سر رچرڈ ایچرلے – پاکستان فضائیہ کے دوسرے سربراہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلائٹ لیفٹیننٹ اسٹیفن ٹرونکزنسکی  ہماری فضائیہ کے پولستانی نژاد پاکستانی افسر تھے۔ ایک دفعہ کوہاٹ سے ماڑی پور (کراچی) کی پرواز کے دوران وہ نیویگیشن کی غلطی سے کراچی کے بجائے مکران کے صحراؤں کی طرف نکل گئے۔ جہاز کا پٹرول ختم ہو گیا لیکن کراچی کہیں دکھائی نہ دیا لہٰذا ریت کے ٹیلوں میں ایمرجنسی لینڈ کرنا پڑا۔ یہاں سے اسٹیفن  نے مقامی لوگوں سے ایک اونٹ لیا اور بصد خرابی کراچی آ پہنچے۔ ایچرلے  نے انہیں حُکم دیا کہ فوراً ایک تربیتی طیارے میں پرواز کر جاؤ اور صحرا میں اپنے جہاز کی درست لوکیشن پتہ کر لاؤ تاکہ اسے وہاں سے واپس لایا جا سکے۔ اسٹیفن  نے دو ایک پروازوں کے بعد جب آکر منفی رپورٹ دی کہ صحرا میں جہاز کا اتہ پتہ نہیں مل رہا تو ایچرلے  نے معمول کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ یہ فرمان سُنایا کہ پھر اُونٹ پر ہی جاؤ اور صحرا کا کونہ کونہ چھان مارو!!! یہ نُسخہ کارگر ثابت ہوا۔ اسٹیفن  نے منت سماجت کر کے آخری دفعہ طیارے پر جا کر تلاش کرنے کی اجازت لے لی اور اپنے جہاز کو تلاش کر کے ہی واپس لوٹے۔

ائر ہیڈ کوارٹرز ماڑی پور، ایچرلے  کے ہوتے ہوئے ایسے دلچسپ واقعات کا مسکن بنا رہتا تھا۔ فضائیہ کا سربراہ ہو کر بھی ایچرلے کا ذوقِ پرواز ٹھنڈا نہ پڑا۔ وہ اکثر پرواز کرتے رہتے تھے۔ ایک ’فیوری‘ لڑاکا طیارہ ہمہ وقت اُن کے لئے تیار رہتا تھا۔ ایک صبح وہ جہاز میں سوار ہوئے اور چھے کارتوسوں سے بھرا ایک مخصوص پستول اُس کے انجن میں لگا کر فائر کیا جس کا مقصد انجن کو ’’اگنیشن‘‘ دینا ہوتا تھا۔ جب ایچرلے  یکے بعد دیگرے پانچ کارتوس فائر کر چکے اور انجن اسٹارٹ نہ ہوا تو نیچے اُتر کر اپنی ’تابکار‘ زبان کا رُوئے سُخن وہاں موجود تمام افسروں، جوانوں کی طرف کیا اور ایک سارجنٹ (حوالدار) کو حُکم دیا کہ وہ انجن کی خرابی کی جانچ کرے۔ سارجنٹ نے باقی ماندہ ایک ہی کارتوس انجن میں چلایا اور انجن اسٹارٹ ہو گیا تو اُس نے فاتحانہ ایچرلے  کی طرف دیکھا جس پر اُنہیں تاؤ آگیا، تُنک کر بولے:

“If you can start that damn aircraft, you go ahead and fly it too! I am going to my office!”

یہ بھی ہرگز نہیں کہ ایچرلے  اپنے ماتحتوں کے مرتبوں سے غافل ہوتے تھے۔ فوج کے کلچر میں کمانڈر ان چیف کی شخصیت جس پدری شفقت اور درشتی، سختی کا پیکر ہوا کرتی ہے، ایچرلے  اُس کی ایک متوازن مثال تھے۔

نوابزادہ لیاقت علی خان صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے زمانے میں ایک قومی دن کے موقعے پر کمانڈر ان چیف کے گھر پر شام کے کھانے کا اہتمام تھا جس میں پاک فضائیہ کے سینئیر افسران اور اُس دن کے فلائی پاسٹ میں حصہ لینے والئ پائلٹ بھی مدعو تھے۔ جب کھانے کے بعد وزیرِ اعظم رُخصت ہوئے تو ایچرلے  نے حسبِ دستور اعلان کیا:

“This is when the lords and ladies leave!”

خواتین و حضرات جانے لگے۔ کچھ دیر بعد ایچرلے  نے دیکھا کہ فضائیہ کے افسران بدستور کھڑے گپیں ہانک رہے تھے، ایچرلے نے اُن میں سینئیر ترین، گروپ کیپٹن اصغر خان کو گھُور کر دیکھا اور فرمایا:

“Get lost!! Didn’t you hear me to tell you it’s time to leave?”

اس واقعے کے چند سال بعد جب اصغر خان ائر مارشل بن کر پاک فضائیہ کے کمانڈر ان چیف بنے تو اُنہیں برطانیہ کے دورے کا اتفاق ہوا۔ برطانوی فضائیہ کی فلائینگ ٹریننگ کمانڈ کے دورے کے لئےوہ جونہی وہاں پہنچے، وہاں کے کمان افسر نے آگے بڑ ھ کر اصغر خان کی کار کا دروازہ کھولا اور چھَن سے اپنی تلوار نکال کر انہیں ایک چست سا سلیوٹ کیا:

’’جنابِ والا! فلائینگ ٹریننگ کمانڈ، برائے معائنہ تیار!!‘‘

ایڑھیاں جوڑے، سامنے مؤدب کھڑا یہ افسر، ائر مارشل ایچرلے تھا!

برطانوی فضائیہ میں لَوٹنے کے بعد اُنہوں نے اس کمان کے علاوہ ایک گروپ کمان کیا، پھر کچھ عرصہ واشنگٹن میں ایک اسٹاف ڈیوٹی پر تعینات رہے اور بالآخر 1959 میں بطور ائر مارشل ، فضائیہ سے ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک طیارہ ساز کمپنی کے سیلز ڈائریکٹر بنے۔

1970 کی ایک شام وہ لندن میں پاک فضائیہ کے ائر اتاشی، گروپ کیپٹن اسلم   کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر اندر آ دھمکے۔ گروپ کیپٹن نے اُٹھ کر استقبال کیا اور کہا آپ نے سیڑھیاں چڑھنے کی زحمت کیوں کی، مجھے حُکم دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا ! ایچرلے  کا جواب یہ تھا کہ وہ پاک فضائیہ کے نہایت عمدہ افسروں اور جوانوں کو آخری سلام کہنے آئے ہیں جن کے گروپ کیپٹن اسلم  نمائندے ہیں۔ یہ کہہ ایچرلے  نے تن کر ایک چُست سلیوٹ کیا اور چند لمحوں کے بعد واپس چلے گئے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ایچرلے  نے 18 اپریل 1970 کو آلڈرشاٹ میں 66 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی آخری رسومات میں پاک فضائیہ سے وابستگان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایچرلے  نے پاک فضائیہ میں اپنی یادوں کی صورت میں جو میراث چھوڑی، وہ ایک مدت تک پیشہ ورانہ دیانت داری، اپنے پیشے سے بحدِ استواری وفادار رہنے اور مخلصانہ بنیادوں پر ماتحتوں اور افسرانِ بالا سے تعلق قائم رکھنے کے کلچر کے طور پر تابندہ رہی۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •