پانچواں خواب نامہ: جو انسانوں کو پڑھتا ہے درویش بن جاتا ہے
یہ رابعہ جس سے ایک درویش بات کر رہا ہے جب پیدا ہو ئی تو دونوں طرف سے خاندان کی پہلی لڑکی تھی، رابعہ کے تایا اس کا نام کسی ایسی خاتون کے نام پہ رکھنا چاہتے تھے۔ جس جیسی کوئی عورت دنیا میں نا ہو۔ اور انہوں نے اپنی اکلوتی بھتیجی کا نام ’رابعہ’ رکھ دیا۔ رابعہ کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ رابعہ بصری سے محبت بڑھتی ہی گئی۔ کہ عشق ساہو گیا۔ پھر رابعہ بصری پہ لکھی کتابوں کی تلاش کا جنون ہوا، ان کی کچھ شاعری ملی اس کا ترجمہ بھی اردو میں کیا۔ اور رابعہ بصری کا وہ اوج۔ اْف۔ کہ جب صوفی روایات کے مطابق کعبہ کو حکم ہوتا ہے کہ اس بوڑھی عورت کے استقبال کو جاؤ۔ تاریخ میں یہ پہلی بار ہو اکہ رب کے گھر نے اپنی جگہ سے سفر کیا۔ اس عظمت کا سوچ کر ہی، رابعہ نجانے کس دنیا میں چلی جاتی ہے۔ گویا اگر عورت کردار کی بلندی پہ آئے تو اس کا درجہ مرد سے بڑھ جاتا ہے۔ رابعہ کو محسوس ہوتا ہے، یہ جو مرد پوری دنیا میں عورت کی کمتری کے نعرے لگاتا ہے، اس پہ ذہنی وجسمانی ظلم کرتا ہے، یہ اس کا خوف ہے اس کے لا شعور میں رابعہ بصری کی بلندی کی یہ تصویر مو جود ہے۔
یا درویش رابعہ نے عورت کی محبت، محبت کی فطرت کو ”خلع“ سے سمجھا ہے۔ کہ جب وہ علیحدہ ہو نا چاہے تو اس سے کو ئی سوال نہیں پوچھا جاتا، اس سے تحائف واپس لے لئے جاتے ہیں۔ اور مرد کی رضا کے بنا، اس کو اس سے الگ کر دیا جاتا۔ طلاق میں ایسا نہیں ہو تا۔ سوچنے کا، وقت دینے کا، سوال وجواب جواز تک کی بات ہو تی ہے۔ گویا فطرت کہہ رہی ہے کہ عورت کے دل سے اگر مرد اْتر جائے تو وہ کسی صورت ساتھ نہیں رہ سکتی، رہنے میں خرابی ہے۔ اور اگر مرد کے دل سے عورت اْتر جائے تو وہ پھر بھی اس کے ساتھ رہ سکتا ہے۔
تخلیق کار نے دیکھئے کیسا نفس بتایا ہے۔ گویا محبت کا سمندر، چٹانوں میں بدل جاتا ہے، گویا ایک زرخیز زمین خشک سالی کا شکار ہو جاتی ہے۔
یعنی عورت کے اندرکی خشک سالی، اسے اندر باہر سے پتھر بنا دیتی ہے۔ چٹان بنا دیتی ہے جس سے ٹکرا کر سب آوازیں لوٹ آتی ہیں۔
آہ۔
رابعہ کے مشاہدہ کے مطابق یہ رویے کے بیج ہیں جس کا اس کے ساتھی کو علم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ کب اور کیسے یہ بیج بوتا رہا۔ کیو نکہ کم از کم رابعہ جس معاشرے کی باسی ہے وہاں عورت کی محبت زمین پہ کب معتبر ہو ئی ہے، وہاں عورت کی محبت کب تعبیر ہو ئی ہے۔ وہ تو صرف کھلی اور بند آنکھوں کا خواب ہے۔
اور دوسری طرف عورت نا حوا ہے، نا مریم ہے، نا آسیہ ہے، نا خدیجہ ہے، نا عائشہ ہے، اور رابعہ تو بالکل بھی نہیں ہے۔ وہ بس ”جسم“ہے۔ اور جسم نے، جیب کا فریب سیکھ کر فطرت سے کنارہ کشی کر لی ہے۔ اور سب مرد و زن محبت کی تلاش کی بے سکونی میں ہیں۔
یا درویش کا ش ہم ان دو ٹانگوں کے درمیان سے نکل کر پورے وجود والے انسان بن جائیں تو زمین پہ امن وسکون ہو جائے گا۔
یا درویش کچھ دن قبل کی بات ہے رابعہ ایک اچھے ادبی دوست کرنل نعیم سے بات ہو رہی تھی، انگریزی کے کہانی کار ہیں۔ بات ایک تصویر سے آگے بڑھی۔ تصویر تھی Fairmont Banf springs Hotel کی۔ جو calgary سے دو گھنٹے کی مسافت پہ ہے۔ اس ہوٹل کے حوالے سے تاریخ بتاتی ہے کہ کینیڈا میں اس مقام پہ آج سے سو سال قبل ایک ریلوے لائین بچھائی جا رہی تھی، ۔ مزدوروں کو منفی درجہ حرارت پہ کام کر نا پڑتا تھا۔ رہائش کی کو ئی جگہ نہیں تھی۔ لہذا”ضرورت ایجا د کی ماں“کہ انہوں نے یہ آٹھ منزلہ ہوٹل پتھروں سے تعمیر کیا۔ اور عینی شاہد کہتے ہیں اس میں ذرہ بھر بھی تبدیلی نہیں آئی۔
یا درویش دنیا اب ان پتھروں کی تعمیر سے بھی نکل کر چاند سے آگے چلی گئی، اور زمین سے نیچے کی تہوں میں جھانک رہی ہے، انسان نے اڑنے کی خواہش پوری کر لی۔ اور میرا ایمان ہے کہ ایک دن سائنس اتنی ترقی کر لے گی کہ ان دیکھے”اللہ“ کو وجودی طور پہ ثابت کر کے دیکھا دے گی۔ بس یہی قیامت ہو گی۔
لیکن کیا رابعہ جہاں کی باسی ہے وہاں کا انسان کوئی ذہنی ارتقاء کی منازل طے کرے گا؟ یا پھر آپ کے سماج کی ترقی کے ہی قصوں پہ اکتفا کرے گا؟ کیا رابعہ کے سماج میں بھی انسانیت مسکرائے گی یا وہ پیدائشی مسلم ہو نے پہ ہی بخش دی جائے گی؟
رابعہ کے ہاں صبح کا ذب کے ستارے کاکسی دوسری زمین کی اور جانے کا وقت ہو گیا ہے، یہاں ابھی دو لمحوں کے میلاپ کی سرخی، سفیدی میں بدل جائے گی۔ 40 سے زیادہ درجہ حرارت جسم کو ہی نہیں، ذہن کو بھی جلا دے گا۔ لیکن ہم شہروں قصبوں سے درخت کا ٹ کر اونچے اونچے پلازے اور چوڑی چوڑی سڑکیں بنا کر قیامت تک کی ہی نہیں، دوزخ تک کی آگ اپنے ہاتھوں سے تر قی کے نام پہ لگا کر بہت خوش ہیں۔
رابعہ اجازت چاہتی ہے کیو نکہ وہ صبح کی روشنی سے ڈرتی ہے، بے چین ہو جاتی ہے۔ ٹینس ہو جاتی ہے، اس سے آنکھ نہیں ملا سکتی۔
یا درویش فی امان اللہ

