کیا جی ڈی اے سندھ میں پیپلز پارٹی کا متبادل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ کی سیاست میں عام طور پر یہ بحث کی جاتی ہے کہ پیپلز پارٹی کا متبادل نہ ہونے کی صورت میں سندھ کی عوام پیپلز پارٹی کو ہی ووٹ دیتی ہے۔ مگر پہلے تو یہ طے ہونا چاہیے کہ کیا پیپلز پارٹی مخالف ہونا ہی متبادل ہے اور سندھ میں جو دیگر سیاسی جماعتیں موجود ہیں، وہ خود کو پیپلز پارٹی کا متبادل کیوں نہیں سمجھتی ہیں یا آج تک وہ خود کو متبادل کیوں نہیں بنا سکیں ہیں۔

سندھ میں قوم پرست سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے قسمت آزماتی رہیں ہیں مگر آج تک اقتدار ان کے حصے میں اس لیے بھی نہیں آیا کیونکہ اقتداری سیاست کا ہوم ورک وہ صرف انتخابات کے دنوں میں ہی کرتی آئی ہیں۔ جیے سندھ قومی محاذ ہو، قومی عوامی تحریک ہو یا پھر سندھ ترقی پسند پارٹی اور دیگر جماعتیں ہوں، ان کے لیے اقتدار میں آنے والی مشق اتنی بہتر نہیں رہی ہے۔

حال ہی میں سندھ میں گزشتہ انتخابات کی طرح گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ( جی ڈی اے) کو پیپلز پارٹی کا سندھ میں صفایا کرنے کے لیے میدان میں اتارا گیا ہے۔ یہ وہ اتحاد ہے جوکہ دوسری بار انتخابات کے بعد ظاہر ہوا ہے۔ جبکہ جی ڈی اے خود کو پیپلز پارٹی مخالف اتحاد کہنے کی بجائے ایک متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ مگر ایک متبادل اور مخالف اتحاد ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ متبادل ہونے کا مطلب ہے کہ وہ سیاسی جماعت سیاسی مزاج اور اپنے سیاسی پروگرام میں پیپلز پارٹی سے کافی بہتر ہو۔ ایک ایسا اتحاد جس کے بارے میں عام طور پر تاثر یہ ہو کہ یہ خلائی مخلوق کا تیار کیا گیا اتحاد ہے، وہ بغض معاویہ میں تو سندھ کے مسائل کو حل کرنے اور انہیں پیپلز پارٹی جیسی جماعت کا نجات دہندہ تو کہہ سکتا ہے مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔

جی ڈی اے میں سندھ کے چار سابقہ وزرا اعلیٰ شامل ہیں، جن میں ارباب غلام رحیم، غوث علی شاہ، ممتاز بھٹو اور مظفر علی شاہ شامل ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو کہ اپنے اقتداری ادوار میں بھی پیپلز پارٹی کے سخت ترین مخالف رہی ہیں۔ گو کہ پیپلز پارٹی میں سندھ میں مسلسل دس سالہ اقتداری دور میں دودھ کی نہریں نہیں بہائیں ہیں مگر پیپلز پارٹی کے خلاف اس سے قبل بھی آئی جے آئی، ایس ڈی اے اور دیگر اتحاد بن چکے ہیں مگر وہ سندھ کی عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ کوئی مقدس اتحاد نہیں ہے جس پر بات نہ کی جاسکے یا اس کی حمایت نہ کرنا پیپلز پارٹی کی حمایت ہو گی۔ کیونکہ ان انتخابات میں سندھ میں صرف جی ڈی اے اور پیپلز پارٹی ہی سیاسی میدان میں نہیں ہیں بلکہ تحریک انصاف سے لے کر سندھ یونائیٹڈ پارٹی بھی اپنی قسمت آزما رہی ہیں۔

تھر سے ہمیشہ 6 نشستیں حاصل کرنے والے سابقہ وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے لیے 2013 کے انتخابات ایک بہت بڑا دھچکا تھا، جب پیپلز پارٹی ان کے گھر کی 6 نشستوں میں سے پانچ اپنے نام کر گئی۔ پرویز مشرف کی آمریت میں خود کو جام صادق کا جانشین سمجھنے والے ارباب غلام رحیم کے تیور اور طرز حکمرانی سے ہر کوئی واقف ہے۔ جنہوں نے عورت کی حکمرانی کو غلط قرار دیا تھا اور اسی زمانے میں محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی وجہ سے انہیں ایک جیالے نے جوتا بھی رسید کیا تھا۔ کافی عرصے بعد وہ جی ڈی اے کے تازہ اتحاد میں ظاہر ہوئے ہیں۔ مگر آج بھی سندھ کے لوگ ان کے دور حکمرانی کو بدترین دور کے طور پر تصور کرتے ہیں۔ بارہ مئی کے واقعے کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔

حال ہی میں جس طرح جی ڈی اے میں پیر آف بھرچونڈی میاں عبدالحق عرف میاں مٹھو کی شمولیت ہوئی، اس عمل نے پیپلز پارٹی کے لیے اور بھی ہمدردیاں بڑھا دی ہیں کیونکہ کہ میاں مٹھو سندھ میں ہندو لڑکیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کروانے کی وجہ سے خاصے بدنام ہیں اور پیپلز پارٹی سے نکالے جانے کے بعد پی ٹی آئی میں بھی قسمت آزما چکے ہیں، انہیں آخرکار سیاسی پناہ جی ڈی اے میں ہی نظر آئی، لیکن یہ اب وہ دور نہیں رہا کہ ماضی اور حال کی سیاسی و سماجی غلطیاں چھپ سکیں۔ جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی کہ میاں مٹھو کو جی ڈی اے کی جانب سے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے تو سوشل میڈیا پر ایک شور برپا ہوگیا اور سندھ کے عوام کے شدید ردعمل کے باعث جی ڈی اے کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ کیونکہ عوامی سطح پر میاں مٹھو کو ایک بہتر کردار کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔

اس بار عوامی سیاست کے ایک متحرک کردار ایاز لطیف پلیجو بھی شامل ہیں۔ جوکہ گزشتہ الیکشن میں قومی عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے حیدرآباد کے تعلقہ قاسم آباد سے الیکشن لڑے تھے مگر وہ کامیاب نہ ہو پائے۔ لیکن ان کی شکست پر سندھ کے کئی حلقوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ آج وہ ایک ایسے اتحاد میں شامل ہیں جس میں نہ تو ان کی پارٹی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی رسول بخش پلیجو کی وہ دائیں بازو والی سیاست جوکہ ایاز لطیف پلیجو کی پہچان رہی ہے۔

مگر ایاز لطیف پلیجو کے لیے اس بار اسی حلقے سے الیکشن جیتنا اس لیے بھی خاصا مشکل ہے کیونکہ کہ اب ان کے پاس نہ تو عوامی تحریک جیسی پارٹی ہے اور نہ ہی رسول بخش پلیجو کا دست شفقت رہا ہے جن کے کردار کی وجہ سے لوگ انہیں ووٹ دیں یا ان کی حمایت کریں۔ ایاز لطیف پلیجو خود قومی عوامی تحریک کے صدر ہیں مگر وہ پارٹی کے اندر الیکشن کروانے اور الیکشن کمیشن میں رجسٹریشن کا عمل بھی پورا نہیں کروا سکے ہیں۔ اس حالت میں وہ اپنی تمام تر سیاست محض جی ڈی اے کے تحت کر رہے ہیں۔

جی ڈی میں شامل سیاستدانوں کے پاس نہ تو کوئی واضح منشور ہے اور نہ ہی کوئی ایسا پروگرام جسے پیپلز پارٹی سے بہتر سمجھا جائے۔ گو کہ وہ پیپلز پارٹی کے متبادل طور خود کو پیش کر رہا ہے مگر سیاسی حقائق کچھ اور ہیں۔

اگر اس اتحاد کا مقصد صرف پیپلز پارٹی کو سندھ سطح پر اقتدار سے باہر دھکیلنا ہے پھر تو یہ سندھ کے ان مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہوگا جن کی شکایات لوگ گزشتہ دس برس سے کرتے آئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حالیہ ٹکٹ تقسیم میں حالت ایسی ہوئی ہے کہ پیپلز پارٹی کے اپنے امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، جنہیں جی ڈی اے اپنی بانہیں کھول کر خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ مگر ان میں کئی ایسے ہیں جو کہ اب بھی جی ڈی اے کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جی ڈی اے سے زیادہ ان کی اپنی حیثیت کافی بہتر ہے۔

ملکی سیاست میں جز وقتی اتحاد بننا ہماری سیاست کی روایت رہی ہے مگر اہم سوال پھر بھی یہی ہے کہ یہ اتحاد راتو رات کیسے تیار ہو جاتے ہیں اور جب انتخابات سر پر ہوتے ہیں تو ان کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسے اتحاد کے روح رواں ان سب لوگوں کو اپنے ہاں شامل کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جنہیں لوگ یا پہلے ہی رد کر چکے ہیں یا پھر ان کے بارے میں نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کئی دہائیوں سے ملک پر اور خاص طور سندھ میں حکمرانی کرتی رہی ہے۔ اس حساب سے وہ جہاں سندھ کی بدحالی کی ذمیدار ہے وہاں پر اکا دکا اچھے کاموں کا سہرا بھی اسی کے سر جاتا ہے۔ اب حالیہ ہونے والے انتخابات میں الیکشن مہم پر آنے والے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو عام ووٹر کھری کھری سنانے لگے ہیں مگر یہ روایت پیپلز پارٹی کے لیے اس لیے بھی نئی نہیں ہے کیونکہ وہ عوام کے اس رویے کی عادی ہے اور ان کی شکایات کو چاہے حل نہ کرتی ہو مگر سننے کا حوصلہ ضرور رکھتی ہے، جبکہ جی ڈی اے کے امیدواروں کا واسطہ ابھی اس قدر لوگوں سے نہیں ہوا ہے۔ اگر جی ڈی اے اپنی سیاسی اتحاد کی کشتی میں ہر کسی کو شامل کرتا رہے گا، تو ان سے پیپلز پارٹی مخالف بھی ضرور سوال کریں گے، جس کا جواب بھی اس اتحاد کو دلائل کے ساتھ دینا پڑے گا۔ اگر آج بلاول بھٹو زرداری یہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقابلہ ضیا اور جنرل پرویز مشرف کی باقیات سے ہے تو جی ڈی کو دیکھ کر یہ بات کچھ غلط بھی نہیں لگتی۔

گو کہ سندھ میں گزشتہ دس برس میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی کوئی خاطر خواہ نہیں رہی ہے اور بہت سی شکایات لوگ آج بھی پیپلز پارٹی سے کرتے ہیں۔ مگر سندھ کے لوگوں کے لیے پیپلز پارٹی زہر کا وہ گھونٹ ہے جسے آج بھی وہ خوشی سے پیتے ہیں اور درحقیقت اس زہر کا تریاق بھی وہ پیپلز پارٹی کو ہی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ پیپلز پارٹی کے سوائے جو بھی سیاسی جماعتیں ہیں وہ اب تک خود کو اس قابل نہیں بنا پائی ہیں کہ انہیں ووٹ دے کر کسی تبدیلی کی امید کی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اختر حفیظ

اختر حفیظ سندھی زبان کے افسانہ نگار اور صحافی ہیں اور ایک سندھی روزنامے میں کام کر رہے ہیں۔

akhter-hafeez has 20 posts and counting.See all posts by akhter-hafeez