EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اور اس قسم کے کئی اور سوالات ہیں جن کی بامعنی اور مکمل تشکیل فلسفے، سائنس، مذہب کے سہ جہتی موڑ پر کھڑی ہے اور تینوں چشموں سے ایک ساتھ فیض یاب ہوئے بغیر آگے بڑھنے کے ذرائع معدوم ہیں۔ ان سوالات کو مرتب کرنے میں ہمارے ہاں صرف اقبال ہی ہے جو ہماری مدد کرتا ہے۔ ہاں جوابات کے بارے میں بس یقین سے اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ منزل پر ہمارے منتظر ہیں۔

بات ایک مغربی سند سے شروع ہوئی تھی سو مناسب ہے کہ اختتام پر بھی اقبال کے مطالعۂ نو کی ضرورت کے لئے سند مغرب ہی سے لائی جائے۔ یہ مشہور مغربی مفکر چارلس ٹیلر کا ایک مختصر اقتباس ہے جو کولمبیا یونیورسٹی میں افریقہ سے تعلق رکھنے والے فلسفی سلیمان بشیر دیان کے مطالعہ اقبال Islam and Open Society: The Fidelity and Movement in Iqbal’s Thought کے دیباچے کے طور پر شامل ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کا ایک چوٹی کا سماجی مفکر اور فلسفی اقبال کو ہمارے ہاں کے عمومی فکری رجحانات کے برعکس کس حد تک وسیع تناظر میں دیکھتا ہے۔

” ہمیں اقبال کے مطالعۂ نو کی ضرورت ہے۔ ایک وقت تک تو ہم اسے اس صدی کے آغاز سے اسلامی ‘جدیدیت پسندی’ کی دوسری شخصیتوں کے ساتھ کال کوٹھریوں میں فراموش پڑا تصور کر سکتے تھے۔ لیکن اسے واپس آ نا ہی تھا۔ یقیناً کچھ ایسے جزوقتی ‘جدیدیت پسند’ رجحانات ضرور ہوتے ہیں جو ایک سیکولر روایت کو عصری تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اپنی تخلیق لمحۂ موجود میں کرتے ہیں جہاں زیادہ دیر سانس لینا ان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔

کچھ دوسرے فکری رجحانات ایک اہم موڑ سے آغاز کرتے ہیں یعنی واپس مآخذ کی جانب رجوع کرتے ہیں تاکہ یہ دریافت کر سکیں کہ کیسے ایک نادر تاریخی سیاق و سباق میں ان کے ساتھ وفاداری برتی جا سکے۔ اقبال کی فکر اس دوسری جہت سے تعلق رکھتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ اس مخصوص صنف کا ایک طاقتور واقعاتی اظہار ہے۔ اپنے ہزار سالہ سفر میں وہ ان مفکرین اور متون کے مابین ایک مفید مکالمے کی بنیاد رکھتا ہے جو ایک دوسرے سے بہت فاصلے پر کھڑے ہیں : نطشے اور برگساں، حلاج اور رومی، یہ اور کئی دوسرے جنہیں وہ قرآنی مطالعہ ٔ نو کے تناظر میں تجزئیے کے عمل سے گزارتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اب بھی اپنے اپنے مخصوص طریقوں سے مطالعۂ اقبال کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر ہم میں سے وہ جو کل برگساں کے قاری تھے اور آج ہائیڈیگر کے مطالعے میں مصروف ہیں، ہم جو کونیاتی زماں کے مکانیات میں ڈھلے معروضی تصور سے ماورا زمانِ دوراں یا تاریخی تناظر کے فہم میں دلچسپی رکھتے ہیں، اس سارے منظر نامے کو ایک بار پھر اقبال کی پیش کردہ قرآنی ”تصور تقدیر“ کی نئی تعبیر کی روشنی میں دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم نطشے کے قارئین اقبال کے ”فوق البشر“ کے اس نئے فہم سے استفادہ کر سکتے ہیں جب وہ صوفیانہ روایت کے ‘انسانِ کامل’ کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ یہ تصورات آج کے مغرب میں عصری دلچسپی کے موضوعات ہیں۔

لیکن ہمارے کچھ مشترکہ استدلال بھی ہیں جہاں مغرب، مسلمان اور مشرق اس عظیم مفکر کے مطالعے میں شریک ہو سکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہمارا مکالمہ ایک گہرے اور باہمی عدم بھروسے کا شکار ہے۔ اس عدم بھروسے کی جزوی وجہ اپنی شناخت کے بارے میں ہماری اپنی بے یقینی ہے، جو بعض اوقات دوسروں کی نظروں کے زیرِ اثر ایک عدم تحفظ میں بدل جاتی ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو ایک مخصوص حد سے بڑھی ہوئی خوداعتمادی کی جانب لے جاتا ہے، ہمیں ایک اٹل اور ساکت (جامد) شناخت کے کھونٹے سے باندھ دیتا ہے اور ‘غیر’ کو بدی کی تجسیم تصور کرتے ہوئے اس کے شدید رد پر آمادہ کرتا ہے۔ دوسرے کی روایت میں موجود حوالوں کی مدد سے اپنی دریافت اور تعریف ناممکن ٹھہرتی ہے اور غداری بن جاتی ہے۔ لیکن ہم سب کو اپنی تعریفِ نو کی ضرورت ہے اور اس نئی ذات کی دریافت کے سفر میں ایک دوسرے سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے منجمد اور عدم تحفظ سے بھرپور تعلقات ہر ایک کے لئے تباہ کن ہیں۔

شک اور غصے کے اس ماحول میں اقبال کی آواز نہ صرف جذبات سے بھرپور بلکہ فرحت بخش ہے۔ یہ ایک ایسی روح کا نغمہ ہے جو قرآنی وحی کی گہرائی میں لنگر انداز ہے اور ٹھیک اسی وجہ سے دوسری تمام آوازوں کے لئے اپنا روزنِ سماعت کھلا رکھتے ہوئے ان میں اپنی صدا کی بازگشت دریافت کرنے میں مشغول ہے۔ یہ ایک ایسے انسان کی صدا ہے جو شناخت کی تمام ٹھوس دیواریں اپنے پیچھے چھوڑ آیا ہے اور قبیلے اور ذات پات کے تمام بتوں کو پاش پاش کر کے تمام دوسرے انسانوں سے محوِ گفتگو ہے۔ لیکن یہ ایک ناخوشگوار واقعہ ہے کہ یہ آواز ایک طرف تو اسلامی جدیدیت کی عمومی فراموشی اور دوسری طرف خود اسی ملک میں دفن کر دی گئی جس کا تصور قبل از قیام اُسی کا مرہونِ منت ہے، جس کی سیاسی، مذہبی اور فوجی اٹل پسندی اس مفکر کی فکر کا مستقل رد ہے۔ لیکن بہرحال ہم سب کو ایک بار پھر اقبال کی سننے کی ضرورت ہے، ہم سب یعنی مغرب کے شہری، مسلمان اور اُس کے آبائی ملک ہندوستان کے باسی جہاں ہندو عصبیت کا ایک ایسا قہر منڈلا رہا ہے جو اُس کے بدترین خدشات سے بھی زیادہ ہے۔

سلیمان بشیر نے اس آواز کو ایک بار پھر واضح اور مدلل انداز میں ہم تک پہنچا کر ایک عظیم احسان کیا ہے۔ اس مختصر سی کتاب نے فکرِ اقبال کو اپنی اصل میں ایک کلیت کے ساتھ پیش کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے، تاکہ ہم ایک بار پھر وہ تجزیاتی کشمکش ملاحظہ کر سکیں جو اس کی فکر سلجھانے کی کوشش کرتی ہے : انسان سے خدا، بندھن سے حرکت، فلسفے سے حقیقت کے احساس اورآفاقیت سے ارضیت تک کی کشمکش۔ ” (ترجمہ : عاصم بخشی)

Nov 8، 2017

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صفحات: 1 2 3

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 77 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

4 thoughts on “کیا ہمیں اقبال کو پھر سے پڑھنے کی ضرورت ہے؟

  • 05/05/2016 at 6:54 شام
    Permalink

    Aasem Bakhshi Sahib, Zindabad……

    Reply
    • 06/05/2016 at 8:16 صبح
      Permalink

      بہت نوازش اختر صاحب۔

  • 06/05/2016 at 11:04 شام
    Permalink

    عاصم بخشی صاحب آپ نے دلچسپ موضوع چھیڑا ہے.
    میری ادنی راۓ میں بحث اس چیز پر نہیں ہونی چاہیے کہ اقبال فلسفی ہیں یا متکلم.
    فلسفی، مذھب کو استعمال میں لاۓ یا نہ لاۓ بغیر اپنے افکار کی تشریح کر تا ہے.
    متکلم، فلسفے کو استعمال میں لاۓ یا نہ لاۓ بغیر مذہبی افکار کی تشریح کرتا ہے.
    ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اقبال مذھب کو استعمال کرتے رہے یا فلسفے کو؟ یا دونوں کو؟
    کون سی چیز اقبال کی شاعری سے قدرے سہل جدا ہو سکتی ہے؟ مذھب یا فلسفہ؟
    یا ایسا ہے کہ اقبال کی فکر فلسفے اور مذھب کے درمیان ایک کمپرومائز ہے: یعنی اقبال فلسفی بھی ہیں اور متکلم بھی.
    سو بحث اس چیز پر ہو سکتی ہے کہ اقبال زیادہ کیا ہیں: فلسفی یا متکلم؟

    Reply
  • 07/05/2016 at 8:36 شام
    Permalink

    Aasim Sahab bahut shandar mazmoon hay lakin jo kuch Khalid Jami waghaira nay Sulaiman Nadvi say mansoib kia hay wo bhe mashkook hay agar chay Nadvi Sahab k khayalat isi tarah k hain.Aap ka mazmoon sochnay ke taraf hasb e sabiq mail bhe karta hay aur kuch nunyadi sawal bhe uthata hay.Zor e qala aur ziada

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے