تیرے سب خاندان پر عاشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’امید کرتا ہوں چوہدری نثار پارٹی کا حصہ بن کر الیکشن لڑیں گے ہر چیز ممکن ہوتی ہے۔ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ یہ چیز کسی وقت بھی ہو سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے وہ پارٹی کی طرف ہی سے الیکشن لڑیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوا ہے کہ کچھ لوگ ٹکٹ حاصل نہ کر سکے لیکن انہوں نے پارٹی پلیٹ فارم ہی سے الیکشن لڑا۔ ہماری خواہش بھی ہے کہ وہ پارٹی کے پلیٹ فارم ہی سے الیکشن لڑیں۔

چودھری نثار پارٹی کے سب سے پرانے رکن ہیں۔‘‘ یہ بیان سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ہے اور پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ انہی کا ہو سکتا ہے۔ چودھری نثار ایک طرف میاں نواز شریف کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت اور زبان حال سے ان کے اعلان’’انا و لا غیری‘‘کا شکار ہوئے اور دوسری طرف دختر نیک اختر کے اس زعم کا کہ وہ نون لیگ کی سلطنت کی تنہا وارث ہیں!

کس کو معلوم نہیں کہ شہباز شریف نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ چودھری نثار کے اور نون لیگ کے درمیان ہر لحظہ بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹا جائے۔ اعلان بھی کر دیا گیا کہ نثار کے مقابلے میں پارٹی امیدوار نہیں کھڑا کرے گی پھر مبینہ طور پر لندن سے ایک وٹس ایپ آیا اور سب کچھ بدل گیا‘ امیدوار کھڑے کر دیے گئے۔ شاہد خاقان عباسی صاحب میں اتنی ہمت نہیں کہ اس معاملے میں ایک بے ضرر اور بے معنی بیان کے علاوہ کچھ کر سکیں!

وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اصل قصور وار کا نام لیں اس کی طرف اشارہ ہی کر دیں۔ شاہد خاقان عباسی میاں نواز شریف کے اندرونی سرکل(کچن کابینہ) کا حصہ کبھی نہیں رہے۔ اس کچن کابینہ میں چودھری نثار علی خان کے سوا سب ارکان وسطی پنجاب سے تھے۔ احسن اقبال‘ خواجہ سعد رفیق‘ خواجہ آصف‘ اسحاق ڈار‘ عابد شیر علی‘ خرم دستگیر ‘ رانا ثناء اللہ‘ انوشہ رحمن سب وہیں سے ہیں چودھری نثار علی خان کے حوالے سے اس کالم نگار نے برسوں پہلے لکھا تھا کہ  مگر ایک میر شکستہ پا ترے باغ تازہ میں خار تھا وہ ہمیشہ odd man outرہے۔

صاف گوئی اور بات منہ پر کرنے کی وجہ سے! انانیت کا مسئلہ چودھری نثار علی خان میں بھی میاں نواز شریف سے کم نہیں! سیاسی اتار چڑھائو پر گہری نظر رکھنے والے جانتے تھے کہ  دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا چودھری نثار علی خان اور میاں نواز شریف کا باہمی معاملہ ایک عرصہ سے کچھ اس طرح کا رہا کہ ؎ بامن آویزشِ اُو الفتِ موج است و کنار دمبدم بامن و ہر لحظہ گریزان ازمن کہ میرے اور اس کے درمیان معاملات کا جو الجھائو ہے کہ اسی طرح ہے جیسے ساحل اور موج کا تعلق ہے۔

موج ہر وقت ساحل کی طرف لپک کر آ رہی ہوتی ہے۔مگر دوسرے ہی لمحے ساحل کو چھو کر اس سے دور جا رہی ہوتی ہے۔ ایک عرصہ سے جاری اس الجھائو کے حوالے سے چودھری نثار علی خان یہ بھی کہہ سکتے ہیں ؎ کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دل زار تھا کبھو درد تھا کبھو داغ تھا کبھو زخم تھا کبھو وار تھا چودھری نثار علی خان کے سوا کوئی اور خوش قسمت ایسا نہ تھا جو نواح لاہور سے نہ ہو اور دیوان خاص میں متمکن ہو سکتا ہو۔

حنیف عباسی ہوں یا اٹک کے شیخ آفتاب احمد! کوئی بھی اس مقام تک نہ پہنچ سکا مشاہد اللہ خان بھی سلوک کی مطلوبہ منازل طے نہ کر سکے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب نے شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم کیوں مقرر کیا۔ میاں صاحب کی ذہانت ‘ مردم شناسی اور معاملہ فہمی کی داد دینا پڑتی ہے! اگرچہ وہ فائل نہیں پڑھتے۔ توجہ کے ارتکاز کے بھی قائل نہیں! مگر وہ جو کہتے ہیں کہ ع دیوانہ بکارِ خویش ہُشیار ان کے حسن انتخاب کی داد دینا پڑتی ہے ۔

شاہد خاقان عباسی صاحب نے جس کمال اطاعت کا ثبوت دیا ہے کوئی اور ہوتا تو ہرگز نہ دے سکتا! انہوں نے سانس لیتے وقت بھی رائے ونڈ کا منشا معلوم کیا۔ بارہا اعلان کیا کہ میرے وزیر اعظم میاں صاحب ہیں! حکومت ختم ہونے سے چند روز پہلے کابینہ میں مضحکہ خیز توسیع سے بھی گریز نہ کیا کہ حکمِ حاکم تھا! نیب اور عدلیہ کے خلاف بھی جو ہو سکا اور جو حدود کے اندر رہ کر ممکن تھا کہتے رہے!

یہی اطاعت گزاری تھی اور غیر مشروط مکمل وفاداری کہ جس کے طفیل کچن کابینہ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے وزرائے اعظم کی فہرست میں ان کا نام شامل ہو گیا۔ مسلم لیگ کے امیدوار جو چودھری نثار علی خان کے خلاف کھڑے کیے گئے‘ بالواسطہ طور پر تحریک انصاف کے امیدوار غلام سرور خان کی ڈھارس بندھا رہے ہوں گے مسلم لیگ نون کے ووٹ منقسم ہونے سے اس حلقے میں فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا اور غلام سرور خان کے جیتنے کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو سکتے ہیں!

رہا چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنسوں کا وقفے وقفے سے ہونے والا سلسلہ تو اب ناظرین اور سامعین کے لیے اس میں کوئی چارم‘ کوئی فسوں کوئی سحر باقی نہیں رہا۔ چودھری صاحب نے ثابت کر دیا کہ وہ کھل کر مخالفت نہیں کر سکتے اور گومگو کی کیفیت میں ہیں۔ دو قدم آگے بڑھتے ہیں تو چار پیچھے ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں غالباً میاں شہبازشریف کے ساتھ ان کے جو نسبتاً گوارا تعلقات ہیں‘ وہ راستہ روک رہے ہیں اور چودھری صاحب خم ٹھونک کر کھڑا نہیں ہو رہے ویسے بھی بس نکل چکی ہے۔

اگر آغاز میں وہ اپنا گروپ بنا لیتے تو مسلم لیگ نون کے دل شکستہ اور شاکی حضرات ان کے گروپ کو غنیمت سمجھتے ہوئے ساتھ آن کھڑے ہوتے مگر ان تلوں میں تیل نہ پا کر اب وہ زعیم قادری صاحب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ بڑی پارٹیوں میں جمع تفریق ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔

زعیم قادری اور عبدالغفور صاحبان کی علیحدگی(یا بغاوت) پر مسلم لیگ نون کے جو مخالف بھنگڑے ڈال رہے ہیں اور تیرہ تالی کھیل رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ بڑی جماعتوں سے لوگ نکلتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کی آزادانہ حیثیت قابل ذکر نہیں رہتی۔ زعیم قادری اور عبدالغفور‘ چودھری نثار نہیں بن سکتے بلکہ چودھری نثار علی خان کی حیثیت بھی پارٹی سے نکلنے کے بعد اب بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔

تحریک انصاف سے جسٹس وجیہہ الدین نکلے تو پارٹی کو کوئی ڈینٹ نہیں پڑا۔ اب اگر حامد خان یا ولید اقبال داغ مفارقت دے جائیں تو تب بھی ذرا سا گھائو لگے گا جو جلد مندمل ہو جائے گا۔ ؎ دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے اس لیے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں جمہوری نہیں‘ خاندانی اور شخصی ہیں! حافظ حسین احمد کئی سال برگشتہ رہے مگر جے یو آئی کا کچھ نہیں بگڑا اس لیے کہ پارٹی کا دوسرا نام مولانا فضل الرحمن ہے‘ انہیں پارٹی کی قیادت ووٹوں سے نہیں‘ اپنے والد گرامی مرحوم سے وراثت میں ملی ہے۔

یہی حال تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کا ہے۔ نون کا حرف مسلم لیگ کا نہیں‘ نواز شریف کا ہے۔ مسلم لیگ کے حروف میں تو نون آتا ہی نہیں! شریف خاندان کا تسلط ہٹا تو یہ تسبیح دانہ دانہ بکھر جائے گی۔ تحریک انصاف کا بھی یہی حال ہے‘گروپنگ عمران خان کی قیادت کے باوجود دراڑیں ڈال رہی ہے۔ وہ مسند پر نہ ہوں تو دراڑیں شگافوں میں تبدیل ہو جائیں اور دیواریں گر پڑیں۔

یہ سب اس لیے کہ اس ملک میں سیاسی جماعتیں جمہوری بنیادوں پر کبھی کھڑی نہیں کی گئیں ان خطوط پر تربیت ہی نہیں ہوئی۔ کیا کسی رکن میں اتنی جرات ہے کہ بلاول کے مقابلے میں پارٹی کی صدارت کے لیے کھڑا ہو جائے۔ رضا ربانی ہوں یا اعتزاز احسن‘ سب بھٹو خاندان اور زرداری خاندان کی رعایا ہیں‘ شفیق الرحمن نے کیا خوب کہا ہے ؎ تیرے سب خاندان پر عاشق میرا سب خاندان ہے پیارے .

مسلم لیگ نون میں بھی خاندانی تسلط کے سامنے سر اٹھانے والا کامیاب نہیں ہو سکتا کیوں کہ پارٹی کے اندر آزادانہ با معنی انتخابات سرے سے مفقود ہیں۔ بعینہ تحریک انصاف میں عمران خان کے مقابلے میں کوئی دوسرا قائد نہیں ابھر سکتا۔

بشکریہ نائنٹی ٹو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).