مجھ پر بھی کاری ضرب اِک اے آدم کی آل
“ اللہ سائین مینھن وسا، گوڏے جیڏی گپ کر“۔ (اللہ سائیں گھٹنوں گھٹنوں بارش برسادے )۔ پھر شاید ان بچوں کی دعا سے بارش برستی رہتی۔ دن و رات۔ حتیٰ کہ کچے صحن کیچڑ ہو جاتے۔ گلی میدان پانی سے تارو تار۔ گاؤں کے پیچھے درختوں کی چھاؤں میں موجود چھوٹا سا جوہڑ تالاب کی صورت اختیار کرلیتا۔ بہادر بچے شیشم کے درخت پر چڑھ کر اس میں چھلانگیں مارتے مزے کرتے۔ کچھ مجھ جیسے کم ہمت جوہڑ کنارے بیٹھ کر کاغذی کشتیاں پانی میں چلانے کے مقابلے کرتے۔ اور رہے جوان لڑکے تو وہ نہر کے سوا کہیں نظر نہ آتے۔
لڑکیاں بالیاں مل جل کر کسی کے گھر کٹھے ہو جاتیں اور دور کہیں کونے میں سر آپس میں جوڑے بیٹھی ہوتیں۔ پھر ایک چارپائی کھڑی کر کے اس کی اوٹ میں گڈے گڑیا کا کھیل کھیلنے لگتیں۔ ان کی کھی کھی کی آواز اس وقت بند ہو کر طوفان اٹھا لیتی جب کوئی لڑکا یا بچہ اوٹ سے جھانکنے کی کوشش کرتا۔ ہنگامہ ہی پڑ جاتا۔
باہر لوگ باگ مل بیٹھ کر کچہریاں جمانے کے شوق میں رہتے۔ بیٹھنے کے لئے درخت کام آتے۔ کیچڑ سے بچ گئی جگہ پر، نیم یا شرینھن کے نیچے اینٹ پر اینٹ رکھ کر جگہ کرلی جاتی۔ ساتھ ایک بھری بالٹی میں سندھڑی اور لنگڑا آم ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔ بڑے بوڑھے بھی اپنی اونگھ چارپائی پر چھوڑے باہر کو چل نکلتے اور بالٹی کے قریب جگہ ملنے پر چہکنے لگتے ہیں۔
ادھر گھر کے باورچی خانے میں ہنڈیا چڑھی ہوئی ہے۔ چاول گڑ کا رس پی پی کر خوب سنہرے، لمبے اور موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کو دو انگلیوں میں دباؤ تو رس ٹپکنے لگے۔ اور ماں بچے کو اپنے ہاتھ سے چاول کھلانے کی چاہ میں بلاوے بھیج رہی ہے مگر بلاوے ویسے کے ویسے خالی واپس آرہے ہیں۔
زمین بادلوں کے پناہ میں ہے۔ آگ برساتا سورج کہیں دکھائی نہیں پڑتا۔ ہوا چلتی ہے تو اندر ٹھنڈا ٹھار ہوجاتا ہے۔ ماحول گویا بچپن سا خالص اور ہلکا ہے۔ ہنسی بلاوجہ نکلی پڑتی ہے۔ جانور فرحت میں ہیں۔ شرینھن کا درخت سرمستی میں پیلے پھول پھینکے جا رہا ہے جو کسی درویش کی مانند چکر کھاتے جوہڑ کنارے آپڑتے ہیں۔ کھیت کھلیان میں کھڑی دھان کی فصل بارش سے بے پرواہ ہے۔ بجلی آنے کی کسی کو زیادہ فکر نہیں پڑتی۔ شام ہوتے لالٹین اور دیے جل اٹھتے ہیں۔ بچے سر شام اس فکر میں پڑے پڑے سو جاتے ہیں اگلی صبح کب ہوگی۔ ان کی سوچ میں رات کہیں نہیں آتی اور اب وہی ماہ ہیں مگر وہ دن نہیں۔
سورج سے زیادہ دھرتی تپی ہوئی ہے۔ بادل ہیں مگر دھول کے۔ ہوا نہیں، لو چلتی ہے۔ گرم چھت کے نیچے بیٹھنا دو بھر ہوتا ہے۔ سانس لینے باہر نکلتے ہیں مگر درخت نہیں ملتا جس کے نیچے چارپائی ڈالنا ممکن ہو۔ کہیں بھی کھیلتے کودتے بچے دیکھنے کو نہیں ملتے۔ لڑکیاں بالیاں کھل کر ہنسنے سے اجتناب رکھتی ہیں۔ گڈے اور گڑیا کی کہانی بھی باقی نہیں بچی۔ کہیں کسی جگہ کوئی کچھری کرنے والوں کی ٹولی نظر نہیں آتی۔ گلی ویران ہے اور میدان کی موت ہو چکی ہے۔ جوہڑ کی جگہ کپاس کی اسپرے شدہ فصل کھڑی ہے۔ دکھ کا پھندا گلے میں پڑنے لگتا ہے۔ درختوں کی رخصتی کے ساتھ پرندے بھی کوچ کر چکے۔ اور باقی ہم بچے ہیں جو ای سی چلنے کی آس میں بجلی آنے کے انتظار میں نیم مردہ پڑے ہوئے ہیں۔
مجید امجد یاد آتے ہیں۔
بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار
گھنے سہانے چھاؤں چھڑکتے بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے ہرے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیلی دیوار
کٹتے ہیکل جھڑتے پنجر چھٹتے برگ و بار
سہی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں اس گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل


