بھیڑ جیسا سور: یہودی سازش بے نقاب؟
ان تصاویر اور وڈیوز پر عجیب و غریب پوسٹز اور کومینٹز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ مثلا یہ کہ کچھ لوگوں نے اسے مسلمانوں کے خلاف یہودی سازش قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ یہ جانور دراصل بھیڑ اور خنزیر کا کلون ہے جسے یہودی سائینسدانوں نے مسلمانوں کو خنزیر کھلانے کی غرض سے بھیڑ کے جینز کے ساتھ کلون کرکے پیدا کیا ہے اور اسکا مقصد یہ ہے کہ بھیڑ کے دھوکے میں اسے مسلمانوں کو کھلایا جا سکے۔
سائینس کا علم رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ کلوننگ کے جدید طریقوں کے باوجود دو مختلف نسلوں کی جینز کی باہم کلوننگ تقریبا نا ممکن ہے۔۔ کیونکہ ہر نسل کے جاندار کا ڈی این اے ایک دوسرے سے بناوٹ کے لحاظ سےاسقدر مختلف ہوتا ہے کہ انھیں باہم ملا کر جین ایڈیٹنگ نہیں ہو سکتی۔ کلوننگ کے عمل کے ذریعے ایک ہی نسل کے جانداروں کی کلوننگ ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ ماضی میں ڈولی نامی بھیڑ کلوننگ کے ذریعے پیدا کی گئی تھی۔ جس کے ضروری جینز بھیڑوں سے ہی لیے گئے تھے۔
سور کی یہ نسل انیسویں صدی میں ہنگری کے سووروں کی نسلوں کی یورپی جنگلی سور اور سربیا کے سور کی نسلوں کی کراس بریڈنگ کے ذریعے پیدا کی گئی تھی۔ مینگالیکا سور کی کھال پر بھیڑ کی طرح اون ہوتی ہے۔ اس طرح کی اون اس کے علاوہ انگلینڈ کے لنکن شائر سور پر پائی جاتی تھی جو اب ایک معدوم نسل ہے۔

چلیں ایک دفعہ مان بھی لیا کہ یہ مسلمانوں کے خلاف یہودی یا عیسائی سازش ہے۔ اور انھوں نے اپنے علم کو استعمال کرتے ہوئے ہمیں خنزیر کھلانے کے لیے یہ ہائیبرڈ بھیڑ بنائی ہے۔ اور آپ کو ڈر ہے کہ خنزیر نما یہ بھیڑ کہیں پاکستان میں نہ آجائے۔
اچھا! تو جناب گزارش یہ ہے کہ کفار کی اس سازش کو برا بھلا کہنےکی بجائے ہم اپنے علم کی بدولت اسے واپس خنزیر بنا کر انکی اس سازش کو ناکام کیوں نہیں بنا دیتے یا پھر یوں کہیے کہ ہمیں ہر طرف صرف یہودی سازش ہی اس لیے نظر آتی ہے کہ ہم بطور قوم کفار کی علمی ترقی سے جیلس ہیں۔ خود تو امام غزالی کے بنائے مدرسی علمی نظام نے کفر کفر اور یہودی یہودی رٹا کر ہماری ذہنی صلاحیتیں مفلوج کردی ہیں اور کوئی انسانیت کی بھلائی کا قابل ذکر کام ہم کر نہیں کرسکتے بس جاہل عوام کو یہودی سازش کی بتی کے پیچھے لگا رکھا رکھا ہے۔


