مہان قبیلے کی کہانی، رازوں کی بوسیدہ کتاب اور خاموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بوڑھا بھکشو بیس راتوں کی مسافت کے بعد بہادروں کی اس بستی میں پہنچا تھا۔ یہاں کے مرد چوڑے شانوں والے تھے۔ طلسمی کہانیوں کے شہزادوں جیسے، جو بڑے قد والے گھوڑوں کی سواری کرتے تھے۔لمبے چغے، ریشمی دستار اور کمر سے چمکدار تلواریں باندھ کر رکھنے والے۔

اپنے وطن سے چلتے وقت بھکشو کے پاس ایک چھوٹی سی پوٹلی تھی۔ زاد راہ کے علاوہ جس میں ایک بوسیدہ کتاب تھی ، زندگی کے راز وں والی کتاب۔ سفر کے اکیسویں دن، جب جنگل کا گھنا پن قدرے کم ہوا تو اسے بہتے پانی کا شور سنائی دیا۔ بہتا پانی زندگی کا نمو ہے، وہ زیرلب مسکرایا ۔ اس کے چوڑے ماتھے پر تمدن کی گہری لکیریں واضح نظر آنے لگیں۔ چند کوس کی مسافت کے بعد جنگل تمام ہوا تو سامنے ایک بستی نظر آئی، جو دریا اور جنگل درمیان آباد تھی۔ دریا اور جنگل کے بیچ سانس کے دھاگے پربہت ساری گرہیں ہوں گی ، ایک اور خیال! مگر اس نے جھٹک دیا اور سر جھکائے بستی کی جانب چل پڑا۔

بستی، جس کی سرحد پر ڈھیر سارے باڑھ لگے تھے۔ وہ پہلی باڑھ کے قریب پہنچا تو اسے بانسوں سے بنے ایک اونچے مچان سے آواز آئی ” وہیںرک جاﺅ ورنہ سینے میں تیر پیوست کر دیا جائے گا“۔ بھکشو رک گیا۔ ایک سپاہی بھالے کی نوک اس کی پیٹھ میں چبھو کر مورچے کی جانب لے گیا۔ اس کی تلاشی لی گئی۔ چھوٹے سپاہی نے پوٹلی کھولی اور بڑے سپاہی نے اس میں سے کتاب الٹ پلٹ کر دیکھی، پھر رعب دار آواز میں پوچھا ،یہ کیا ہے؟ کتاب ہے، بھکشو نے جواب دیا۔ معلوم ہے خبطی بڈھے کہ اسے کتاب کہتے ہیں۔ لکھا کیا ہے اس میں؟ ۔ بھکشو نے لہجے کی تلخی، بھالے کی نوک اور سوال کے تال میل پر غور کیا۔ تلوار تھامنے والے کھردرے ہاتھ کیا کتاب کا لمس محسوس کرنے سے ساری زندگی محروم رہیں گے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔اسے یونان کے کسی عقوبت خانے میں کتاب پر سر جھکائے ایک بوڑھا یاد آیا۔ بڑا سپاہی چلا اٹھا، بول بڈھے کیا لکھا ہے اس میں؟ بھکشو نے جھرجھری لی اور بہت دھیمی آواز میں کہا، ” میرے پرکھوں کی عبادت کا طریقہ لکھا ہے“۔ کتنے دن یہاں رکو گے؟ بس سستانے کو ایک دو دن۔’ جاﺅ! مگر بستی میں اجنبیوں کو ضرورت سے زیادہ بولنے کی اجازت نہیں“۔ بھکشو نے تعمیل میں گردن ہلائی۔

سرائے کا دروازہ ایک نوجوان نے کھولا۔ بوڑھے بھکشو نے نوجوان پر بہت ملائم نگاہ ڈالی مگر نوجوان کے چہرے پر کرختگی تھی۔صبح بھکشو بستی میں نکلا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تمدن کے اس پار کیسے انسان بستے ہیں۔ یہیں اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ یہاں کے مرد چوڑے شانوں والے تھے۔ طلسمی کہانیوں کے شہزادوں جیسے، جو بڑے قد والے گھوڑوں کی سواری کرتے تھے۔ بستی کی زمین مگر تھور زدہ تھی۔ ٹنڈ منڈ درخت جہاں گرنے کو تھے۔ بستی میں کہیں جھونپڑے تھے اور کہیں خوبصورت بنے گھر، جن میں اکثرکے گرد باڑ ھ لگے تھے اور ان کے سامنے دربان پہرہ دے رہے تھے۔ ہر کوچے میں خوشنما عبادت گاہیں تھیں جن کے سامنے نوجوانوں کے غول جمع تھے۔کہیں کہیں اسے چند عورتیں بھی نظر آئیں جنہوں نے چہروں پر بڑی بڑی چادریں لٹکا رکھی تھیں۔ وہ بہت دھیمی آواز میں بات کرتی تھیں۔بھکشو نے دیکھاکہ بستی کے ہر باسی کے چہرے پر اذیت نمایاں ہے۔ ہر چہرہ کرخت ہے، حتی کہ بچوں کے چہرے بھی سپاٹ تھے۔ دن گزر گیا۔ اس کی تھکن اتر چکی تھی۔وہ صبح اس تھور زدہ بستی سے نکل جانا چاہتا تھا۔

اگلے دن مگر جانے سے پہلے وہ یہاں کوئی مکتب دیکھنا چاہتا تھا تاکہ اس بستی کے بارے میں کچھ جان سکے۔ وہ تاریک گلی میں خستہ حال مکتب میں داخل ہوا تو حیرت کا ایک جہاں آباد تھا۔ دیواروں پر قد آدم انسانی تصاویر کے خاکے بنے ہوئے تھے۔ بچوں کے ہاتھوں میں رنگین قلم تھے جن سے وہ ان خاکوں میں کچے رنگ بھر رہے تھے۔ کہیں سپاہیوں کے خاکے تھے، کہیں بادشاہوں کی تصاویر ، کہیں منصفوں اور کہیں پیشواﺅں کی تصاویر ۔ ایک دو تصاویر عورتوں کی بھی تھیں مگر ان کے چہروں پر جلباب نقش کی گئی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ایک ٹولی میں دو سپاہی بچوں کو تیر اندازی اور تلوار بازی کی مشق کرا رہے تھے۔ ایک اور جانب ایک معلم بچوں کی ایک ٹولی کو درس دے رہا تھا۔ ’ ہم مہان ہیں‘۔ بچوں نے پڑھا ہم مہان ہیں۔ معلم کی آواز آئی، ’ زور سے پڑھو، ہم مہان ہیں۔ بچے، ہم مہان ہیں۔ معلم، ہم مہان تھے۔بچے، ہم مہان تھے۔ ہم مہان رہیں گے۔ہمارے اجداد بہادر تھے۔ ہماری دھرتی عظیم ہے۔ ہم خالق کے خاص بندے ہیں۔معلم بولتا رہا، بچے دہراتے رہے‘۔ بھکشو نے دیکھا کہ ہر عمر کے بچوں کی ٹولی میں یہی سبق دہرایا جا رہا تھا۔

چلتے چلتے بھکشو اس ٹنڈ منڈ درخت کے نیچے تخت پر بیٹھے ایک معلم کے پاس بیٹھ گیا۔’ میں مسافر ہوں، دریا پار جا رہا ہوں‘۔ اس نے اپنے تعارف سے گفتگو کا آغاز کرنا چانا۔ ہوں! معلم نے ہنکارا بھرا۔ بھکشو نے تامل سے پوچھا، یہ بچے ان تصاویر میں رنگ کیوں بھر رہے ہیں؟ معلم نے کرختگی سے کہا، ’ یہ یہاں کا دستور ہے‘۔ بھکشو، یہ ہر عمر کی ٹولی کو ایک ہی سبق کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ ’ یہ بھی دستور ہے‘ ۔ مگر ہر ٹولی کو صرف یہی سبق کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ معلم نے اس پر ایک قہر آلود نظر ڈالی اور اٹھ کر چلا گیا۔ بھکشو حیران تھا کہ یہ کیا اور کیسا دستور ہے؟ تھوڑی دیر بعد دو سپاہی آئے اور بھکشو کو پکڑ کر کھینچنے لگے۔ بھکشو نے پوچھا، مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ میں نے کیا جرم کیا ہے؟ مگر وہ بتوں کی طرح خاموش تھے۔اسے گھسیٹتے ہوئے زندان کے ایک اندھیری کوٹھڑی میں پھینک دیا گیا۔

وہ کئی دن اور بہت راتیں چیختا رہا، چلاتا رہا مگر اس کی آواز کہیں نہیں پہنچ رہی تھی۔ جانے کتنی مدت بیتی، شاید چند مہینے یا سال۔ پھر ایک دن وہ کوتوال کی عدالت میں کھڑا تھا۔ایک آدمی ہاتھ میں ایک کاغذ لئے چبوترے پر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے کہا، ’ قیدی سوال کا مجرم ہے۔ اس نے ہمارے اجداد کے تقدس پر سوال اٹھایا ہے۔ اس جوانوں کی بہادری، پیشواﺅں کی برگزیدگی اور بڑے سپہ سالار کی تصویر میں رنگ بھرنے پرسوال اٹھایا ہے۔ اس نے بستی کے دستور کی خلاف ورزی کی ہے‘۔ کوتوال نے تھوڑی دیر سر جھکایا اورپھر بوڑھے بھکشو سے کہا، کیا تم نے یہ جرائم کئے ہیں؟ بھکشو نے گلو گیر آواز میں کہا، میں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔ کوتوال نے ہاتھ میں کاغذ پکڑے آدمی کی طرف دیکھا۔ اس نے بھکشو سے سوال کیا، کیا تم نے معلم سے سوال کیا تھا کہ بچے تصویروںمیں رنگ کیوں بھر رہے ہیں؟ جی پوچھا تھا۔ کیا تم نے پوچھا تھا کہ بچوں کو یہ سبق کیوں پڑھایا جا رہا ہے؟ جی پوچھا تھا مگر…. خاموش! کوتوال کی آواز گونجی۔ ’ قیدی کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔میں حکم دیتا ہوں کہ اس کی زبان کاٹ دی جائے اور اسے دریا پار پھینک دیا جائے‘۔ بھکشو نے چلانا اور گڑگڑانا شروع کیا مگرعدالت برخاست ہو چکی تھی۔’ یونان کے بوڑھے معلم ، عدالت آج بھی فریاد سے پہلے برخاست ہوئی‘۔ اس نے دل میں کسی کو مخاطب کیا۔

نوجوان ملاح نے جب بھکشو کو دریا کے دوسرے کنارے پر رکھا تو بھکشو کو ہوش آیا۔ اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا۔اس نے بولنے کی کوشش کی تو اس کے منہ میں درد کی شدید ٹھیس اٹھی۔ اسے یاد آیا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ اس نے ملاح سے اشاروں میں کچھ پوچھنے کی کوشش کی۔ نوجوان ملاح کا چہرہ سپاٹ تھا مگر اس کی آنکھیں بھرائی ہوئی تھیں۔ اس نے انکار میں سر ہلا دیا اور منہ کھول کر زبان باہر نکالنے کی کوشش کی۔ بھکشو نے دیکھا کہ ملاح کی زبان کٹی ہوئی ہے۔

مدت بعد جب وہ ملاح بوڑھا ہو چکا تھا، ایک دن اس کے بیٹے کو باپ کی پرانی کشتی میں سے ایک خستہ کتاب ملی۔قلمی نسخے کی روشنائی مٹ چکی تھی۔پہلے پنے پر بس ابواب میں کہیں کہیں ایک آدھ عبارت پڑھنے کے قابل تھی۔اس نے پڑھنے کی کوشش کی ’جنگ کی وحشت میںامن کے سر…. جبر کی دھرتی پرانسان کی برابری کا خواب…. بنجر زمین پرپھولوں کا نصاب…. چھالوں زدہ ہاتھوںمیں مسکراہٹوں کی لکیریں‘۔

وہ حیرت زدہ اسے دیکھتا رہا۔پھول ، مسکراہٹ، برابری، انسان…. یہ اس بستی کے شبد نہیں تھے۔اسے یاد کہ جب وہ بہت چھوٹا تھا، اور باپ کے منہ میں زبان سلامت تھی تو راتوں کو سرگوشیوں میں اس کا ملاح باپ اسے ایسی ہی کہانیاں سنایا کرتا تھا، جن میں یہی شبد تھے۔ وہ شبد جن کے مفہوم سے بستی کے باسی واقف نہیں تھے۔اس نے طے کیا کہ وہ ان عنوانات کی تحریر پھر سے لکھے گا ۔اس نے سوچا کہ پہلے باب میں اپنی بستی کی کہانی لکھے گا تاکہ تمدن کی بستیوں سے آنے والے مسافروں کو خبر ہو کہ یہاں کا دستور کیا ہے۔

دیر رات کو اس نے قلم اٹھایا اور پہلے باب کا عنوان لکھا،

” زندگی۔۔اناج۔۔عبادت ۔۔اور تھور زدہ مٹی سے محبت کا دستور“۔

بولنے والو تمہیں کیا ہوا؟ کیا اس وقت بولو گے جب تمہاری زبانیں کاٹ دی جائیں گی؟ لکھنے والو تمہیں کیا ہوا؟ کیا اس وقت لکھو گے جب آوازوں کے بطن سے مفہوم فنا ہو جائیں۔ دیکھنے والو…. اس نے ا تنا ہی لکھا تھا کہ باہر گلی میں لمبے قد والے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ اس نے جلدی سے کتاب اور قلم پرانی صندوق میں پھینک دئیے اور سرہانے رکھی خوشمنا کتابوں میں سے ایک کتاب اٹھائی اور زور زور سے پڑھنے لگا، ’ ہم مہان ہیں۔ ہمارے اجداد مہان تھے….‘

(مصوری: انعام راجہ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 179 posts and counting.See all posts by zafarullah

––>