سر رچرڈ ایچرلے – پاکستان فضائیہ کے دوسرے سربراہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہی شوخ، کھلنڈری طبیعت پاک فضائیہ کی کمان کے دوران ، پختہ کار عمر میں ایک بھاری احساسِ ذمہ داری کے ساتھ یکجا ہو کر ایک ذمہ دارانہ حس مزاح سے بدل گئی اگرچہ انہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالتے ہی اس کا ایک واضح اظہار کر بھی دیا. اس زمانے میں فضائیہ کے سربراہ کو ائر افسر کمانڈنگ کہا جاتا تھا جبکہ آرمی کا سربراہ کمانڈر ان چیف کہلاتا تھا. اس سے فضائیہ کے سربراہ کو جونیئر ہونے کا یک گونہ احساس رہتا تھا. ایچرلے نے اس احساس کو شاید بالخصوص پسند نہ کیا اور ایک صبح جو طبیعت لہرائی، انہوں نے حکومت کو اطلاع دے دی کہ انہوں نے اپنا عہدہ کمانڈر ان چیف بنا دیا ہے. ان کی دیکھا دیکھی بحریہ کے سربراہ جے ڈبلیو جیفرڈ بھی فلیٹ افسر کمانڈنگ سے کمانڈر ان چیف ہو گئے ۔ آر پی اے ایف اسٹیشن ماڑی پور، کراچی (جو کہ اب پی اے ایف بیس مسرور  ہے) میں واقع ایچرلے  کے دفتر میں پاک فضائیہ کے افسران کو ڈانٹ ڈپٹ اور مسالہ دار زبان کے ساتھ بے ضرر انگریزی گالیوں کا ’پرساد‘ ملنا ایک ایسا معمول تھا جس سے نہ صرف فضائیہ کے افسروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی بہتر ہوتی بلکہ آفیسرز مَیسوں میں اس ڈانٹ ڈپٹ کو یاد کر کے ہمہ وقت قہقہے بھی گونجتے رہتے۔

فوجی زبان میں افسرِ بالا کی ڈانٹ کو ’رس بھری‘ اور ’راکٹ‘ (وغیرہ) کہا جاتا ہے۔ ایچرلے  کا رس بھری یا راکٹ دینے کا انداز نرالا تھا۔ ائرمارشل ظفر احمد چوہدری صاحب سے روائت ہے کہ ایچرلے کی کمان کے زمانے میں آر پی اے ایف اسٹیشن میانوالی میں ایک گروپ کیپٹن صاحب سے لینڈنگ کے دوران طیارہ رن وے پر پھسل گیا اور طیارے کا کافی نقصان ہوا۔ پاک فضائیہ تب ایک غریب سی فوج تھی اور ایسا نقصان اُٹھانے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ اب جب انکوائری ہوئی تو اس میں رپورٹ لکھنے والے افسران کیلئے ایک اُلجھن یہ تھی کہ گروپ کیپٹن (مساوی آرمی کے فُل کرنیل کے) ایک سینئر آفیسر تھے اور تب پاک فضائیہ میں گنتی کے چند گروپ کیپٹن تھے۔ انکوائری میں اُن افسر صاحب کی غلطی کی بجائے جونیئر افسروں نے رن وے پر پھسلن، نمی اور ٹائر کی خرابی کو واقعے کی وجہ قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا، اور طیارہ دوبارہ اُڑنے کے قابل بنا دیا گیا۔

جب یہ رپورٹ ایچرلے کے پاس پہنچی تو اُنہوں نے اس پر ایک دلچسپ نوٹ لکھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا:

1۔ یہ حادثہ فقط اس گروپ کیپٹن کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے اور جو لوگ سچ لکھنے سے جھجکتے ہیں، وہ مرد نہیں، زنخے ہیں!

2۔ جب بھی یہ ۔۔۔ کراچی آئے ، مجھے بتایا جائے تاکہ میں بنفسِ نفیس اس کی۔۔۔ پر ایک لات رسید کر سکوں!

(خالی جگہوں میں ایچرلے  نے اپنی ’’فلاوری لینگوئج‘‘ کے ’پھول‘ بکھیرے تھے)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ غیر قوم کا ہو کر بھی ایچرلے  کو پاک فضائیہ کے وسائل کی کمی اور ملک و قوم کی غریبی کا احساس ہمہ وقت رہتا تھا اور وہ ’جرنیل‘ ہونے کے باوجود ’با وقار غریبی‘ (آنریبل پاورٹی) کے کلچر کو پاک فضائیہ میں فروغ دیتے رہے۔ جنرل ضیا  مرحوم کے ’وی آئی پی کلچر‘ سے پہلے تک ہماری فضائیہ کے ونگ کمانڈر اور گروپ کیپٹن تک کے عہدے کے افسر سائیکل اور موٹر سائیکل پر دفتر آنا اپنے کسرِ شان نہیں سمجھتے تھے۔ خیر، یہ جملۂ معترضہ تھا!

ایک دفعہ ایچرلے کو اپنی کمان کے زمانے میں پشاور کا دورہ کرنا تھا۔ سوال یہ تھا کہ وہاں کس جگہ قیام کیا جائے؟ پشاور میں اعلیٰ درجے کے ہوٹل تب بھی ضرور موجود تھے لیکن ایچرلے نے یہ تجویز رد کردی کہ پاک فضائیہ اُن کے، ہوٹل میں رہنے کے اخراجات کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ ایچرلے  نے کمانڈر ان چیف ہونے کے باوصف پشاور میں مکین اپنے ماتحت گروپ کیپٹن اصغر خاں سے کہا کہ وہ ایک دو روز کیلئے اُنہیں اپنے پاس ٹھہرا لیں تو یہ معاملہ نپٹ سکتا ہے! اصغر خاں کو فضائیہ نے دو کمروں کا فلیٹ کرائے پر لے کر دے رکھا تھا (یا شائد ہوٹل کے کمرے تھے) لیکن خاتونِ خانہ اور بچوں کے زیرِ استعمال کمرے میں تو اٹیچ باتھ روم تھا، دوسرے کمرے کے ساتھ یہ سہولت نہ تھی، پھر بھی ایچرلے  نے اُس کمرے میں ٹھہرنے کی ہامی بھر لی۔

ایچرلے  کو جب کبھی کسی دورے پہ فضائیہ کے سفری طیارے پر مشرقی پاکستان جانا ہوتا تھا تو وہ اکثر رات کو طیارے کے کیبن میں ہی سو جاتے اور عملے کو تاکید کر دیتے کہ صبح مُنہ اندھیرے اُنہیں جاگنے کی زحمت نہ دی جائے اور خاموشی سے پرواز کر جائیں۔ عملے کے افسروں اور جوانوں کو کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے آنا ہوتا تھا اور وہ انہیں زحمت دینے کے ہرگز قائل نہ تھے۔ ایک صبح طیارے کے کیبن میں سوئے ہوئے ایچرلے کی آنکھ کھلی تو کاک پٹ میں جا کر دیکھا کہ پائلٹ، اسکواڈرن لیڈر احمد ، پائلٹ سیٹ میں بیٹھے مزے سے شیو کرنے میں لگے ہیں! ایچرلے  نے اُنہیں اپنی ’فلاوری لینگوئج‘ کا ناشتہ کروایا اور بظاہر خود بھی اس صورتحال سے لُطف اندوز ہوتے ہوئے دوبارہ کیبن میں آ کر سو رہے۔ افسران ایچرلے  سے ڈرتے ضرور تھے لیکن اُن سے خوفزدہ نہ تھے اور اُن کے جانثار تھے! ایچرلے  ایک کھُلے ڈُلے کمانڈر تھے۔

ایچرلے  کی زُبان کی تُرشی فقط زبان کی حد تک تھی اور وہ نہایت خیال رکھنے والے ایک مہربان باپ جیسا پیکر تھے، حالانکہ اُنہوں نے عمر بھر شادی نہیں کی تاہم فضائیہ کے طیاروں اور جوانوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا۔ انہی دنوں میں جب وہ چھٹیاں گزارنے انگلستان گئے تو اُنہوں نے وہاں ایک کار کرائے پر حاصل کی اور انگلستان کے طول و عرض میں واقع فضائیہ کے ہر اُس ادارے میں گئے جہاں رائل پاکستان ائر فورس کے افسر اور جوان زیرِ تربیت تھے۔ اُنہوں نے ہر ایک سے فرداً فرداً اُس کی تعلیمی تربیتی صورتحال کے بارے میں پوچھا اور تاکید کی کہ اپنے مُلک اور فضائیہ کی غریبی کو پیشِ نظر رکھے اور محنت کرے، مبادا کہ ملک وقوم کا سرمایہ جو اُس کی بیرون مُلک تربیت پر خرچ ہو رہا ہے، ضائع جائے۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •