تین سروے کے نتائج آگئے! پاکستان کس کو ووٹ دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی نہیں آئی، مرکز میں ووٹ پی ٹی آئی اور ن لیگ میں تقسیم

رائے عامہ کا جائزہ لینے والے تین اہم اداروں گیلپ پاکستان Gallup Pakistan(ملک گیر)، پلس کنسلٹنٹ Pulse Consultant (ملک گیر) اور آئی پی او آر (صرف پنجاب) کے سرویز کے مطابق مسلم لیگ (ن) اب بھی پنجاب کی سب سے مقبول جماعت ہے تاہم پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان ووٹوں کے فرق میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی جب کہ سندھ میں پیپلز پارٹی مقبول ترین جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ بلوچستان میں تین جماعتوں میں ووٹ منقسم نظر آتا ہے۔ گیلپ کے قومی سروے میں ن لیگ آگے جب کہ پلس کے سروے میں پی ٹی آئی آگے ہیں۔ انتخابات میں تاحال ووٹ کا فیصلہ نہ کر سکنے والوں کا کردار کلیدی ہوگا۔

قومی سطح پر کیے گئے رائے عامہ سرویز میں دیکھا گیا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں ووٹرز کی ترجیحات میں تبدیلی نہیں آئی اور ووٹرز اس بار بھی ان ہی جماعتوں کو ووٹ دیں گے جنہیں 2013 کے انتخابات میں ووٹ دیا تھا۔

بلوچستان میں پچھلے انتخابات اور موجودہ رحجان کے حوالے سے مختلف نتائج سامنے آئے۔

گیلپ پول کے مطابق مسلم لیگ نواز سب سے آگے ہے تاہم اس کی مقبولیت میں کچھ کمی ہوئی ہے۔

دوسری جانب پلس (Pulse) کے سروے کے مطابق ملک بھر میں اب ووٹرز کی زیادہ تعداد پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دینے کو ترجیح دے رہی ہے۔

سرویز میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جن ووٹرز نے اب تک ووٹ دینے کے حوالے سے فیصلہ نہیں کیا، ان کی تعداد کافی زیادہ ہے اور سیاسی جماعتیں انہیں اپنی جانب مائل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گی۔

گیلپ کے پول میں کسی بھی جماعت کے حق میں ووٹ ڈالنے کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار گروپ کا تناسب 20 فیصد تھا، 26 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو جبکہ 25 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔

پلس پول میں ابھی تک فیصلہ نہ کر سکنے والے ووٹرز کا تناسب 9 فیصد تھا جبکہ 30 فیصد نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو، 27 فیصد نے ن لیگ کو جبکہ 17 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

ان پولز کے نتائج نومبر 2017 میں ہونے والے سرویز سے مختلف ہیں کیوں کہ اس کے بعد ملک میں کئی اہم سیاسی سرگرمیاں رونما ہوئیں۔ جنوری میں بلوچستان میں حکومت تبدیل ہوئی جبکہ معزز سپریم کورٹ کے سابق وزیراعظم نواز شریف سے متعلق تفصیلی فیصلے کی روشنی میں مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ن لیگ حصہ نہیں لے پائی۔

مئی کے آغاز پر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگی سیاست دانوں نے پارٹی چھوڑ دی اور تحریک انصاف میں شامل ہوگئے۔ اسی ماہ نواز شریف نے ایک انٹرویو دیا جسے کئی افراد نے متنازع قرار دیا۔

گیلپ سروے کے مطابق قومی سطح پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان مقبولیت کا فرق کم ہوگیا ہے جبکہ پلس کے سروے میں پی ٹی آئی کو مقبولیت میں ن لیگ سے آگے بتایا گیا۔

گیلپ کے سروے میں ن لیگ کو ابھی بھی ملک کی سب سے مقبول جماعت بتایا گیا تاہم اس کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 8 فیصد کمی دیکھی گئی۔ 26 فیصد متوقع ووٹرز کا کہنا تھا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے جبکہ 25 فیصد نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، 2017 کے مقابلے میں یہ ایک فیصد کمی ہے جبکہ 16 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

پلس کے سروے میں پی ٹی آئی، ن لیگ پر سبقت لے جاچکی ہے۔ سروے کے مطابق پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ یہ اب 30 فیصد ہوگئی ہے جو کہ 2017 میں 23 فیصد تھی۔ پلس کے سروے کے مطابق 2017 میں ن لیگ سب سے مقبول ترین جماعت تھی تاہم اس کی مقبولیت میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ اب 27 فیصد پر آگئی ہے۔

آبادی کے لحاظ سے اور قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں رکھنے والے صوبے پنجاب میں ووٹرز ن لیگ کو ووٹ دینے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف نے اپنے سیاسی حریفوں اور اپنے درمیان فاصلہ کم کردیا ہے۔

گیلپ کے سروے میں صوبہ پنجاب کے 40 فیصد متوقع ووٹرز نے کہا کہ وہ انتخابات 2018 میں ن لیگ کو ووٹ دیں گے تاہم 2017 کے مقابلے میں یہ تناسب 10 فیصد کم ہے۔ 2017 میں 31 فیصد جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے تاہم یہ تناسب 2018 میں 26 فیصد رہ گیا ہے۔ ایک فیصد اضافے کے ساتھ پی پی پی کے ووٹرز کا تناسب 6 فیصد ہوگیا۔

پلس (Pulse) کے سروے میں انکشاف کیا گیا کہ ن لیگ ابھی بھی صوبے کی سب سے مقبول جماعت ضرور ہے تاہم اس کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 12 فیصد کی بہت بڑی کمی آئی ہے۔ 2018 کے پولز میں 43 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے تاہم 2017 کے سروے میں یہ تناسب 55 فیصد تھا۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 14 فیصد اضافہ ہوا اور پنجاب کے 34 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ 2018 میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے جبکہ یہ تناسب 2017 میں 20 فیصد تھا۔ پلس کے سروے میں پی پی پی کی مقبولیت میں مزید کمی واقع ہوئی، صرف 5 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے جبکہ 2017 میں یہ تناسب 7 فیصد تھا۔

ایک تیسرا پول جس کا انعقاد پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) نے کیا، میں پنجاب کی تمام یعنی 141 قومی اسمبلی کی نشستوں پر فوکس کیا گیا۔ اس سروے کا انعقاد 15 اپریل سے 2 جون 2018 کے درمیان ہوا۔ سروے کے مطابق 51 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو، 30 فیصد نے پی ٹی آئی کو جبکہ 5 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

گیلپ کے سروے کے مطابق 2018 میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جہاں 57 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں 2017 کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔ سروے میں 9 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے، 2017 میں ان کی تعداد 10 فیصد تھی۔ 6 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ جمیعت علمائے اسلام اور اے این پی کو ووٹ دیں گے۔

پلس (Pulse) کے سروے میں بھی خیبر پختونخوا کے حوالے سے ملتے جلتے نتائج حاصل ہوئے۔ 57 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے، 2017 میں یہ تناسب 53 فیصد تھا۔ 10 فیصد نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے، یہ تناسب 2017 کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔ صوبے میں پی پی پی کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ 9 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔

سندھ میں اس بار پی پی پی سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ گیلپ کے مطابق 2018 اور 2017 کے نتائج میں صوبے کے ووٹرز کی ترجیحات ایک جیسی رہیں۔ 44 فیصد نے کہا کہ وہ ابھی بھی پی پی پی ہی کو ووٹ دیں گے جبکہ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی، 9 فیصد نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے جبکہ 7 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے۔

پلس (Pulse) کے سروے میں بھی پی پی پی ووٹرز کی پسندیدہ جماعت رہی۔ سروے میں 45 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور 11 فیصد نے کہا کہ وہ تحریک انصاف کو ووٹ دیں گے۔ ن لیگ کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور 4 فیصد نے کہا کہ وہ ن لیگ کو ووٹ دیں گے۔

بلوچستان میں ووٹرز کی ترجیحات میں کچھ تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ پلس (Pulse) اور گیلپ دونوں کے سرویز میں ن لیگ ٹاپ تھری جماعتوں کی فہرست سے باہر نکل گئی۔ اس کی اہم وجہ جنوری میں بلوچستان حکومت کا تحلیل ہونا تھا۔

گیلپ کے سروے میں 23 فیصد ووٹرز نے کہا کہ وہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کو ووٹ دیں گے۔ 2017 کے رائے عامہ پول کے مقابلے میں صوبے میں پارٹی کی مقبولیت میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پی پی پی کی مقبولیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا، 20 فیصد نے کہا کہ وہ پی پی پی کو ووٹ دیں گے۔ اس سے قبل یہ تناسب 7 فیصد تھا۔ صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی اور یہ 5 فیصد پر رہی۔

پلس کے سروے میں بلوچستان میں پی پی پی سب سے مقبول جماعت کے طور پر سامنے آئی جس کو 36 فیصد جواب دہندگان نے ووٹ دینے کی حامی بھری۔ صوبے میں پی پی پی کی مقبولیت میں 31 فیصد اضافہ ہوا۔12 فیصد کے مطابق وہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیں گے، یہ تناسب 2017 میں 21 فیصد تھا۔ جمیعت علمائے اسلام کی مقبولیت میں بھی 2017 کے مقابلے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔

ادارتی نوٹ (جیو نیوز)

سرویز اور پولز ہمیشہ بالکل درست نہیں ہوتے تاہم ان سے ملک میں جاری رجحانات کے حوالے سے مفید معلومات مل جاتی ہیں۔ جیسے جیسے الیکشن کا دن آتا ہے ویسے ویسے مختلف واقعات کی وجہ سے سرویز اور پولز کے نتائج تبدیل ہوجاتے ہیں۔

آئی پی او آر کے سروے کو مختلف جماعتوں بشمول مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف نے کمیشن کیا۔ اسے جنگ، جیو اور دی نیوز نے کمیشن نہیں کیا۔ گیلپ اور پلس کے سروے کو جنگ گروپ ایڈیٹوریل بورڈ نے کمیشن کیا۔

بشکریہ جیو نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •