مستونگ: فرصت ملے جب کچھ آنسو، مرے سستے لہو پہ بہا لینا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرنے والوں کی تعداد وقت کی رفتار کی تیزی سے بڑھتی جارہی تھی۔ 30 لوگ جاں بحق متعدد زخمی۔

70 انسانی جانیں ضائع، زخمیوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی۔

نواز شریف کا طیارہ لاہور ائرپورٹ پہ لینڈ کرگیا۔ ساتھ میں مریم نواز شریف، اتحاد ائیر ویز کے بزنس کلاس سیٹز پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ فوٹیج پندرہ منٹ سے اسکرین پر چل رہی تھی۔

112 ہلاکتیں ، 200 سے زائد زخمی۔ کوئی فوٹیج نہیں، ہاں اب میڈیا پہ کوئی ٹکر بھی نہیں چل رہا۔ پورا میڈیا دو سزا یافتہ افراد کی کوریج میں مصروف ہے۔

سوشل میڈیا پہ مختلف پارٹیز کے نمائندگان میمز بنا بنا کے شیئر کر نے لگے، کبھی مریم نواز کی 450 پاونڈ کی سینڈل زیر بحث ہے، کہیں ایک پارٹی کے کارکن دوسری پارٹیز کے نمائندوں کو گدھا، جاہل ثابت کرنے پہ تلے ہیں۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتے عوام اس بات سے قطعی بے خبر نہیں تھے کہ بلوچستان میں خون، بارود اور آگ کی ہولی کھیلی جا رہی تھی کہ جس میں درجنوں انسانی جانیں ضائع ہوچکی تھیں۔

ایسے میں میں نے اپنی دوست کو میسیج کیا۔

“جا کے اپنے میڈیا والوں سے کہو، کہ بلوچستان میں جو مرے ہیں وہ انسان ہیں، بھیڑ بکریاں نہیں”

اس نے جواب دیا

’’کیا فرق پڑتا ہے، یقین کرو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘

ٹی وی اسکرین:

’’مریم نواز اور نواز شریف اب نیب ٹیم کے ہمراہ، دوسرے طیارے میں بھیج دیے گیے ہیں‘‘

ملٹی اسکرین پہ کم سے کم چھ تجزیہ نگار اور صحافی دو سزا یافتہ افراد کے قدم گننے میں مصروف تھے۔ اور وہاں بلوچستان کے سستی عوام کا سستا خون بہتا رہا۔

آج سے چند مہینے قبل سنسیناٹی، امریکہ کے ایک چڑیا گھر میں ایک چار سالہ بچے کو بچانے کے لئے عملے کو ایک گوریلا کو گولی ماری پڑی۔ مجھے یاد ہے کہ اس خبر کو امریکی میڈیا نے پورا دن چلایا تھا۔ لوگوں کے روتے ہوئے فوٹیج مجھے آج بھی یاد ہیں، ہمارے ہاں کل رات 190 سے زائد لوگ مر گئے لیکن میں ٹی وی پر ٹکر ڈھونڈتی رہی کہ شاید کسی ایک شخص جو کہ نیوز روم میں بیٹھا ہو اس کا ضمیر جاگ جائے۔

میری دوست جو کہ میڈیا میں کام کرتی ہے کہنے لگی یہ ہمارے ہاتھ میں تھوڑی ہوتا ہے۔ خبر کب، کیا ، کیوں اور کیسے چلانی ہے یہ تو اوپر سے ہی ہدایات آتی ہیں۔

میں نے اس سے زیادہ سوال نہیں کیے کیونکہ سوال کرتی تو اسے سچ بولنا پڑتا۔ اور وہ سچ بولتی تو شاید اس کے لیے برا ہوتا۔

آسماں سے جو فرشتے بھی اتارے جائیں۔

وہ بھی اس دور میں سچ بولیں تو مارے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سیدہ ثنا بتول کی دیگر تحریریں