جنرل الیکشن اور میجر جنرل الیکشن


دنیا کے بیشتر ممالک جہاں جمہوریت موجود ہے وہاں جنرل الیکشن ہوتے ہیں، عوام آزادی کے ساتھ حق رائے دہی استمال کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، جن ملکوں میں جنرل الیکشن ہوتے ہیں ان میں بیشتر مغربی ممالک ہیں جبکہ انڈونیشا، ملایشیا اور ترکی جیسے تین ممالک بھی ان میں شامل ہیں ان ملکوں نے طویل جدوجہد کے بعد میجر جنرل انتخابات سے نجات حاصل کی اور اب ان ملکوں میں جمہوریت مستحکم ہو چکی ہے عوام کو کرپشن، مذہب اور دیگر سماجی اور اخلاقی معاملات پر گمراہ کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

ان ملکوں میں ادارے بھی مضبوط ہو چکے ہیں کوئی ادارہ کسی دوسرے ادارہ کی پراکسی بننے کی کوشش کرے تو مضبوط جمہوریت انہیں عبرت کا نشان بنا دیتی ہے اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ جن ملکوں میں جنرل الیکشن ہوتے ہیں وہاں میڈیا جیسے ریاست کے اہم ستون کو اپنے مقاصد کے لئے استمال کرنا بھی ناممکن ہوتا ہے، کوئی میڈیا ہاوس جھوٹ بولے اور پارٹی بن کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں مہم جوئی کرنے کی کوشش کرے عوام کو دھوکہ دینے کے جرم میں سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض مرتبہ بھاری جرمانوں کی وجہ سے جھوٹ بولنے والا میڈیا ہاوس ہی بند ہو جاتا ہے اور صحافی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔

جن ملکوں میں میجر جنرل الیکشن ہوتے ہیں ان میں افریقی ممالک کی اکثریت ہے اور اس طرز انتخابات کی وجہ سے ان ممالک میں بے انتہا غربت انتہا پسندی، تباہی اور بربادی کے نظارے جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ ان ملکوں میں مسلح جتھے عوام پر اپنی مرضی کا نظام انصاف مسلط کرتے ہیں اور عوام اپنی جان بچانے کے لئے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں اور بڑی تعداد مین کشتیاں الٹنے سے گہرے سمندروں میں موت کے گھات اتر جاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ اپنی پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے اپنی بیٹیاں قحبہ خانوں میں بٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جن ملکوں میں میجر جنرل الیکشن ہوتے ہیں وہاں معیشت برباد ہو جاتی، میڈیا پارٹی بن جاتا ہے اور عدالتیں بہت زیادہ انصاف کرتی ہیں، طاقتور کے لئے الگ انصاف اور کمزور کے لئے الگ انصاف ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں عام طور پر فوج براہ راست حکومت سنبھال لیتی ہے۔

جب ملکی اور بین الاقوامی حالات سازگار نہ ہوں تو کسی کٹھ پتلی کو میجر جنرل الیکشن کے ذریعے اقتدار عارضی طور پر دیا جاتا ہے اور حالات ساز گار ہوتے ہی اقتدار پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور کٹھ پتلی کو فارغ کر دیا جاتا ہے، کٹھ پتلی اگر بغاوت کرے اور ’ووٹ کو عزت دو ’کا نعرہ لگانے لگے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے اور اگر کوئی قید کی زنجریں توڑنے کی کوشش کرے تو ایسے بقدر ضرورت انصاف کی مدد سے پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جاتا ہے اور کوئی عوام کو سازشیوں کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش کرے تو وہ خود کش حملے میں جان گنوا بیٹھتا ہے۔

جن ملکوں میں میجر جنرل الیکشن ہوتے ہیں ان میں دو مسلمان ملک مصر اور پاکستان بھی شامل ہے۔ یہاں کبھی جنرل جمال عبدالناصر اور فیلڈ مارشل ایوب خان نجات دہندہ بن کر مسیحا بنے تھے، کببھی جنرل ضیا الحق اور جنرل انوار السادات نے قوم کی کشتی پھنور سے نکالنے کی جدوجہد کی تھی۔ پہلے والوں کو آنے والوں نے نکال باہر کیا اور دوسرے والوں کا انجام بھی اچھا نہیں ہوا ایک فضا میں پھٹ گیا دوسرا فوجی پریڈ دیکھتے ہوئے مارا گیا، لوگ باتیں کرتے ہیں دونوں بوجھ بن گئے تھے دونوں کو اپنوں نے مارا تھا، ان دونوں ملکوں میں جنرل حسنی مبارک اور جنرل مشرف بھی نجات دہندہ بنتے ہیں اور بوجھ بننے پر ان سے بھی نجات حاصل کی جاتی ہے۔

آخری والے دونوں چونکہ اپنے اداروں کے اخر دم تک وفادار رہتے ہیں اس لئے ان کی جان بخش دی جاتی ہے اور عدالتوں سے انہیں ریلیف بھی دلا دیا جاتا ہے۔ حسنی مبارک اور جنرل مشرف میں ایک اور مماثلت بھی ہے، دونوں کی فراغت کے بعد میجر جنرل الیکشن میں عوام کے منتخب نمائندوں کا اقتدار سونپ دیا جاتا ہے مصر میں مرسی نامی اخوان المسلمون جماعت کے صدر کے خلاف اپنے پالتو سیاستدانوں، میڈیا اور ننگی عدلیہ کے ذریعے مہم چلائی جاتی ہے اور پھر حکومت کے خلاف دھرنا دیا جاتا ہے اور پھر حکومت برطرف کر دی جاتی ہے اور پھر ایک اور نجات دہندہ جنرل سسی اقتدار پر قبضہ کر لیتا ہے۔ پاکستان میں اندرونی اور بیرونی حالات کی وجہ سے ایک منتخب حکومت اپنا عرصہ اقتدار مکمل کر جاتی ہے اس میں بھی سویلین صدر کی چالاکی اور مکاری کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے جن میں فوجی سربراہ کو ملازمت میں توسیع دینا اور ڈی ایچ اے فراڈ پر آنکھیں بند کر لینا وغیرہ شامل ہیں حالانکہ اس حکومت میں بھی قادری نامی مولوی کے دھرنے تسلسل سے ہوتے تھے اور عدالتوں سے ایک وزیراعظم کو رسوا کر کے فارغ بھی کیا گیا تھا۔

میجر جنرل الیکشن میں دوسری سویلین حکومت کو بھی پالتو سیاستدانوں کی طرف سے بالکل مصر کی طرح دھرنوں، میڈیا اور آزادانہ انصاف کی طرف سے مہم جوئی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اندرونی اور بیرونی حالات کی وجہ سے براہ راست اقتدار پر قبضہ نہیں کیا جا سکا۔ ان دونوں ملکوں میں ایک اور مماثلت بھی ہے، یہاں معیشت تباہ ہو چکی ہے، مسلح جھتے عوام کے جان و مال سے اکثر کھیل جاتے ہیں اور بہت زیادہ انصاف کی وجہ سے لوگ بے بسی محسوس کرتے ہیں۔

ایک اور ملسمان ملک ترکی میں بھی میجر جنرل الیکشن کثرت سے ہوتے تھے وہاں بھی سیاستدانوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جاتا تھا، وہاں بھی معیشت تباہ ہو چکی تھی اور وہاں بھی فوجی جنرل عام طور پر دس سال تک اقتدار پر قابض رہتے تھے لیکن پھر بتدریج وہاں جمہوریت اور ادارے مستحکم ہو گئے میڈیا اور عدلیہ انصاف کرنے لگے اب ترکی دنیا کا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔

پاکستان میں اب پھر میجر جنرل الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ ایک مخصوص سیاسی جماعت کو کامیاب کرانے کے لئے میڈیا اور انصاف استعمال کیے جا رہے ہیں، ملکی معیشت برباد ہوتی جا رہی ہے اور پوری دنیا ان میجر جنرل الیکشن کا مضحکہ اڑا رہی ہے۔ اس مرتبہ پاکستان میں بھی ترکی ماڈل آتا نظر آ رہا ہے یہاں بھی جنرل الیکشن اور میجر جنرل الیکشن کے درمیان اخری معرکہ لڑا جا رہا ہے بظاہر ترکی کی طرح پالتو سیاسی جماعت کامیاب ہو جائے گی لیکن ابھی سے مزاحمت اور غم و غصہ کا جو اظہار ہو رہا ہے لگتا ہے اس لڑائی میں جمہوریت جیت جائے گی اور پھر یہاں بھی ادارے مضبوط ہو جائیں گے، یہاں بھی میڈیا کو پالتو بننے سے روک دیا جائے گا یہاں بھی معیشت مستحکم ہو جائے گی اور یہاں بھی انصاف کپڑے پہن لے گا۔

Facebook Comments HS