مالی منفعت کے لئے بنائے گئے مدارس میں بچوں کی زندگی کی تباہی
مقامی طلبہ علاقائی مدارس سے کیوں دور بھاگ رہے ہیں ہیں؟
آج سے بیس پچیس قبل بہار جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں مدارس کی تعداد بہت کم تھی۔ مگر اب ان ریاستوں کے شہر اور گاؤں گاؤں قریہ قریہ میں مدارس قائم ہوچکا ہے ان میں چھپڑ پھونس سے لے کر فلک بوس پرشکوہ بلند و بالا عمارتوں والے مدارس بھی ہیں ان مدارس کے رسیدات، پمفلٹ اور دعوت ناموں میں سونے کا پانی چڑھا ہوا ہوتا ہے۔ بالکہ ان کے اہم مقاصد بھی پرشکوہ الفاظ سے مزین ہوا کرتا ہے۔ ان مدارس کے لوگومیں رشد و ہدایت کی مثالی درسگاہ، درس نظامی کا معیاری ادارہ، دینی و عصری علوم کا سنگم اور نہ جانے کیا کچھ لکھا ہوتا ہے بالکہ کئی مدارس کے ارباب حل و عقد سال کے365 دن بیرون ملک عرب شیوخ اور یوروپین مسٹر اینگلو محمڈن سے چندہ بٹور رہے ہوتے ہیں۔ اور جو بیرون ملک ابھی تک نہیں جاسکے ہیں وہ اندرون ملک غیر ممالک کا ویزہ لگواتے پھرتے ہیں۔
بہار کے ایک مدرسہ کے تزک و احتشام کا حال یہ ہےکہ قاعدہ بغدادی کے افتتاح کے لئے بھی مسجدی نبوی مدینہ منورہ کے استاذ حدیث بلوا لئے جاتے ہیں۔ ان علاقائی مدارس میں افتاء تک تعلیم کا نظم ہے۔ مگر ورطئہ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ مکتب میں پڑھنے والے بچے بھی نہیں ہیں۔ بالکہ تصویریں اتارنے کے لائق بھی طلبہ انہیں میسر نہیں ہے۔ کسی بڑے تقریب کے لئے دیگر مدارس سے بچے اکٹھا کیے جاتے ہیں یہ تمام باتیں اسباب و علل علاقائی مدارس کے ذمہ داران کے لئے لمحئہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنا احتساب کریں کہ مقامی طلبہ علاقائی مدارس سے کیوں دور بھاگ رہے ہیں ہیں؟
الغرض مدراس کے طلبہ کی حالت زار ارباب مدارس کے لئے لمحئہ فکریہ ہے والدین ان پر اعتماد کیوں نہیں کررہے ہیں مقامی مسلم آبادی ان مدارس سے بیزار کیوں ہیں؟ اہلیان مدارس کوخامیوں کی نشاندہی کرکے نظام تعلیم تعلیم کو چست درست کرنا ہوگا۔ تعلیم کے معیار کو بڑھانا ہوگا۔ ظاہری ٹپ ٹاپ کے بجائے تعلیم کے بہترین نتائج کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ وگرنہ وہ دن دور نہیں جب ہمیں توبہ کی بھی مہلت نہیں ملےگی۔ سارے دروازہ بند ہوچکے ہوں گے۔ عوام الناس عنقریب آپ سے مستفسر ہوں گے۔ اوروہ گھڑی آپ کے لئے باعث ذ لت و رسوائی نہ ہو اس کے لئے ایماندارانہ اور مخلصانہ پہل کرنے کی ضرورت ہے۔ مدراس کے ارباب حل و عقد کو مرجع خلائق بننا ہوگا۔
علاقائی مداراس کے تئیں عوام میں جو یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ ان مدارس میں ڈھنگ کی پڑھائی نہیں ہوتی ہے۔ اس کے سدباب کے لئے ایماندارانہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور والدین کو بھی اپنے لاڈلے کے لئے شفقت پدری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ وہ کم عمری ہی میں اپنے لخت جگر اپنے اولاد کو نظر سے دور نہ کریں۔ کہا جاتا ہے کہ بچپن میں بچوں کو اپنے والدین کی محبت شفقت اور دیکھ بھال کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ والدین اپنے آس پاس کے تعلیمی ادراوں میں بچوں کا داخلہ کروائیں اور گاہے گاہے ازخود ان کی تعلیمی پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں۔ اس سے آپ کے بچوں میں خود اعتمادی پیدا ہوگی اور یہ اس کے لئے کامیاب داعی فرض شناس اور ذمہ دار شہری بننے میں ممدو معاون ثابت ہوگا۔

