نگران وزیر اعلی بلوچستان، پیغام کیا ہے ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو ظاہر تھا کہ بلوچستان میں سیاستدان نگران وزیراعلی کا فیصلہ نہیں کر پائیں گے۔ نواب زہری نے جب وزارت اعلی گنوا لی تھی۔ تب بہت سوچ سمجھ کر اپوزیشن لیڈر پختون خواہ ملی عوامی پارٹی سے لایا گیا تھا۔

اپوزیشن لیڈر یہی سوچ کر لایا گیا تھا کہ نگران وزیراعلی نامزد کرتے وقت جتنا ممکن ہو اتنا لچ تلا جا سکے۔حکومت کو ان کو جی بھر کے پکایا جائے ۔ اپنا بندہ نگران وزیراعلی لایا جائے۔ حکومت کا تو کسی صورت نہ آنے دیا جائے۔

وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اپوزیشن لیڈر کے دیے نام مسترد کر دیے تھے۔ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں گیا تو اس کے بھی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے بزنجو صاحب کے نامزد کردہ علاؤالدین مری کو وزیراعلی بلوچستان نامزد کر دیا ہے۔ علاؤالدین مری کا تعلق مستونگ سے ہے۔
مستونگ میں کوئی مری دریافت کرنا ایسے ہی ہے جیسے وزیرستان سے کوئی رانا جنگ بہادر ڈھونڈ لیا جائے۔

علاؤالدین مری کا تعلق دھوار قبیلے سے ہے۔ یہ قبیلہ بلوچی فارسی مکس قسم کی دھواری زبان بولتا ہے۔ ان کے خاندان کا مری کہلائے جانے کا واقعہ بھی دلچسپ ہے۔

خاندان کے ایک سرخ سفید بزرگ کہیں بازار سے گزرے۔ ان کی سرخ سفید رنگت اور سنہرے بالوں کی وجہ سے انہیں کسی نے مری صاحب کہہ دیا تو یہ لوگ مری مشہور ہو گئے۔

کہتے ہیں کہ نواب زہری کی حکومت سے کوئی بزرگ ہستی بالکل پک گئی تھی۔ اس بزرگ نے سرفراز بگٹی اور عبدالقدوس بزنجو کو بلا کر نوید مسرت دی۔ ان سے کہا تم دونوں میں سے جو نواب زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے گا۔ وہ اگلا وزیراعلی ہو گا ۔

یہ حامی عبدالقدوس بزنجو نے بھری ۔ وہ ہی وزیراعلی بلوچستان بنے۔ سرفراز بگٹی سوچتے ہی رہ گئے کہ چیف آف جھلاوان نواب زہری  کے خلاف سرگرم ہونے کی سیاسی قبائلی قیمت کیا ہو گی۔

عبدالقدوس بزنجو کا تعلق آواران ضلع سے ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر کی عسکری تنظیم کا زور اسی علاقے میں سب سے زیادہ ہے۔ بزنجو کو پانچ سو ووٹ لیکر ایم پی اے بننے کا طعنہ اکثر دیا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ انہوں نے ڈاکٹر اللہ نذر کے سامنے کھڑے ہونے کی کیا قیمت ادا کی ہے۔

بزنجو کے حامیوں کے گاؤں مسمار کیے گئے۔ بزنجو صاحب کا اپنا گھر عسکریت پسندوں نے گرایا۔ انہیں اپنا علاقہ چھوڑ کر کراچی کے بلوچستان کے آخری شہر حب میں منتقل ہونا پڑا۔

عبدالقدوس بزنجو بے سروسامان حب پہنچے ۔ علاؤالدین مری (دھوار) بزنجو کے میزبان بنے۔ ایک دن دو دن نہیں کچھ ہفتے بھی نہیں ۔ کئی سال تک وہ بزنجو صاحب کے ایک طرح میزبان رہے۔ علاؤالدین صاحب حب شہر کے ایک کامیاب کاروباری ہیں۔ ان کے والد بیوروکریٹ رہے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری تک پہنچے۔

نواب زہری کو ہٹانے پر قدوس بزنجو وزیراعلی بنے۔ خود ہٹے ہیں تو ان کا نزدیکی دوست نگران وزیراعلی آیا ہے۔ اس پیغام کے سیاسی اثرات تو آپ کا جو دل کرتا ہے سوچتے رہیں۔ پاکستان کا جھنڈا اٹھائے رکھنے والوں کے سائیں تگڑے ہیں۔ انہیں چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں ۔ ان کی حمایت میں لائین کراس بھی کرنا پڑے تو کر گزرتے ہیں۔

دلیر سنگھ مہدی کا گانا بڑا حسب حال ہے ۔ ساڈے نال رہو گے تے عیش کرو گے ۔
ویسے آپس کی بات ہے نواز شریف، محمود خان، حاصل بزنجو اور ڈاکٹر مالک یہ سب اپوزیشن میں ہوں تو برا شگون نہیں ہے کہ یہ سب بھی پاکستان اور بلوچستان کے اتنے ہی خیر خواہ ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 400 posts and counting.See all posts by wisi