘ کے تلوے چاٹنے کے مواقع ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
  13. اسے ہماری آپس کی مذہبی رواداری کا بھی بالکل علم نہیں کہ اب ہمیں ہر اہم موقع پر اپنی عبادت گاہوں پر سیکیورٹی فورسز تعینات کرنی پڑتی ہیں اس بندوبست کے بغیر اب ہم اپنے رب کے حضور پیش بھی نہیں ہو سکتے۔
  14. ہمارے ’’جدید تعلیمی معیار‘‘ کی بدولت میڈیا میں آئے روز تیزرفتاری کے ساتھ نکلتی جعلی ڈگریوں کے ہوشربا قصے بھی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ویزہ آفیسر نہیں سن سکا ہے اور اب تو چربہ سازی میں ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بعض کرتا دھرتا بھی اس حوالے سے خبروں کا موضوع بننے لگے ہیں۔
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •