ایڈیٹرکی ڈاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفیدپوشی کابھرم قائم رہنے دیا جائے

مکرمی!ہم فاضل ممبران پارلیمنٹ نے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی کے فارم میںنیک نیتی سے کچھ تبدیلیاں کرتے ہوئے ان میں پوچھے گئے غیرضروری اورذاتی سوالات کو نکال دیاتھا۔اس کارخیرکے پیچھے کئی نیک مقاصدکارفرماتھے ۔

مثلاً:فارم ہذاکو آسان اورعام فہم بنانا‘غیرمتعلقہ معلومات اورتفصیلات کی جانچ پڑتال سے عدالتوں اورایف بی آرجیسے اداروں کا قیمتی وقت بچانااورالیکشن لڑنے والے سفیدپوشوں کوشرمندگی سے بچاناوغیرہ وغیرہ‘تاہم فاضل عدالتوں نے دوبارہ انہی سوالات کو بیان حلفی کی صورت کاغذات نامزدگی کاحصہ بنانے کے احکامات جاری کیے‘ توامیدواروں میں تشویش کی لہردوڑگئی۔

نتیجہ یہ نکلاکہ جب سے امیدواروں کے اثاثوں کی تفصیلات میڈیا میں آنی شروع ہوئیں ہیں‘ ہم سفیدپوش شرمندگی سے منہ چھپاتے پھررہے ہیں‘کیونکہ محض چندٹکے اوردنیاوی آسائشیں نہ رکھنے کی بناپرہم ایک مادہ پرست معاشرے میں رسواہوکررہ گئے ہیں۔

اس لاحاصل مشق میںبرائے نام اثاثے‘ شرمناک بنک بیلنس اوراسی حساب سے ٹیکس ریکارڈرکھنے؛ حتیٰ کہ ذاتی گاڑیاں تک نہ ہونے جیسے حقائق آشکارہونے پرکتنے ہی شرفا کی سفیدپوشی کابھرم ٹوٹ گیا۔ اتنی باریک بینی سے تو رشتہ دیتے وقت بھی کام نہیں لیا جاتا ۔

ماضی قریب میں ایسی ہی ایک غیر اخلاقی پابندی کے طفیل بی اے کی ڈگریاں اور ارکین پارلیمنٹ کافی رسوا ہو چکے ہیں ۔آج پھر کاغذات کی منظوری اوراستردادکے مراحل میں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بناپرشرفا کی سفیدپوشی کورونق کوچہ وبازاربنایاجارہاہے۔

‘جبکہ ہمیں جانچنے کے لیے ایک سطری بیان حلفی کافی تھا کہ میں حلفاًبیان کرتا ہوں کہ میں اپنی ذات میں ایک مکمل شیخ رشیدہوں(گویامیں کنفرم صادق اورامین ہوں) آپ کے موقرروزنامے کے توسط سے جناب چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر سے درد مندانہ اپیل ہے کہ روپیہ پیسہ ہاتھوں کی میل ہے اور اثاثوں ‘ قرضوں‘ کریمنل کیسوںاوردہری شہریت وغیرہ نے بھی یہیں رہ جانا ہے ‘ سواب بھی وقت ہے کہ ایسی فانی چیزوںپرمٹی ڈالی جائے‘ انہیں جذبۂ عوامی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنایا جائے ۔

اپنی سفیدپوشی کابھرم رکھنااور الیکشن لڑ کر ملک و قوم کی خدمت کرنا ہمارے بنیادی حقوق ہیں۔ براہِ کرم انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں حقوق سے محروم نہ کیا جائے (امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی )

خبطی آفیسر کا تبادلہ کیا جائے

مکرمی! بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے ویسے ہی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ۔ اوپر سے واپڈا نے ہمارے علاقے میںایک خبطی سے ایس ڈی او صاحب تعینات کردیئے ہیں‘ جنہوں نے شرفاء کا جینا مزید حرام کردیا ہے ۔ اپنے نفسیاتی عارضے کے سبب موصوف کی واحد مصروفیت موٹے شیشوں کا چشمہ ناک پر دھرے گلی کوچوں میں گھوم کر بجلی کی تاروں کے ساتھ لگے کنڈے تلاش کرنا ہے ‘ نیز عینک کا نمبر صحیح نہ ہونے کی بنا پر انہیں ہر دوسرے گھر کے میٹر میں بھی ہیر پھیر نظر آتا ہے ۔

ایس ڈی او صاحب اب تک کوئی پندرہ عدد معززین دیہہ کے خلاف بجلی چوری کے جھوٹے مقدمات درج کر ا کے انہیں رسوا کرچکے ہیں ‘ جس سے علاقہ بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ موصوف کے اس غیر حکیمانہ شوق سے ان کے دفتر کا اصل کام شدید متاثر ہو رہا ہے ۔

اور ویسے بھی پردہ دار گھرانوں کی گلیوں کے پھیرے شریفوں کا وتیرہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری پر امن بستی میں کوئی بھی بجلی چوری نہیں کرتا۔ اگر کوئی لڑکا بالا کنڈا شُنڈا لگا بھی لے تو ہم خود اس کا احتساب کرتے ہیں اور آئندہ اُسے دن دیہاڑے ایسی حرکت کرنے سے سختی کے ساتھ منع کر دیتے ہیں ۔ آپ کے مؤقر روزنامہ کے توسط سے وزارت پانی و بجلی کے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ اس خبطی ایس ڈی او کا یہاں سے تبادلہ کیا جائے اور اپنے جیسا کوئی ذمہ دار اور فرض شناس آفیسر تعینات کر کے ہمیں مشکو ر فرمایا جائے۔ ( اہلیان، ڈیرہ بجلی چوراں)

دولت کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے

ہمارے محکمے پر اللہ کا بڑا فضل ہے ‘مگر ہمارے مقامی دفتر میں اوپر کی کمائی کی تقسیم میں انتہائی غیر منصفانہ اور متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے ۔ کل کمائی کا ساٹھ فیصد چند افسران‘ جبکہ باقی چالیس فیصد ہم ڈھیر سارے کلیریکل اور نان کلیریکل سٹاف کے حصے میں آتا ہے ؛ حالانکہ سائلان سے یہ رقوم اور ان کی بد دعائیں ہم ہی وصول کرتے ہیں اور شکایت کی صورت میں کارروائی بھی ہمارے ہی خلاف ہوتی ہے ۔ حکام بالااس نا انصافی کا نوٹس لیں اور دولت کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں کہ آخر انہوں نے بھی ایک دن خدا کے آگے جواب دہ ہونا ہے ( اہلکاران ‘محکمہ ہذا من فضل ربی )

لوڈ شیڈنگ کے اوقات مقرر کیے جائیں

ہمارے علاقے میں بجلی کے آنے جانے کا کوئی وقت مقر ر نہیں‘ جس سے ماہانہ لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔اکثر رات کو اچانک اس وقت بجلی آن کر دی جاتی ہے جب ہم لوگ گھروں میں نقب لگا کر دھندے میں مصروف ہو تے ہیں ۔مقامی گرڈاسٹیشن کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کی بنا پر ہمارے کئی ساتھی جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ وزارت ِپانی وبجلی کے حکام نوٹس لیں اور لوڈ شیڈنگ کے اوقات مقر ر کیے جائیں‘ تاکہ ہم ٹائم ٹیبل بنا کر یکسوئی کے ساتھ کاروبارکر سکیں اوراپنے بچوں کے لیے باعزت دال روٹی کابندوبست کرسکیں ( اہالیان پنڈ چوراں)

کتاب نہ چھاپی جائے

مکرمی!میرے خلاف پری پول دھاندلی کی مہم زوروں پرہے ۔عین انتخابات کے موسم میں میرے خلاف من گھڑت الزامات پرمشتمل بیرون ملک ایک کتاب شائع کرانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے‘ جس کے مندجات کی طرف اشارہ کرتے بھی مجھے شرم آرہی ہے۔

یہ مستندکرپٹ افراد‘ چوروں اورلٹیروں کی ایک سوچی سمجھی اورگہری سازش ہے‘ جس مقصدمیری نیک نام شہرت کو داغدارکرکے میراووٹ بنک متاثرکرناہے۔اتفاق سے مصنفہ خودبھی خاصی داغدادشہرت کی حامل ہیں‘ جو سراسرفرضی اورجھوٹے واقعات کا سہارالے کرمجھے بدنام کررہی ہیں۔اگریہ کتاب مارکیٹ میں آگئی توصاف‘ شفاف اورغیرجانبدارانہ انتخابات کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوگی۔آپ کے موقرروزنامے کے توسط سے نگران حکومت سے درخواست ہے کہ بھرپورسفارتی کوششیں کرکے بیرون ملک اس کتاب کی اشاعت کو رکوایاجائے‘ تاکہ بین الاقوامی مبصرین کو عام انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔(چیئرمین ،ایک سیاسی جماعت)

کتاب چھاپی جائے

ولایت میں ہمارے ملک کے ایک نام نہادسیاسی رہنما کے متعلق بھیانک حقائق پرمشتمل کتاب اشاعت کے آخری مراحل میں ہے‘ مگراندرون ملک سے اس میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔فاضل مصنفہ کوبذریعہ دھمکیاں اوردیگراوچھے ہتھکنڈہ جات ڈرایادھمکایاجارہاہے‘گویاہماراسرمایہ ضائع کرایاجارہاہے۔مرادیہ ہے کہ ایک قومی سرمائے کو ضائع کرنے کی مذموم کوشش ہورہی ہے۔

نگران حکومت کا فرض ہے کہ وہ عظیم مصنفہ کوسکیورٹی فراہم کرنے اورکتاب کی اشاعت کے سلسلے میں ہرطرح کاسفارتی اثررسوخ استعمال کرے ‘ تاکہ کتاب جلدازجلدمنصۂ شہودپرآکرصاف اورشفاف انتخابات کے انعقاد میں اپنابھرپورکرداراداکرسکے۔

(سابق چیئرمین،ایک سیاسی جماعت)

بشکریہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •