محمد کاظم …. علم کی بات، کل کی بات، ہوئی
ہمارے ہاں کے کئی صاحبان علم کے صاحب تصنیف ہونے میں ان کی تکمیلیت پسندی حائل رہی ہے۔ بہت سوں نے اگر رسالوں میں کچھ چھپوا لیا تو کتابی صورت میں لانے سے پہلے ان میں اضافے ہی کرتے چلے گئے اورتسلی پھر بھی نہ ہوئی۔ اس قبیل کے لوگوں میں ہری پورہزارہ میں مقیم محمد ارشاد بھی شامل ہیں، جن کی علمیت کا اندازہ ”فنون“ میں ان کے مضامین سے اہل علم کو بخوبی ہوگیا تھا۔ وہ اگرکتاب کے مصنف بنے ہیں تو اس کا سارے کا سارا کریڈٹ محمد کاظم کے سر ہے، جنھوں نے محمد ارشاد کو رباعی سے متعلق کتاب چھپوانے کی تحریک دی، مسودہ پڑھا، اسے پسند کیا، اورپھر چھاپنے کے لیے پبلشر پر زور دیا۔ محمدارشاد نے پیش لفظ کے آخری پیراگراف میں اپنی کتاب کی اشاعت میں کاظم صاحب کے کردار کا فراخدلانہ اعتراف کیا ہے۔
کاظم صاحب نے زندگی بھرجو بھی کام کیا وہ قدر اول کے زمرے میں آتا ہے۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی چھ کتابوں کو انھوں نے اردو سے عربی میں ترجمہ کیا، جن کو عرب دنیا میں بھی پذیرائی ملی۔ سید سلیمان ندوی، مسعود عالم ندوی، مولانا مودودی، ابو الخیر مودودی اور خورشید رضوی جیسے عالموں نے عربی میں ان کی دستگاہ کو مانا۔ ان کے اردو مضامین کی داد اس زبان کے جید ادیبوں نے دی۔ ”مغربی جرمنی میں ایک برس“ کو اردو کے بہترین سفرناموں میں شمارکیا جا سکتا ہے۔
تبصرے لکھے تو انگریزی کے دو ممتاز تبصرہ نگاروں محمد سلیم الرحمن اور خالد احمد نے تحسین کی۔ ترجمے کا کام انھوں نے تین زبانوں میں انجام دیا۔ عربی سے اردو، اردو سے عربی اور انگریزی سے اردو، ان تینوں طرح کے ترجموں میں اس فن کے ماہرین سے داد وصول کی۔ اردو مضامین کا باقاعدہ آغاز ”فنون“ میں الف لیلہ پرمضمون سے کیا۔ ابوالخیرمودودی نے اس مضمون کو پڑھ کر کاظم صاحب سے کہا ”آپ نے یہ مضمون بڑی محنت سے لکھا ہے۔
“ کاظم صاحب کے بقول ”بعد میں ہم نے جانا کہ ان کا اتنا کہہ دینا ہی ان کی بھرپورتحسین کا انداز تھا۔ “ اس مضمون کی اشاعت سے قبل قاسمی صاحب سے پوچھا کہ کیا یہ ”فنون“ کے معیار پر پورا اترتا ہے توجواب ملا کہ یہ ”فنون“ کے معیار سے کچھ اونچا ہی ہے۔ عربی کے عالم خورشید رضوی کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگیا کہ مضمون میں ادیب محقق پرغالب ہے یا محقق ادیب پر۔ ”مضامین۔ عربی ادب میں مطالعے“ کا انتساب ابو الخیر مودودی کے نام ہے۔
کاظم صاحب کتاب پیش کرنے گئے تو وہ صاحب فراش تھے۔ پہلے صفحے پر اپنا نام دیکھ کر کاظم صاحب سے کہنے لگے ”آپ نے مجھے بھی مولانا بنا دیا۔ اس پرکاظم صاحب نے جواب دیا“ میں نے کئی بارسوچا کہ آپ کے نام کے ساتھ مولانا لکھوں یا نہ لکھوں پھرمجھے خیال آیاکہ یہ لقب کہیں تو صحیح استعمال ہونا چاہیے۔ ”کاظم صاحب کی مولانا مودودی سے قربت رہی لیکن بعد میں دوری ہوگئی مگر ان کے بڑے بھائی ابوالخیرمودودی سے ان کی وفات تک مراسم رہے۔ کاظم صاحب کو اپنی کتابوں میں“ عربی ادب میں مطالعے ”سب سے بڑھ کر پسند تھی۔ کچھ باتیں اب اس کتاب کے بارے میں بحوالہ ڈاکٹرخورشید رضوی، جنھوں نے“ فنون ”میں اس کتاب پر نہایت عمدہ مضمون لکھا تھا جس سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں تاکہ کتاب کی اہمیت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوسکے۔
”عربی ادب کے منتشر موضوعات پراس نوعیت کی کتاب اردوتوخیرعربی میں بھی کم کم ملے گی۔ ایسا آدمی ان کے ہاں بھی عام نہیں جو امراؤالقیس اورمحمود درویش دونوں پر یکساں اعتماد، سہولت اوربصیرت کے ساتھ لکھے۔ جدید سے رغبت رکھنے والوں کو عموماً قدیم سے کچھ سروکارنہیں اورقدیم کے چاہنے والے جدید کو مہمل جانتے ہیں۔ ہاں طہ حسین کی بعض کتابوں خصوصاً فصول فی الادب والنقد اور حدیث الاربعا سے مجھے اس کتاب کی گہری مماثلت کا احساس ہوا۔ کیونکہ یہاں بھی نقطہ نظر کا وہی اچھوتا پن، اسلوب کی وہی سلاست، استدلال کی وہی براقی ودل نشینی، نظرکی وہی وسعت اورموضوعات کا وہی تنوع دکھائی دیا جو طہ حسین کا خاصہ ہے۔ “
اس تبصرے سے کاظم صاحب بہت خوش ہوئے، جس کا اندازہ ان کے اس خط سے ہوتا ہے، جوتبصرے کی اشاعت کے بعد خورشید رضوی کو انھوں نے لکھا ”فنون کے تازہ شمارے میں اپنی کتاب“ مضامین ”پر آپ کا مقالہ پڑھا اور بے حد شرمندہ اور embarrassed ہوا۔ آپ نے اس کتاب کے مندرجات کو جس توجہ اورعنایت سے پڑھا ہے، اور پھر ان میں سے جو لطیف اور باریک نکتے برآمد کیے ہیں، وہ دلیل ہے، اس محبت کی جو آپ کو نہ صرف عربی زبان وادب سے ہے، بلکہ اس ناچیزسے بھی ہے۔
آپ کا یہ مضمون پڑھ کرمجھے یوں لگا جیسے مجھے اس سے زیادہ داد ملی ہے جس کا میں مستحق تھا۔ “ دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیل جبران کو بطور ادیب خورشید رضوی زیادہ گردانتے ہیں اور نہ ہی کاظم صاحب ان کو اہمیت دیتے۔ خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ خلیل جبران کوشش کے باوجود ان سے تو پڑھا نہیں گیا۔ جبران کے تخلیق کردہ ادب کے بارے میں اس کے ایک دوست نے ایک بار رائے دی تھی کہ اس میں ایک بدمزہ اوررقت آمیز جذباتیت کے اور کچھ نہیں۔ یہ حوالہ کاظم صاحب نے اپنے مضمون میں نقل کیا اور اس کے بعدان الفاظ پرصاد کرکے بات ختم کردی۔
کاظم صاحب کو مطالعے اور پھر اس میں اوروں کو شریک کرنے کا بہت خیال رہتا جس کی ایک صورت تبصرے بھی ہیں مگر وہ ذاتی طور پر بھی دوست احباب کو اپنی پسند کی تخلیقات کے بارے میں بتاتے اوران سے کسی کتاب کی تعریف سن کر اسے پڑھنے کا اشتیاق ان کے ہاں پیدا ہو جاتا۔ معروف افسانہ نگارہاجرہ مسرورکے ایک خط سے پتا چلتا ہے کہ کاظم صاحب ہی نے سولزے نتسن کی کتاب ”کینسروارڈ“ پڑھنے کے لیے انھیں تجویز کی تھی۔ ایک بار مجھے بتایا کہ وہ اپنے ایک دیرینہ دوست سے جب بھی ملنے جائیں، ان کے لیے کتاب لے کرجاتے ہیں۔
کسی اخباررسالے یا دوست کے ذریعے نئی کتاب کا پتا چلتا تومجھے اسے لانے کے لیے کہہ دیتے اورمیں انھیں مطلوبہ کتاب فراہم کر دیا کرتا۔ وفات سے چند دن قبل بھی ان کا فون آیا اورمجھ سے خوشونت سنگھ کے ناول ”ٹرین ٹوپاکستان“ اورمحمود ہاشمی کا سفرنامہ ”کشمیراداس ہے“ کی فرمائش کی، کتابوں کوان تک پہنچانے کی سوچ میں تھا کہ اطلاع ملی کہ وہ بیمار ہوکرہسپتال پہنچ گئے ہیں۔ مسعود اشعرصاحب نے کاظم صاحب تک باریابی کو ممکن بنایا اور پھر ان سے آخری ملاقات ڈاکٹرز ہسپتال میں انہی کے ہم راہ ہوئی، جس کے چند روزبعد وہ انتقال کر گئے۔
ہسپتال داخل ہونے سے قبل ان سے آخری ملاقات ریڈنگز پر ہوئی۔ ریڈنگز پر ایک دن کسی صاحب کو کاظم صاحب کی علمی کام کی بے حد تعریف اوریہ کہتے سنا کہ کاش! کاظم صاحب سے ملاقات ہو جائے۔ اس روزجب کاظم صاحب گھرکے لیے رخصت ہورہے تھے، وہ صاحب اتفاق سے ادھرموجود تھے، میں نے سوچا کہ چلو موصوف ان سے مل لیں، تھوڑی دیرمیں احساس ہوا کہ ہماری نیکی بیچارے کاظم صاحب کے گلے پڑ گئی ہے۔ ان صاحب کو بولنے کا ہیضہ تھا، بس بولتے چلے گئے، کاظم صاحب بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، اور وہ چپ ہونے میں نہیں آ رہے، میں الگ شرمندہ، ایسے میں مجھے ایک ترکیب سوجھی، میں چپکے سے کاظم صاحب کے عزیز ہارون کے پاس گیا، جوان کی گاڑی ڈرائیو کر کے لائے تھے، ان کو صورتحال سے آگاہ کیا، اور کہا کہ وہ جا کرکاظم صاحب سے کہیں کہ دیر ہو رہی ہے اب چلیں۔
یہ تدبیرکارگر رہی، اورمذکورہ باتونی سے ان کی جان چھوٹی۔ یہ تو ایک صاحب سے کاظم صاحب کو ملوانے کے تلخ تجربے سے متعلق ایک بات ہے لیکن اب خوش گوار یاد کا بھی ذکرکر دوں۔ کراچی سے معروف شاعر اور مترجم سید کاشف رضا آئے تو کاظم صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہرکی، میں انھیں موٹرسائیکل پر ان کے ہاں ملوانے لے گیا تو وہ ان سے مل کر بے حد خوش ہوئے اورمہمان کواپنی دستخط شدہ تازہ کتاب ”یادیں اور باتیں“ بڑی محبت سے پیش کی۔
8 اپریل 2014 ء کو کاظم صاحب کے دنیا سے گزرجانے کے بعد امجد اسلام امجد نے اپنے کالم میں لکھا کہ ’کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ پڑھے لکھے لوگوں میں سے بھی دس میں سے نوکو یہ بتانا پڑتا ہے کہ سید محمد کاظم کون تھے اوران کا کام اور علمی درجہ کیا ہے؟ ‘ محمد کاظم کو علی عباس جلال پوری کی وفات کا تین ہفتے بعد پتا چلا تو انھوں نے دکھ سے لکھا ”سنا ہے کسی اردو اخبارمیں ان کے انتقال کی مختصرسی خبرچھپی تھی لیکن جو انگریزی اخبارمیرے ہاں آتا ہے، اس کے لائق مدیروں کے نزدیک یہ کوئی قابل ذکرخبرنہیں تھی کہ فلسفہ وفکرکے اتنے بڑے استاد اورمصنف اس جہان سے گزر گئے۔ “ افسوس کی بات یہ ہے کہ کاظم صاحب کے ساتھ بھی ہمارے اخبارات نے علی عباس جلالپوری جیسا سلوک روا رکھا۔
May 7, 2016


کاظم صاحب جیسے نادرہ روزگار ادیب پر اتنا عمدہ مضمون لکھنے پر آپ واقعتاً مبارک باد کے مستحق ہیں۔ سلامت رہیے۔
khob as hazrat
kazim sahab kamal k adeeb thay aap nay bahut acha mazmoon likha hay
A great service would be for some university to publish a set of carefully prepared bibliographies of such scholars of past and present.
Shandar . Mahmood ul hassan say yehi expectation thee. Kamal likha. Mashallah
بہت خوب۔
نہایت عمدہ
عربی زبان پڑھنے کی لگن اور شوق قابل رشک ہے