شفاف الیکشن ضروری ہیں حضور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی کا ایک محاورہ اکثر سننے کو ملتاہے :انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتاہوا نظر بھی آنا چاہیے۔پاکستان میں الیکشن کاجو ہنگامہ برپا ہے وہ بہت یکطرفہ ہوگیا ۔ نون لیگ رفتہ رفتہ مقابلے سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ ریاستی اداروں اور نون لیگ کے درمیان شروع ہونے والا تصادم اور محاذ آرائی کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھ رہا ۔

الیکشن میں محض23 دن باقی ہیںلیکن نون لیگ ابھی تک بھرپور طریقے سے الیکشن مہم بھی شروع نہیں کرپائی۔ اس کی قیادت جو اکثر میچ فکس کرکے کھیلنے کی عادی ہے اس بار میدان میں اتر ہی نہیں رہی ۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ نون لیگ نے مقابلہ کیے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیئے ہیں ۔

نوازشریف اور مریم نواز پاکستان میں ہوتے تو الیکشن کی رونق دوبالا ہو جاتی ۔ شہباز شریف ابھی تک الیکشن مہم کو اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ شہباز شریف کو نوازشریف کے حامی اسٹیبلشمنٹ کا ہی ایک مہرہ تصور کرتے ہیں لہٰذا نوازشریف کے حامیوں کی طرف سے شہبازشریف کی پارٹی صدارت کو قبول تو کرلیاگیا لیکن وہ ان کے ہمرکاب نہیں۔

ان کے دل آج بھی نوازشریف کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔پارٹی میں لیڈرشپ کا ایک زبردست بحران ہے۔ نوازشریف اور مریم لندن میں بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری میں مصروف ہیں اور سیاسی موضوعات پر اظہار خیال پر بھی تیار نہیں۔ دوسری جانب عالم یہ ہے کہ لوگ نون لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے بجائے آزاد امیدوار کے طورپر معرکہ آرائی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

خبر گرم ہے کہ یہ آزاد امیدوار چودھری نثارعلی خان کی قیادت میں ایک گروپ بنائیں گے اور تحریک انصاف کے ساتھ اقتدار میں شراکت دار بن جائیں گے۔ اس طرح تحریک انصاف ایک کمزور وفاقی حکومت کے ساتھ تابع فرمان رہے گی۔وہ امور خارجہ اور دفاعی امور پر پالیسی سازی کے قابل نہیں رہے گی۔

تحریک انصاف میں الیکٹ ایبلز کا ایک ہجوم امنڈ آیاہے حتیٰ کہ پارٹی کا چہرہ شناخت کرنا مشکل ہوگیاہے۔ پارٹی میں شامل ہونے والوں کے بھی کئی گروہ ہیں۔ پیپلزپارٹی اور قاف لیگ کے سیاستدانوں کا ایک پورا قبیلہ یہاں براجمان ہے۔ نون لیگ چھوڑ کر جانے والوں کی بھی ایک کثیر تعداد پی ٹی آئی میں موجود ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق لیڈروں یا ان کے صاحبزادوں کی بھی پارٹی میں کافی شنوائی ہے۔

اس کے باوجود پارٹی کی الیکشن مہم پھیکی پھیکی سی ہے۔کو ئی گہماگہمی نظر نہیں آتی۔ عمران خان کے جلسوں میں بھی روایتی رنگ اور جوش وخروش نہیں۔رائے عامہ کا جائزہ لیں تو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ وہ پہلے ہی الیکشن جیت چکے ہیں صرف کاغذی کارروائی باقی ہے۔

پانچ برس قبل الیکشن کے معرکے میں راقم الحروف نے بھی بڑھ چڑھ کر تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔درجنوں کالم لکھے اور بے شمار جلسوں اور اجلاسوں میں شرکت کی۔ تبدیلی کے نعرے نے ہزاروں لوگوںکی طرح میرے دل کو بھی مسخر کیا تھا۔سیاستدانوں کی بھیڑ میں عمران خان نجات دہندہ نظرآتاتھا۔اب بھی خواہش ہے کہ عمران خان وزیراعظم بن جائیں۔

اپنے خوابوں کے مطابق ملک کو ڈھالنے کی کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ انہیں سرخرو کرے لیکن اس مرتبہ ان کی حمایت یا مخالفت کا من نہیں کرتا۔ ایک بیزاری اور لاتعلقی کی سی کیفیت طاری ہے۔ یہ احساس روزبروز گہرا ہوتاجارہاہے کہ پاکستان ایک نئے اور زیادہ خطرناک بحران کی جانب رواں دواں ہے۔ الیکشن کے بعد ایک بہت بڑا بحران سراٹھاسکتاہے جسے سنبھالنا مشکل ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن کی شفافیت کو چیلنج کرے گی۔جس پارلیمنٹ میںنوازشریف کا کوئی اسٹیک نہیں ہوگا وہ اسے کیونکر چلنے دیں گے؟

پیپلزپارٹی صرف سندھ کے اقتدار پر راضی نہیں ہوگی۔وہ اسلام آباد میں زرداری صاحب کے لیے صدارت یا بلاول بھٹو کے لیے نائب وزارت عظمیٰ کا تقاضہ کرے گی۔ ایک ایسی کھچڑی پکتے ہوئے نظر آرہی ہے کہ سمجھ نہیں آتا کہ نئی حکومت دوسال بھی چل پائے گی یا نہیں۔

یہ خیال ذہن پر مسلسل سوار ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء کے الیکشن میں مخالف جماعتوں کا عرصہ حیات تنگ نہ کیا ہوتا۔لاڑکانہ سے اپنے مخالف امیدوار جان محمد عباسی کو اغوا نہ کرایا ہوتا تو کیا بھٹو حکومت کا انجام مختلف ہوتا۔

بہت سارے مصنفین اور بھٹو صاحب کے قریبی رفقا نے لکھا ہے کہ 200 میں سے پی پی پی 155 نشستیں حاصل کرنے کے بجائے ایک بیس پر اکتفا کرلیتی توبھی کوئی کم کامیابی نہ تھی۔ بھٹو صاحب کی دیکھادیکھی صوبائی وزراء اعلیٰ بھی بلامقابلہ منتخب ہونے لگے۔بھٹو صاحب نے مخالفین کی امیدوں پر جھاڑو پھیر دیا لیکن رفتہ رفتہ ملک گیر سطح پر بھٹو مخالف تحریک نے جنم لیا۔

اس دھاندلی زدہ الیکشن نے بھٹو کو سولی پرلٹکانے کے لیے ضیا ء الحق کا راستہ ہموار کیا۔ مقبوضہ کشمیر کے ایک حکمران بخشی غلام محمد گزرے ہیں۔ وہ بھی اپنی مخالف سیاسی جماعتوں کو ایک نشست بھی حاصل کرنے دینے کے روادار نہ تھے۔1957ء کے الیکشن کے رزلٹ دیکھ کر بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے ان سے کہا کہ بخشی صاحب کچھ نشستیں دوسری جماعتوںکو بھی لینے دیتے۔

جنرل ضیا ء الحق اور پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں بھی بہت ووٹ پڑے یا ڈالے گئے لیکن رائے عامہ کے اجتماعی ضمیر نے کبھی اس ڈرامہ کو قبول نہیں کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن، نیب اور سپریم کورٹ تمام سیاسی جماعتوں کو پوری آزادی کے ساتھ الیکشن لڑنے دے۔ اس موقع پر کسی امیدوار کو نااہل کرنے یا پھر اس کے خلاف مقدمات کھولنے کی ضرورت نہیں۔

الیکشن کے بعد بہت وقت پڑا ہے حساب کتاب کا۔ابھی الیکشن ہونے دیئے جائیں اور یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ ریاستی اداروں نے ایک جماعت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کے امیدواروں کو راستے سے ہٹانے میں کردار ادا کیا۔ یہ وہ زمانہ نہیں جب لوگوں کو اطلاعات یا حقیقت تک رسائی حاصل کرتے کرتے عشرے بیت جاتے تھے ۔

آج بندہ ذرا سا بگڑا کیا کہ گھر کے بھیدی نے فیس بک پر لنکا ڈھادی۔ریحام خان نے تو عمران خان کی نجی زندگی کے حوالے سے ہوش ربا کتاب لکھ ڈالی۔ اس مرحلے پر تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ تمام جماعتوں کو الیکشن لڑنے کے یکساں مواقع دیئے جائیں۔یہ ان پر کوئی احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔

الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنایاجانا قومی فریضہ ہے۔ رائے عامہ کو الیکشن کے نظام پر مکمل اعتمادہونا چاہیے ۔ بہت سارے پاکستان مخالف عناصر کی کوشش ہے کہ پاکستان کا انتخابی عمل بری طرح ناکام ہوجائے۔ یہ ساری مشق محض ایک جماعت یا ایک شخص کو اقتدار تک پہنچانے کی نظرآئے تاکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو۔ انارکی ان کے مقاصد کو پورا کرتی ہے۔

اس طرح پاکستان ترقی کرپائے گااور نہ علاقائی یا عالمی سطح پر کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے کے قابل ہوگا۔

بشکریہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 170 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood